Loading
جامعہ کراچی اتنظامیہ کی مخالفت کے باوجود یونیورسٹی کی اراضی پر قبضے کے بعد پیٹرول پمپ کی تعمیر جاری ہے اور چند روز میں اس کے افتتاح کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے کنیز فاطمہ سوسائٹی سے ملحق اپنی کئی ہزار گز کی اراضی کو بچانے کی قانونی کوششیں جاری ہیں تاہم اس کے باوجود میٹروول گیٹ کے نزدیک یونیورسٹی کی اراضی پر ایک نئے پیٹرول پمپ کی تعمیر اب حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ہے کیونکہ جامعہ کراچی اس اراضی کی دعویدار ہے۔
تاہم پیٹرول پمپ پر تعمیراتی اور تزئین و آرائش کا کام اس تیزی سے جاری ہے کہ امکان ہے کہ کچھ ہی روز میں اس پیٹرول پمپ کا افتتاح کردیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جامعہ کراچی نے اراضی کو بچانے کے لیے پروفیشنل لاء فرم کی خدمات لینے کا دعوی کیا تھا جبکہ ستمبر میں انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے ایک اعلامیے میں اس اراضی پر جامعہ کراچی کی ملکیت کا دعوی کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’’جامعہ کراچی کی وہ زمین جو کہ کنیز فاطمہ گیٹ کے ساتھ ہے جس پر پیٹرول پمپ کی تعمیر کی جا رہی تھی جامعہ کراچی نے اس عدالتی فیصلے کو واپس کروا کر اپنی زمین واپس حاصل کر لی ہے‘‘۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’’اس سلسلے میں انجمن اساتذہ جامعہ کراچی شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور ان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتی ہے‘‘۔
ادھر ’’ایکسپریس‘‘ نے اس معاملے پر جب جامعہ کراچی کی اسٹیٹ آفیسر نورین شارق سے رابطہ کرکے یہ جاننا چاہا کہ حکم امتناع لینے کے باوجود آخر کس طرح متعلقہ حریف نے اس زمین پر دوبارہ تعمیرات شروع کردی ہیں۔
اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے سیشن کورٹ سے حکم متناع لیا تھا پھر کیس ٹریبیونل میں چلا گیا جہاں عدالت نے یہ حکم امتناع ختم کردیا اب معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں ہے ہم نے سروے آف پاکستان سے بھی اپنی زمین کے تعین کی درخواست کی ہے لیکن اب معاملہ یونیورسٹی کے اعلی حکام کے پاس ہے‘‘۔
ادھر جامعہ کراچی کے حکام کا موقف ہے کہ ’’ہم نے کئی اداروں بشمول پی ایس او اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو اس سلسلے میں خطوط لکھے ہیں اور یونیورسٹی کی ملکیت سے انھیں آگاہ کیا ہے، متعلقہ پارٹی نے زمین سے متعلق جو دستاویز کورٹ میں پیش کی ہے ہم اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کررہے ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ مبینہ طور پر جامعہ کراچی کی زمین پر پیٹرول پمپ کی تیزی سے تعمیر جاری ہے پیٹرول کے لیے ڈسپینسرز اور مشینری کی تنصیب کا کام شروع ہوچکا ہے۔
ادھر دوسری جانب جامعہ کراچی کے شیخ زید اسلامک سینٹر کے سامنے یونیورسٹی اراضی پر کار شوروم اور ریسٹورنٹ کھلے ہوئے ہیں تاہم کسی کارروائی کے نا ہونے کی صورت میں یہ اراضی بھی جامعہ کراچی کے ہاتھ سے نکل جانے کا امکان ہے۔
ریسٹورنٹ مالکان نے یونیورسٹی پر کنکریٹ کی بیٹھک تک بنالی ہے۔ اس معاملے پر اسٹیٹ افسر کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے کچھ ہی عرصے قبل شو رومز کو اراضی خالی کرنے کے نوٹسز جاری کیے ہیں تاہم اس کے بعد مزید کارروائی ابھی باقی ہے جس کی منظوری یونیورسٹی انتظامیہ دے گی‘‘۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل