Loading
جاپان کے نیوکلیئر ریگولیٹری ادارے کے ایک اہلکار سے چین میں ممکنہ طور پر ایک اسمارٹ فون گم ہو گیا ہے، جس میں حساس نوعیت کی سرکاری رابطہ معلومات موجود تھیں۔
جاپانی حکام اور مقامی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ نومبر میں پیش آیا، تاہم اس کا انکشاف حالیہ دنوں میں کیا گیا۔
نیوکلیئر ریگولیشن اتھارٹی (NRA) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گم ہونے والا فون سرکاری استعمال کے لیے دیا گیا تھا اور اسے قدرتی آفات، جیسے بڑے زلزلوں کے دوران رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
اہلکار کے مطابق فون میں نیوکلیئر ڈیٹا تک رسائی موجود نہیں تھی، تاہم اس میں ادارے کے نیوکلیئر سکیورٹی ڈویژن کے عملے کے نام اور رابطہ نمبرز محفوظ تھے۔
جاپانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فون ممکنہ طور پر شنگھائی کے ہوائی اڈے پر سیکیورٹی چیک کے دوران گم ہوا، جب اہلکار اپنے کیری آن بیگ سے سامان نکال رہا تھا۔
فون کے گم ہونے کا علم تین دن بعد ہوا، لیکن اسے تلاش نہیں کیا جا سکا۔ مزید یہ کہ فون رینج سے باہر ہونے کے باعث اسے ریموٹ طریقے سے لاک یا ڈیٹا ڈیلیٹ بھی نہیں کیا جا سکا۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین اور جاپان کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے، خاص طور پر جاپانی وزیر اعظم کے حالیہ بیان کے بعد جس میں تائیوان سے متعلق ممکنہ فوجی ردعمل کا ذکر کیا گیا تھا۔
ادھر جاپان توانائی بحران اور کاربن نیوٹرل اہداف کے تحت نیوکلیئر پاور کی بحالی پر غور کر رہا ہے۔ نیوکلیئر ریگولیشن اتھارٹی اس وقت ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (TEPCO) کی اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے، جس کے تحت دنیا کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل