Thursday, January 15, 2026
 

سردی میں ہاتھوں کی جلد بےرونق ہوگئی ہے؟ جانیں انہیں نکھارنے کے آزمودہ طریقے

 



موسم کی شدت، مسلسل گھریلو یا دفتری کام اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اکثر خواتین کے ہاتھوں کی جلد بے جان اور کھردری ہوجاتی ہے۔ ماہرینِ کے مطابق بات چیت کے دوران چہرے کے بعد سب سے زیادہ توجہ ہاتھوں پر جاتی ہے، اسی لیے ہاتھوں کی خوبصورتی اور نرمی برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا چہرے کی نگہداشت۔ اگر ہاتھوں کی جلد اپنی قدرتی چمک کھو چکی ہے تو چند آسان گھریلو طریقوں سے اسے دوبارہ جوان اور تروتازہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیموں اور چینی کا پانی ماہرین کے مطابق لیموں اور چینی کا استعمال ہاتھوں کی مردہ جلد ہٹانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے لیے آدھے لیموں کا رس نکال کر اس میں دو کھانے کے چمچ چینی ملا لی جائے۔ اس آمیزے کو ہاتھوں پر لگانے کے بعد کچھ دیر خشک ہونے دیا جائے اور پھر صابن سے ہاتھ دھو لیے جائیں۔ اس عمل سے جلد صاف اور روشن محسوس ہوتی ہے۔ پٹرولیم جیلی، گلیسرین اور لیموں کا رس پٹرولیم جیلی، گلیسرین اور لیموں کے رس کا مرکب بھی ہاتھوں کی نرمی بحال کرنے کا مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک چمچ پٹرولیم جیلی، ایک چمچ گلیسرین اور ایک لیموں کا رس اچھی طرح ملا کر کسی شیشی میں محفوظ کرلیا جائے۔ رات کے وقت یا باہر نکلنے سے پہلے اسے ہاتھوں پر لگانے سے جلد نرم، ملائم اور صحت مند نظر آنے لگتی ہے۔ چینی اور شہد کا اسکرب چینی اور شہد سے تیار کردہ اسکرب بھی ہاتھوں کی رنگت نکھارنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک چمچ چینی اور ایک چمچ شہد ملا کر ہلکے ہاتھوں سے مساج کیا جائے تو کالی رنگت اور ڈیڈ اسکن کم ہو جاتی ہے جبکہ جلد میں نرمی آ جاتی ہے۔ آلو کا پیسٹ قدرتی اجزا میں آلو کو بھی جلد کے لیے مفید مانا جاتا ہے۔ ایک آلو چھیل کر پیس لیا جائے اور اس پیسٹ سے ہاتھوں کا مساج کر کے تقریباً 15 منٹ تک لگا رہنے دیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلو میں موجود قدرتی بلیچنگ خصوصیات جلد کو نکھارنے کے ساتھ اینٹی ایجنگ اثر بھی رکھتی ہیں۔ کھوپرے کا تیل کھوپرے کے تیل کا باقاعدہ استعمال ہاتھوں کی جلد کے لیے نہایت فائدہ مند ہے۔ اس تیل میں اینٹی ایجنگ خصوصیات پائی جاتی ہیں جو جھریوں سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔ روزانہ رات کو کھوپرے کے تیل سے ہاتھوں کا مساج کرنے سے نہ صرف جلنے کے نشانات ہلکے پڑتے ہیں بلکہ جلد قدرتی طور پر نکھری اور جوان دکھائی دینے لگتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل