Tuesday, April 14, 2026
 

سفارتی سطح پر بھارت میں تبدیلی کی بحث

 



2025-26میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان نے علاقائی اور عالمی سطح کی سفارت کاری کے محاذ پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کا اعتراف عالمی اور علاقائی ممالک ،میڈیا اور رائے عامہ بنانے والے افراد یا مختلف اہم تھنک ٹینک بھی کررہے ہیں۔ یہ یقینا پاکستان کی اہم کامیابی ہے ، ہمیں ڈپلومیٹک محاذ پر اس وقت بھارت پر برتری بھی حاصل ہے ۔ پاکستان کی سفارت کاری دنیا نے زیادہ لچک دار اور توازن اور اعتدال پر مبنی پالیسی و جارحیت یا جنگ کے مقابلے میں ایک امن پسند اور تنازعات کے خاتمے یا جنگ سے دور رہنے کے طور پردیکھا ہے۔ سفارتی محاذ پر پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کے مقابلے میں اپنی اہمیت کو بھی منوایا ہے جو پاکستان کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔خود امریکا کی جانب سے مسلسل پاکستان کی حمایت نے بھی ہماری سفارتکاری کی اہمیت کو بڑھادیا۔ اب حالیہ امریکا،اسرائیل اور ایران تنازعہ میں جو ثالثی کا کردار پاکستان سمیت دیگر ممالک نے ادا کیا ہے اور جو بیٹھک امن کی پاکستان میں سجائی گئی ہے، اس کا بھی بڑا کریڈٹ پاکستان کی سفارت کاری سمیت ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو جاتا ہے ۔یہ بات بھی بھارت کی سطح پر جو موجودہ نریندر مودی کی حکومت ہے اس کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور سفارت کاری میں پاکستانی ریاست کے لیے ابھرتے ہوئے نئے امکانات کو ہضم کرنا آسان نہیں ہے ۔اگرچہ اس علاقائی سیاست میں بھارت ایک بڑی سیاست بھی رکھتا ہے اور معاشی سطح کی ایک بڑی طاقت ہے ۔مگر پاکستان نے اس طاقت میں جو یکطرفہ سوچ تھی اس جمود کو توڑا ہے ۔ بھارت کے ساتھ اپنے لیے ایک توازن پیدا کیا ہے اور اس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جارہا ہے ۔اگر پاکستان امریکا ،ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان عملی طور پر مفاہمت یا جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان کی سفارتی اہمیت عالمی اور علاقائی سطح پر اور زیادہ بڑھ جائے گی۔اگرچہ بھارت نے جنگ بندی کی کھل کر حمایت کی ہے مگر پاکستان کی کوششوں کا زکر نہ کرکے اس نے اپنی سیاسی تعصب پر مبنی سوچ کا اظہار بھی کیا ہے ۔لیکن جب عالمح سطح پر ہمیں پزیرائی مل رہی ہے تو ایسے میں بھارت کی پاکستان کے لیے کھل کر تعریف نہ کرنا بھی ان کے ہی مخالف سمجھا جائے گا۔ پاکستان نے تواتر کی بنیاد پربھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں موجود ڈیڈ لاک کو توڑنے اور بامقصدبنیاد پر مذاکرات کی دعوت دی مگر ہر بار مودی کی حکومت نے یہ سمجھا کہ مذاکرات اب پاکستان کی کمزور ی ہے۔پاکستان جو معاشی طور پر بھارت کے مقابلے میں کمزور ملک ہے ایسے میں اس کا عالمی اور علاقائی سیاست یا سفارت کاری یا دنیا میں موجود جو عالمی تنازعات یا جنگ چیلنجز ہیں، ان میں ثالثی کا کردارظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے اپنے کارڈ کمال ہوشیاری سے کھیلے ہیں۔اسی بنیا د پرہم نے عالمی اور علاقائی سیاست میں اپنے لیے جگہ بھی پیدا کی ہے ۔ایک طرف امریکا اور چین اور دوسری طرف ایران سمیت سعودی عرب یا خلیجی ممالک اور پھر روس سمیت دیگر یورپی ممالک نے حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ اب ہم عالمی سطح کی سیاست میں ماضی کے مقابلے میں ایک مختلف جگہ پر کھڑے ہیں ۔ ہماری یہ نئی سٹرٹیجک پوزیشن خود بھارت کے لیے قابل قبول نہیں اور وہ اب نئی سیاسی حکمت عملیوں کی بنیاد پر سوچ رہا ہے ۔کیونکہ بھارت جو اس خطہ میں ایک بڑے کردار کے طور پر خود کو پیش کرتا تھا اور اسے کسی سطح پر عالمی پزیرائی بھی حاصل تھی مگر 2025-26میں اب جو نئے حالات بنے ہیں یا بن رہے ہیں ، اس میں پاکستان کی اہمیت بھی زیادہ بڑھ گئی ہے اور عالمی دنیا آسانی سے پاکستان کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔بلکہ اب تو بھارت میں یہ نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ ہمیں پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں کچھ اہم اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا۔ان کے بقول اگر ہم مسلسل پاکستان کو ماضی کی طرح نظر انداز کرتے رہے تو اس سے پاکستان علاقائی اور عالمی سیاست میں آگے کھڑا ہوسکتاہے ۔ اس لیے جو موجودہ حالات ہیں اس میں پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں بھی بڑی پیش رفت ہونی چاہیے۔لیکن ہمیں ابھی ایسی کوئی سوچ بھارت کی موجودہ حکومت اور نریندر مودی میں دیکھنے کو نہیں مل رہی اور وہ مزید دیکھو کی پالیسی پر ہی قائم ہیں۔لیکن نریندر مودی پر داخلی سیاست کا دباو بڑھ رہا ہے کہ ان کی پالیسیوں نے بھارت کو سفارت کاری کے محاذ پر کمزور اور پاکستان کو مضبوط کیا ہے ۔کیونکہ بھارت میں یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان نے بھارت کو ’’ جنگ کے بیانیے‘‘ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے اور جو برسوں سے بھارت نے پاکستان کے مقابلے میں اپنی دفاعی طاقت کو قائم کیا ہوا تھا، وہ کمزور ثابت ہوا۔اس عمل نے پاکستان کو امن اور بھارت کو جارح کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کی وجہ بھی بھارت کی سطح پر مودی سرکار اور ان کی پاکستان یا مسلم دشمنی کی سیاست بھی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اس وقت بھارت پاکستان کے مقابلے میں پیچھے کھڑا ہے اور پاکستان اس وقت فرنٹ فٹ پر کھڑا ہے یا کھیل رہا ہے ۔یقینا یہ سب کچھ بھارت کے لیے آسانی سے قابل قبول نہیں ہوگا اور وہ اب بھی پس پردہ ایسی حکمت عملیوں پر سوچ وبچار کررہا ہوگا کہ وہ کیسے سفارتی محاذ پر پاکستان کو دوبارہ اپنے مقابلے میں کمزور پوزیشن پر لاسکے مگر اب یہ کام بھارت کے لیے آسان نہیں ہوگا ۔ کیونکہ بھارت اس وقت ایک دفاعی پوزیشن پرکھڑا ہے اور اسے اپنے موجودہ جنگی طرز عمل یا پاکستان دشمنی کے ایجنڈے میں سیاسی لچک اور توازن پر مبنی پالیسی کو اختیار کرنا ہوگا۔کیونکہ علاقائی سیاست میں اب جو اہمیت پاکستان کو مل گئی ہے، اسے بھارت آسانی سے نہ تو نظر انداز کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرسکتا ہے ۔اس لیے سفارت کاری کو جو نیا میدان علاقائی سطح کی سیاست میںسجا ہے، اس سے بھارت کو ضرور ایک مثبت حکمت عملی کے تحت فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لیکن ساتھ ساتھ جہاں پاکستان کے لیے علاقائی یا عالمی سیاست میں مثبت سفارت کاری کے پہلو سامنے آئے ہیں وہیں ان سے ہمیں عملی طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے داخلی مسائل سے نمٹنا بھی اہم ہوگا۔کیونکہ یہ ہی موقع ہے کہ ہم اپنی داخلی درستگی پر توجہ دیں اور ان معاملات سے جڑے مسائل پر کوئی کوتاہی نہ کی جائے ۔کیونکہ جو بھی قوتیں ہیں جن میں بھارت پیش پیش ہے وہ پاکستان کی داخلی سطح کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی کارڈ یا حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔ اسرائیل اور بھارت بھی دونوں کا اس وقت یہ ہی ایجنڈا ہوگا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارت کاری کو روکا جائے۔اس لیے ہمیں زیادہ خوش اور پرجوش ہونے کی بجائے زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔ہماری سفارت کاری میں زیادہ گہرائی اور سنجیدگی کی ضرورت ہے ۔بالخصوص افغانستان کے معاملے میں بھی جو حالیہ پیش رفت چین کی معاونت سے ہوئی ہے، اس کو ہمیں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل