Saturday, February 14, 2026
 

ریلوے اسٹیشن

 



میرا چند روز قبل کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی حالیہ تزئین و آرائش دیکھنے کی غرض سے وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ اپنے بچپن سے جوانی تک متعدد بار میرا کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن جانا ہوا ہے۔ ریل گاڑی میں سفر بھی کئی کیے ہیں مگر اس مرتبہ جو میں وہاں گئی تو اُس جگہ کو اور اُدھر کے ماحول کو ایک مختلف تناظر میں میری آنکھوں نے اپنے اندر سمویا اور دماغ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبورکیا ہے۔ ریلوے اسٹیشن اپنے آپ میں ایک الگ دنیا ہے۔ تیز دوڑتی بھاگتی، شور و ہُلّڑ مچاتی، خوشیوں کے رنگ بکھیرتی، مایوسیوں اور اُداسیوں کو انسانی چہروں پر دکھلاتی، اجنبیوں کو دوست بناتی، بچھڑوں کو ملاتی، اپنوں کے درمیان فاصلہ بڑھاتی،کہیں پہنچانے میں دیر لگاتی۔ جہاں جانے میں دیرکرنی ہو، وہاں جلدی پہنچاتی، پَل میں ہنساتی، پَل میں رُلاتی، ہر انسانی جذبے کو محسوس کرواتی اور زندگی جینے کا ہنر سکھلاتی ایک انوکھی دنیا۔ اس انوکھی دنیا کو دیکھنا ہو تو کبھی کبھی ریلوے اسٹیشن ضرور جانا چاہیے۔یہاں کی دنیا بھی ذہن پر اپنے اثرات مرتب کرتی ، نئی سوچ دیتی اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ریلوے اسٹیشن ایک انسانی زندگی کی بہترین انداز میں ترجمانی کرتا ہے اور مجھ پر یہ انکشاف اس مرتبہ وہاں جا کر ہوا۔ ہماری زندگی میں جب کوئی نیا انسان داخل ہوتا ہے تو پہلے پہل وہ ہمارے لیے اور ہم اُس کے لیے اجنبی ہوتے ہیں پھر آہستہ آہستہ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد ایک دوسرے سے مانوس ہونے لگتے ہیں، بالکل اسی طرح ریلوے اسٹیشن بھی انجان افراد کے درمیان شناسائی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہاں اجنبی لوگوں سے ملنے،ان سے باتیں کرنے اور ایک دوسرے کے حالات جاننے کا موقع ملتا ہے۔ایک دوسرے سے ملنے سے نئی سوچ ملتی ہے۔ سفرکی ابتدا میں مسافر ایک دوسرے کے اسم، حسب و نسب کے بارے میں کچھ نہیں جانتے جب کہ منزلِ مقصود تک پہنچتے پہنچتے ڈاک خانے ایسے ملتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے اُن کا صدیوں پرانا ساتھ رہا ہے۔ اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ ریلوے اسٹیشن پر ملنے والے اجنبی ٹرین میں پہنچ کر پہلے ہمراہی بنتے ہیں پھر منزل آنے سے قبل ہی اپنائیت اور دوستی کے بندھن میں ایسے بندھ جاتے ہیں کہ اُن کے درمیان قائم ہونے والا یہ رشتہ مرتے دم تک پھلتا پھولتا رہتا ہے۔ لیکن ہر مسافر کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ، سفر کے دوران اچھے برے لوگوں سے ملنا ہوتا ہے۔بزرگ واضح ہدایت کرتے ہیں کہ سفر کے دوران اجنی لوگوں سے زیادہ گھلنے ملنے خاص طور پر ان سے کچھ لے کر کھانے سے گریز کریں۔ اگر کسی دھوکے باز اور غلط قسم کے فرد سے پالا پڑ گیا تو نت نئے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔اور یہ مسائل ہمارے لیے زندگی کا روگ بھی بن سکتے ہیں۔بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں کہ سفر کے دوران اجنبی سے خوب دوستی ہوگئی ،ایک دوسرے سے خوب گھل مل گئے،اسی چیز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اجنبی نے واردات کر ڈالی پھر یہ جا اور وہ جا۔اس لیے سفر کے دوران احتیاط بھی لازم ہے۔ اس کے علاوہ ریلوے اسٹیشن صبح و شام خاموش تماشائی بن کر انسانی کرب و تکالیف کو ملاحظہ کرتا ہے۔ جس طرح انسان کی زندگی میں کئی لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں، جانے والے کا ہم غم مناتے ہیں، روتے ہیں، بلبلاتے ہیں مگر بچھڑنے والے کو چاہ کر بھی روک نہیں پاتے۔ بالکل اسی طرح ریلوے اسٹیشن پر کسی کو ملن کی خوشی سرشارکر رہی ہوتی ہے توکوئی آنکھوں میں نمی لیے خود اپنوں سے دور جا رہا ہوتا ہے یادکھی دل کے ساتھ اپنوں کو خود سے بچھڑتا ہوا دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جہاں ملنے کی خوشی ہوتی ہے وہاں بچھڑنے کا غم بھی ہوتا ہے۔ دونوں حالتوں میں خود پر قابو رکھنا ہی اصل بہادری اور امتحان ہے۔ اس مناسبت سے فیض احمد فیض کہتے ہیں۔ رات بھی، اب جان گئی، چاند بھی اب ڈوب گیا اور ہم، راہ میں بچھڑے ہوئے راہی، دیکھیں جس طرح قدرت کی جانب سے انسان کو زندگی میں کامیابی کی سیڑھی پر چڑھنے کے مواقعے وقتاً فوقتًا ملتے رہتے ہیں، جو افراد اُن سے بروقت استفادہ کر لیتے ہیں وہ اپنی منزلِ مراد کو حقیقتاً پاتے ہیں جب کہ موقع گنوانے والے اپنے خالی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرکھڑی ٹرین بھی مخصوص وقت تک ہی اپنے مسافروں کا انتظار کرتی ہے، جو لوگ وقت رہتے اُس پر چڑھ جاتے ہیں، صرف وہی اپنی منزل کا دیدار کرتے ہیں، باقی پیچھے رہ جانے والوں کے پچھتاوے، اگلی ٹرین پکڑنے یا اگلا موقع ملنے تک برقرار رہتے ہیں۔ اس بات کو شاعرِ انقلاب کہلائے جانے والے برِصغیر کے نامور شعرگو جوش ملیح آبادی اپنی مشہور نظم ’’ جنگل کی شہزادی‘‘ میں یوں بیان کرتے ہیں۔ مڑکر جو میں نے دیکھا، امید مر چکی تھی پٹری چمک رہی تھی،گاڑی گزر چکی تھی ہم ریلوے اسٹیشن کو اگر ’’ انسانی زندگی کی راہداری‘‘ کا نام دیں تو یہ بلکل غلط نہیں ہوگا، کوئی آ رہا ہے تو کوئی جا رہا ہے، کہیں آنسو ہیں تو کہیں مسرت، ایک طرف زندگی لطافت کے عروج پر ہے تو دوسری طرف اُداسی کے ڈیرے ہیں۔ کوئی کشش ضرور ہے اُس جگہ پر جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر پاس بُلا کر اپنے جہاں سے متعارف کرواتی ہے، وہاں رونما ہونے والے ہر منظرکا گواہ بناتی ہے اور آخر میں سراپا سوال بن کر گویا ہوتی ہے، ’’ تمھاری زندگی کا ہر رنگ، ہے نا میرے اندر؟ ‘‘ ریلوے اسٹیشن کی ہوا کی خوشبو ہی کچھ الگ ہے، وہاں پر موجود اپنی روزی کی تلاش میں ایک ہی طرح کے لال کپڑوں میں ملبوس پسینے میں شرابور بھاگتے دوڑتے قُلی ریلوے اسٹیشن کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ پلیٹ فارم پر ٹرین کی آمد کی اطلاع دینے کی غرض سے جلنے والی سرخ بتی ریلوے اسٹیشن کی مانگ کا سیندور ہے اور اُس سرخ بتی کے ساتھ بجنے والی سیٹی کانوں کوکتنی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ جس انسان کو ریلوے اسٹیشن کی دنیا سمجھ آگئی، اُس کو وہاں سے عشق ہونا عین ممکن ہے اور جو انسان ایک بار اُس جگہ سے عشق کر بیٹھا پھر اُس در سے انسان کا ناتا ٹوٹنا ناممکن ہے۔ اصل میں ساری بات گہرائی کی ہے، نظروں میں بالیدگی، سوچ میں وسعت اورکسی بھی شئے کی گہرائی میں جانے کی لگن اگر انسان میں موجود ہو تو وہ باآسانی منظرکے پسِ منظر میں جاکر چیز و مکاں کو دیکھ، سمجھ اور پرکھ سکتا ہے۔ منزل تو ہمیشہ ہی انسان کے دل کو بھاتی ہے اور جس منزل کا آغاز ریلوے اسٹیشن سے ہو تو وہ انسان کے قلب، جسم اور روح کو باغ باغ کردیتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل