Loading
کراچی میں رواں سال 2026 کی پہلی سہہ ماہی کے دوران جرائم کی 14 ہزار سے زائد وارداتیں ہوئیں، 134 افراد قتل جبکہ 10 ہزار سے زائد موٹرسائیکلیں چوری اور چھین لی گئیں۔
ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والی سٹیزن پولیس لائز کمیٹی (سی پی ایل سی) کی سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہر میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات میں شہریوں کی مجموعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کی 478 گاڑیاں اور 10 ہزار 154 موٹر سائیکلیں چوری و چھین لی گئیں۔
اسی دورانیہ میں شہریوں سے اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں 3 ہزار 943 موبائل فونز بھی چھین لیے گئے جبکہ رواں سال کے 3 ماہ کے دوران قتل و غارت گری کے دوران 134 افراد بھی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 3 ماہ میں بھتہ طلب کرنے کے 52 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
سی پی ایل سی نے گزشتہ ماہ مارچ میں گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں ، موبائل فونز کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات سے متعلق بھی اعداد شمار جاری کیے ہیں۔
جس کے مطابق گزشتہ ماہ شہر کے مختلف علاقوں سے 17 گاڑیاں چھینی جبکہ 140 گاڑیوں کو چوری کرلیا گیا جبکہ اس دوران ملزمان نے شہریوں سے 440 موٹر سائیکلیں چھین لیں جبکہ 3 ہزار 27 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا۔
اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ ماہ شہریوں سے 1265 موبائل فونز بھی چھین لیے گئے ، گزشتہ ماہ مارچ میں قتل و غارت گری کے واقعات میں 44 افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے جبکہ 6 واقعات بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔
سی پی ایل سی کی جانب سے ہر کرائم سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو رواں سال 2026 کی پہلی سہہ ماہی (3 ماہ) کے دوران شہر میں گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فون کی چھینا جھپٹی اور چوری کے واقعات عروج پر رہے۔
جس میں شہریوں کو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز سے محروم ہونا پڑا ، گزشتہ 3 ماہ کے دوران شہریوں کو مجموعی طور پر 478 گاڑیوں سے محروم ہونا پڑا جس میں 57 گاڑیاں چھینی اور 421 گاڑیوں کو چوری کرلیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کی سواری موٹر سائیکلوں کے چھیننے اور چوری کے واقعات میں شہری مجموعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کی 10 ہزار 154 موٹر سائیکلوں سے محروم ہوگئے جس میں 1309 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں جبکہ 8 ہزار 845 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا۔
اسی دورانیہ میں شہر میں اغوا برائے تاوان کے 2 واقعات رپورٹ ہوئے تاہم رواں سال کے دوران بینک ڈکیتی کی کوئی واردات رپورٹ نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں آئی جی سندھ نے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں کاٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں جرائم کی شرح لندن اور نیویارک سے کم ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل