Loading
سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں شفعہ کے قانون کو غیر شرعی قرار دینے سے متعلق اپیل پر سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت عدالت نے قرار دیا کہ شفعہ کا قانون اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے اور اسے قرآن یا حدیث کی روشنی میں غیر اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ثنا اللہ نے عدالت کو بتایا کہ شفعہ کا قانون اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے اور قرآن یا حدیث کے مطابق اسے غیر اسلامی قرار دینے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب کے شفعہ کے 1991 کے قانون کو اس سے قبل وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی شرعی عدالت نے 2019 میں اپنے فیصلے میں شفعہ کے قانون کو شریعت کے مطابق قرار دیا تھا۔
بعد ازاں وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف قاضی محمد امین الدین نے سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ سے رجوع کیا تھا۔
آج اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کی جس کی سربراہی جسٹس جمال خان مندوخیل نے کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل