Loading
امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کی طرف سے ایک نئی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایران کے ایک اسکول کے قریب ہونے والا مہلک حملہ ممکنہ طور پر امریکی ٹوماہاک میزائل سے کیا گیا تھا۔
اس حملے میں 175 افراد شہید ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد بچوں کی بتائی جاتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ ویڈیو ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے اتوار کو جاری کی، جس میں دکھایا گیا ہے کہ 28 فروری کو مناب شہر میں ایک بحری اڈے کے قریب میزائل حملہ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ بحری اڈہ اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ انتظام ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت قریب واقع شجرہ طیبہ ایلیمنٹری اسکول کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا پوسٹس اور دیگر ویڈیوز کے جائزے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اسکول کو نقصان اسی وقت پہنچا جب بحری اڈے پر حملہ کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اسکول کو نشانہ نہیں بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی رائے میں یہ حملہ ایران کی جانب سے ہی کیا گیا ہوگا کیونکہ ایران کے ہتھیار اکثر درست نشانہ نہیں لگاتے۔
Breaking News: New video adds to evidence that a U.S. missile likely hit an Iranian school where 175 people, many of them children, were reportedly killed.https://t.co/Dqo309M8lW
— The New York Times (@nytimes) March 9, 2026
اس موقع پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ پینٹاگون اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا کام ایران کرتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل