Wednesday, February 11, 2026
 

کراچی کے تھانوں میں ایس ایچ او کی تعیناتی کیسے ہوگی؟  پولیس چیف نے تفصیلات بتا دیں

 



کراچی کے تھانوں میں ایس ایچ او کی تعیناتی سمیت  محکمے سے متعلق تمام پہلوؤں کے حوالے سے پولیس چیف نے تفصیلی گفتگو کی۔ کراچی پولیس چیف آزاد خان نے صحافیوں سے غیر رسمی اور کھلے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے اس تیز دور میں پولیس کو بھی آہستہ مگر مستقل طور پر خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ان کا اپنا شہر ہے، جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی اورعملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس شہر نے انہیں بہت کچھ دیا، اب بطور پولیس سربراہ ان کی کوشش ہے کہ وہ اس شہر اور اس کے شہریوں کو کچھ واپس لوٹا سکیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کراچی کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ اسٹریٹ کرائم ہے،اگرچہ اس حوالے سے منفی تاثر  بعض اوقات حقیقت سے زیادہ ہوتا ہے، تاہم جرائم کی موجودگی سے انکارممکن نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سال 2012 اور 2013 کے مشکل دور کے بعد امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے،مگر ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔کراچی پولیس چیف نے تفتیشی نظام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کم سزا کی شرح  اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس، پراسیکیوشن اورعدالتی نظام کے درمیان خلا موجود ہے۔ کراچی پولیس چیف نے کہا کہ تفتیشی افسران کی تربیت، استعداد کاراورپیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتربنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کو بھی ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ اگر اہلکاروں کو بہتر کام کرنے کے حالات،عزت اور حوصلہ نہیں دیا جائے گا تو بہتر نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ منشیات اور منظم جرائم پر بات کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف نے واضح کیا کہ آرگنائزڈ کرائم پولیس کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں کہیں غیر قانونی سرگرمیاں کھلے عام ہو رہی ہوں، وہاں متعلقہ تھانے اورافسران کی جوابدہی لازم ہے۔ پولیس کے اندر احتساب کو یقینی بنایا جائے گا اورصحیح افسر کو صحیح جگہ تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے شہر میں موجود سسٹم کی موجودگی ،مافیا، سیاسی دباؤ اور مالی مفادات کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیانت داری اوران کی ساکھ ہی ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، جس پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ آخرمیں کراچی پولیس چیف نے کہا کہ درست نیت، محنت اورصاف قیادت کے ساتھ اصلاحات ممکن ہیں اورصحافیوں کے تعاون سے پولیسنگ کے نظام کومزید بہتربنایا جا سکتا ہے۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں مقامی پولیس افسران کی تعینات کیے جانے کے سوال کے جواب میں کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے معیارمیں معمولی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ ایس ایچ اوزکے لیےلازم ہوگا کہ وہ کم ازکم ایک سال تک کراچی میں سکونت اختیارکرچکا ہو۔ کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا میں اپنا ایک بھی ایس ایچ او نہیں لگاؤں گا ۔ ایس ایچ اوز لگانے کا اختیار اضلاع کے ایس ایس پیز کا ہے۔ ایس ایچ اوز کی کارکردگی کے حوالے سے ایس ایس پیز سے پوچھا جائے گا۔ اگر میں اپنا ایس ایچ او لگاؤں گا تو پھر ایس ایس پیز سے ان کی کارکردگی کے حوالے سے کیسے پوچھ سکتا ہوں ؟۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل