Loading
راولپنڈی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میں مبینہ طور پر 264 ملین روپے کی کرپشن اور خورد برد کا انکشاف ہوا ہے تاہم پانچ سال گزرنے کے باوجود ذمہ داران تاحال گرفت میں نہیں آ سکے۔
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب کی جانب سے غیر جانبدار انکوائری کمیٹی بنانے کے لیے دو دن کی مہلت کا ری مائنڈر بھی جاری کیا گیا تھا مگر مقررہ وقت گزرنے کے باوجود انکوائری کمیٹی تاحال قائم نہ ہو سکی۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی میں 264 ملین روپے کی مبینہ خرد برد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خریداری پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی جبکہ متعدد اشیاء بغیر ٹینڈر اور بغیر کوٹیشن لوکل پرچیز کی گئیں۔ دستاویزات کے مطابق ایسی اشیاء بھی خریدی گئیں جن کی فوری ضرورت موجود نہیں تھی۔
آڈٹ حکام کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں میں اس وقت کی سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فائزہ نعیم کا نام شامل ہے جبکہ آڈٹ رپورٹ میں سابق ڈی ایچ او میڈیکل سروسز ڈاکٹر حوریہ محسن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مبینہ کرپشن کیس میں ڈی ایچ او پریوینٹو سروسز ڈاکٹر احسان غنی کو بھی شامل قرار دیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے آٹھ اکاؤنٹنٹس کو بھی اس معاملے میں شامل بتایا گیا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے 264 ملین روپے کے مالی نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے تحقیقات کی سفارش کی ہے۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کو ذمہ داران کا تعین کرنا ہوگا جبکہ رپورٹ میں سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان اور ذمہ دار افسران کی نشاندہی کی جائے گی۔
ڈی جی ہیلتھ سروسز کی ہدایت کے باوجود انکوائری کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر سوالیہ نشان بن گئی ہے اور سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کے باوجود تاحال عملی کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل