Wednesday, January 07, 2026
 

اسمارٹ فون کی صفائی کا نیا انداز: ایسی مٹی جو موبائل کو نیا بنا دے

 



اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کی ایک عام شکایت یہ ہے کہ کچھ ہی عرصے میں موبائل کے اندر گرد و غبار جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں آواز مدھم پڑ جاتی ہے اور چارجنگ جیسے مسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔ خاص طور پر اسپیکر، ایئر پیس اور چارجنگ پورٹ ایسے حصے ہیں جہاں مٹی پھنس جائے تو فون کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اب اس مسئلے کا ایک حیران کن مگر مؤثر حل سامنے آ چکا ہے، جو دیکھنے میں تو عام مٹی جیسا لگتا ہے مگر حقیقت میں اسمارٹ فون کی صفائی کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔ یہ دراصل ایک منفرد صفائی کی پُٹّی ہے جو موبائل فون کلینر کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور ان باریک جگہوں سے بھی گرد و غبار نکال لیتی ہے جہاں روایتی طریقے ناکام ہو جاتے ہیں۔ یہ پُٹّی ربڑ اور نرم مٹی جیسے مواد کا امتزاج ہوتی ہے، جو نہایت لچکدار اور ہلکی سی چپچپی ہوتی ہے۔ اسی خاصیت کی بدولت یہ اسمارٹ فون کے تنگ اور حساس حصوں میں آسانی سے داخل ہو جاتی ہے اور وہاں جمع گندگی کو اپنے ساتھ چپکا کر باہر نکال لیتی ہے، بغیر کسی نقصان کے۔ صفائی کی یہ پُٹّی خاص طور پر فون کے اسپیکرز، ایئر پیس اور چارجنگ پورٹ میں جمع دھول صاف کرنے کے لیے مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرفون، چارجر اور دیگر چھوٹے الیکٹرانک آلات کی صفائی میں بھی اسے مفید قرار دیا جا رہا ہے۔ جب اسے متاثرہ حصے پر ہلکے دباؤ کے ساتھ لگایا جاتا ہے تو یہ اندر موجود گرد و غبار کو جذب کر لیتی ہے، جس سے فون دوبارہ صاف اور بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ روایتی صفائی کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے۔ عموماً لوگ پن، سوئی یا ٹوتھ پک جیسی نوکیلی اشیا سے فون صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو اندرونی حصوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس کے برعکس یہ پُٹّی کسی خراش یا دباؤ کے بغیر خود ہی موبائل کی ساخت کے مطابق ڈھل جاتی ہے اور صفائی کا کام انجام دیتی ہے۔ استعمال کا طریقہ بھی نہایت آسان ہے۔ پیکٹ میں سے پُٹّی کا ایک چھوٹا سا حصہ نکال کر چند لمحے ہاتھوں میں ملا جاتا ہے تاکہ وہ نرم ہو جائے، پھر اسے اسپیکر، ایئر پیس یا چارجنگ پورٹ پر ہلکے سے دبایا جاتا ہے۔ چند سیکنڈ بعد پُٹّی کو ہٹا لیا جائے تو گندگی اس کے ساتھ باہر آ جاتی ہے، اور یوں چند ہی منٹوں میں اسمارٹ فون بغیر کسی خطرے کے صاف ہو جاتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل