Loading
مالک ایلون مسک اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر غلط ویڈیو شیئر کر کے حقائق بتاتے ہوئے گڑبڑ کر بیٹھے ہیں۔
اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے مائیکروبلاگنگ سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ انٹارکٹکا سے اسٹارلنک (اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس) کے ذریعے لائیو اسٹریم کی گئی ہے۔
تاہم، ایکس کے کمیونٹی نوٹس نے ان کی تصحیح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ویڈیو دراصل پیٹاگونیا کی ہے، جو انٹارکٹکا میں نہیں بلکہ جنوبی امریکا میں واقع ہے۔
یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ایکس صارف سائر میرٹ نے 9 فروری کو اسٹارلنک کا سپر باؤل اشتہار شیئر کرتے ہوئے لکھاتھا کہ ایلون مسک کی کسی بھی کمپنی کے لیے پہلی بار، اسپیس ایکس نے @Starlink کے لیے اپنا پہلا سپر باؤل اشتہار بنایا ہے۔
اس پر ردِعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے لکھا کہ زیادہ تر لوگ اب بھی نہیں جانتے کہ اسٹارلنک زمین کے تقریباً ہر کونے میں تیز، کم لیٹنسی اور کم لاگت انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے۔
This video was live-streamed from Antarctica using @Starlink https://t.co/QF86zCRCEM
— Elon Musk (@elonmusk) February 10, 2026
بعد ازاں ایک اور صارف ماریو نوفل نے قدرتی طور پر برف سے بنی ایک غار کی ویڈیو شیئر کی، جو پیٹاگونیا میں واقع ایک کیتھیڈرل جیسی دکھائی دیتی ہے اور لکھاکہ اسٹارلنک کی بدولت پہلی بار کسی شخص نے انٹارکٹکا کی مشہور ’آئس وال‘ کو لائیو اسٹریم کیا ہے۔ @Starlink اسٹریمنگ انڈسٹری کے لیے گیم چینجر ہے۔ اب ہم ایسی جگہیں پہلے سے کہیں زیادہ قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔
ویڈیو کے انٹارکٹکا سے ہونے کی یقین دہانی کرانے کے لیے ایلون مسک نے لکھاکہ یہ ویڈیو @Starlink کے ذریعے انٹارکٹکا سے لائیو اسٹریم کی گئی ہے۔
تاہم، ایکس کی کمیونٹی نوٹس نے ایلون مسک کی اس غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے وضاحت کی ویڈیو بنانے والا خود واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ وہ پیٹاگونیا سے اسٹریم کر رہا ہے، جو جنوبی امریکا کا ایک خطہ ہے۔ یہ لائیو اسٹریم انٹارکٹکا سے نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل