Wednesday, February 11, 2026
 

لسانیت اور قوم پرستی، ارضِ وطن کے خلاف عالمی سازش

 



انسانی تاریخ میں زبان ہمیشہ سے ابلاغ کا سب سے بڑا ذریعہ اور ثقافتی تنوع کا حسن رہی ہے۔ قدرت نے انسانوں کو مختلف قبیلوں اور گروہوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ وہ ایک دوسرے کی پہچان کرسکیں، نہ کہ ایک دوسرے پر برتری جتانے یا نفرت کی بنیادیں استوار کرنے کے لیے۔ لسانیت کی بنیاد پر قومیت کا تصور درحقیقت ایک غیر فطری اور سائنسی طور پر بودا نظریہ ہے۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو زبان یا بولی کا لہجہ تو ایک ہی محلے، گاؤں یا چند میل کے فاصلے پر بدل جاتا ہے۔ برطانیہ کے شہرہ آفاق ڈرامہ نگار برنارڈ شا نے جب لندن میں بولی جانے والی انگریزی کا گہرا مشاہدہ کیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لندن کے مضافات میں درجنوں اقسام کے لہجے موجود تھے، جو ایک دوسرے سے اس قدر مختلف تھے کہ بسا اوقات ایک ہی زبان ہونے کے باوجود تفہیم میں دشواری ہوتی تھی۔ برنارڈ شا کی یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ زبان ایک بہتا ہوا دریا ہے جو جغرافیائی حدود کے ساتھ اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ اسے کسی ایک مخصوص ’’قومیت‘‘ کی زنجیر میں جکڑنا دراصل انسانی ارتقا کے خلاف سازش ہے۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں لسانیت محض ایک ثقافتی شناخت تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے صوبائیت اور قومیت کے اس عفریت کو جنم دیا ہے جو آج ہماری قومی وحدت کو نگلنے کے لیے منہ کھولے کھڑا ہے۔ جب زبان کو سیاست کا محور بنایا گیا، تو اس سے وہ تنگ نظری پیدا ہوئی جس نے صوبائی سرحدوں کو نفرت کی دیواروں میں بدل دیا۔ لسانیت کے اس زہریلے بیج سے جو قومیت پرستی اُگی، وہ درحقیقت ایک ایسا عفریت ہے جو انسان کو اپنی زمین، اپنے بھائی اور اپنی مشترکہ تاریخ سے کاٹ کر ایک محدود اور متعصب دائرے میں قید کردیتا ہے۔ اس عفریت نے وفاق کی جڑوں کو کھوکھلا کیا اور عوام کے ذہنوں میں یہ زہر بھرا کہ ان کی فلاح و بہبود پاکستان کی مضبوطی میں نہیں بلکہ اپنی لسانی اور صوبائی شناخت کو ریاست کے مدِ مقابل کھڑا کرنے میں ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں دشمن قوتوں کو کھیل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ پاکستان، جو اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے دنیا کے اہم ترین خطے میں واقع ہے، ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے۔ یہاں بسنے والے مختلف لسانی گروہ درحقیقت اس ریاست کا حسن ہیں، لیکن بدقسمتی سے اسی تنوع کو پاکستان کی کمزوری بنانے کے لیے ایک طویل عرصے سے منظم بیرونی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ لسانیت کی بنیاد پر تفرقہ ڈالنا کوئی اتفاقی عمل نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ’’ہائیبرڈ وار‘‘ کا حصہ ہے، جس کے ڈورے براہِ راست دہلی، واشنگٹن اور تل ابیب سے ملتے ہیں۔ بھارت، جو قیامِ پاکستان کو آج تک دل سے تسلیم نہیں کر پایا، ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے خواب کی تکمیل کے لیے لسانی عصبیت کو سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را ‘ نے 1971 میں سقوطِ ڈھاکا کے وقت جس طرح لسانی بنیادوں پر نفرت کے بیج بوئے، وہی فارمولا آج بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کلبھوشن یادو کی گرفتاری اس بات کا زندہ جاوید ثبوت ہے کہ بھارت کس طرح پاکستان کے مختلف صوبوں کے عوام کو وفاق کے خلاف بھڑکانے کے لیے لسانی کارڈ استعمال کرتا ہے۔ مٹھی بھر گمراہ عناصر کو حقوق کا جھانسا دے کر ریاست کے خلاف کھڑا کرنا اور انہیں مالی و عسکری مدد فراہم کرنا بھارت کا وہ مکروہ ایجنڈا ہے جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کھوکھلا کرنا ہے۔ اس گھناؤنے کھیل میں عالمی استعماری طاقتیں ایک ایٹمی قوت کے حامل مسلم ملک کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ان استعماری طاقتوں کے مخصوص تھنک ٹینکس کی جانب سے ماضی میں ایسے نقشے جاری کیے گئے جن میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سرحدوں کو لسانی اور نسلی بنیادوں پر دوبارہ کھینچنے کی تجاویز دی گئیں۔ یہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کے وہ خواب ہیں جن کی تعبیر کے لیے پاکستان کی وحدت پر ضرب لگانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ انڈیا اور اسرائیل، جو عالمِ اسلام کے اتحاد کے دشمن ہیں، پاکستان میں لسانی اور صوبائی خلفشار پیدا کرکے اسے دفاعی طور پر کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی بڑی مزاحمت کا راستہ روکا جاسکے۔ پاکستان کے پڑوس میں واقع افغانستان نے بھی قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک کئی بار لسانی سیاست کی پشت پناہی کی ہے۔ ’’پختونستان‘‘ کا شوشا ہو یا ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے لسانی ہم آہنگی کو سیاسی رنگ دینا، افغانستان کی سرزمین ہمیشہ سے پاکستان دشمن عناصر کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ کابل میں بیٹھنے والی مختلف حکومتیں، چاہے وہ کسی کے بھی زیرِ اثر رہی ہوں، پاکستان کے سرحدی علاقوں میں لسانی عصبیت کو ہوا دے کر سرحد پار مداخلت کی راہ ہموار کرتی رہی ہیں۔ اسی طرح ایران، جو ہمارا برادر اسلامی ملک کہلاتا ہے، وہاں سے بھی بعض اوقات ایسی سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں جو بلوچستان کے حساس معاملے میں تیل کا کام کرتی ہیں۔ سرحد پار سے ہونے والی مداخلت اور لسانی گروہوں کے درمیان ’’میڈیا وار‘‘ کے ذریعے پیدا کی جانے والی غلط فہمیاں دراصل ایک بڑے بین الاقوامی جال کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کے صوبوں کو ایک دوسرے سے بدظن کرنا ہے۔ پاکستان میں لسانیت کے نام پر چلنے والی تحریکیں اکثر و بیشتر بیرونی فنڈنگ اور منظم پروپیگنڈے کا شاخسانہ ہوتی ہیں۔ دشمن جانتا ہے کہ جب تک پاکستان کے عوام ’’پاکستانیت‘‘ کے پرچم تلے متحد ہیں، انہیں شکست دینا نامکن ہے۔ اس لیے وہ لسانیت، صوبائیت اور قومیت کے عفریت سے وار کرتا ہے۔ جب ایک پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون یا مہاجر خود کو صرف اپنی زبان تک محدود کرلیتا ہے، تو وہ انجانے میں ان طاقتوں کا آلہ کار بن جاتا ہے جو اس کے ملک کے ٹکڑے کرنا چاہتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے لسانیت کو بنیاد بنا کر ریاستیں قائم کیں، وہ آج بھی اندرونی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ زبان بدلنے سے خون نہیں بدلتا اور نہ ہی انسانی رشتے بدلتے ہیں۔ پاکستان کی بقا صرف اس بات میں ہے کہ ہم اپنی لسانی شناخت کو ایک ثقافتی ورثے کے طور پر تو اپنائیں، لیکن اسے اپنی قومی شناخت (پاکستانیت) پر حاوی نہ ہونے دیں۔ بیرونی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں تبھی ناکام ہوں گی جب سندھ کے مچھیرے، پنجاب کے کسان، خیبر کے غیور پختون اور بلوچستان کے جفاکش عوام یہ سمجھ لیں گے کہ ان کی بقا ایک مضبوط وفاق میں ہے، نہ کہ دشمن کے ایجنڈے پر مبنی لسانی سیاست میں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم دشمن کی اس ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کو پہچانیں۔ پاکستان کے خلاف ہونے والی اس کثیرالجہتی سازش کا مقابلہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم لسانی تعصبات کی زنجیریں توڑ کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ زبانیں رابطے کے لیے ہوتی ہیں، جنگ کے لیے نہیں۔ اگر ہم نے آج ان غیر فطری تقسیموں اور قومیت کے عفریت کو رد نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ پاکستان ایک حقیقت ہے، اور اس حقیقت کو مٹانے کی خواہش رکھنے والے ان شاء اللہ خود مٹ جائیں گے، بشرطیکہ ہم دشمن کی چالوں کو سمجھ کر متحد رہیں۔   نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل