Friday, March 27, 2026
 

ایران میں فوجی بھیجنے کی ضرورت نہیں، جنگ مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں میں ختم ہوگی، مارکو روبیو

 



امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران میں امریکی فوجی اتارنے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں تک جاری رہے گی۔ خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں جی7 ممالک کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس آپریشن میں شیڈول کے مطابق یا اس سے بھی آگے ہے اور توقع ہے کہ اسے مناسب وقت چند مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکا اپنے مقاصد زمینی فوج کے بغیر حاصل کر سکتا ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ چند فوجی دستے خطے میں تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ صدر کو حالات کے مطابق زیادہ سے زیادہ اختیارات کے تحت فیصلے کرنے کا موقع مل سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ واشنگٹن نے خطے میں ہزاروں میرینز کے دو دستے بھیجے ہیں، جن میں سے پہلا مارچ کے آخر تک ایک بڑے ایمفیبیئس اسالٹ جہاز کے ذریعے پہنچنے والا ہے اور پینٹاگون کی جانب سے ہزاروں ایلیٹ ایئر بورن فوجیوں کی تعیناتی بھی متوقع ہے، ان تعیناتیوں سے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایک فضائی جنگ، جس نے پہلے ہی عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا ہے، ایک طویل زمینی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی ایران کی جانب سے اس ہفتے بھیجی گئی 15 نکاتی تجویز کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے، ہم نے پیغامات کا تبادلہ کیا ہے اور ایرانی حکومت کی طرف سے کچھ معاملات پر بات چیت کی آمادگی کے اشارے ملے ہیں ہم مزید وضاحت کے منتظر ہیں کہ ہم کس سے بات کریں گے، کن موضوعات پر بات ہوگی اور کب بات ہوگی۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس معاملے باخبر ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کو ثالثوں کے ذریعے اطلاع دی گئی ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی تجویز ممکنہ طور پر جمعے کے بعد میں موصول ہو سکتی ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ امریکی تجویز میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام ختم کرنے سے لے کر توانائی کی عالمی سپلائی کے سب سے اہم تجارتی راستے پر کنٹرول چھوڑنے تک کے مطالبات شامل ہیں، اگرچہ ایرانی حکام نے عوامی طور پر امریکی سفارت کاری کو مسترد کیا ہے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ تیسرے ممالک کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کے لیے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ قبل ازیں ایرانی عہدیدار نے بتایا تھا کہ اعلیٰ حکام نے امریکی تجویز کا جائزہ لیا اور اسے صرف امریکی اور اسرائیلی مفادات کے حق میں قرار دیا تاہم سفارت کاری مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل