Loading
پاکستان میں 47 سال بعد ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے والے امریکا اور ایران کے درمیان برائے راست جو مذاکرات ہوئے وہ دنیا میں پاکستان کا ایسا عالمی اعزاز ہے جو تاریخ میں ایسے ہی یاد رکھا جائے گا جیسے امریکا اور چین یاد رکھے ہوئے ہیں اور دنیا بھی یہ جانتی ہے کہ 6 عشروں قبل متحدہ پاکستان نے امریکا کا چین سے رابطہ کرایا تھا اور دنیا کو بعد میں خبر ہوئی تھی مگر اب جب پاکستان نے اسلام آباد میں امریکا و ایران کو مدعو کیا اور دونوں کے درمیان مذاکرات کا دنیا کو پتا تو تھا مگر دنیا کو یہ امید کم تھی کہ 47 سال سے منقطع امریکا و ایران کے تعلقات نہ صرف بحال ہو جائیں گے اور دونوں ملکوں کے اہم وفود اسلام آباد آ کر پائیدار امن کے لیے ایک میز پر بیٹھ کر مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں گے اور دونوں میں تحریری مسودوں کا تبادلہ اور فیس ٹو فیس بات چیت ممکن ہو جائے گی۔
47 سال بعد امریکا و ایران میں برائے راست مذاکرات ہو گئے جن میں باہمی اختلافات اور معاملات پر گفتگو ہوئی جس کو ناکام تو نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی 47 سال سے بند بات چیت پہلے ہی مذاکرات میں کامیاب ہو سکتی تھی جب کہ ایران پر مسلط کی گئی امریکی جارحیت بھی حال ہی میں بند ہوئی ہے جس کے خاتمے کے لیے یہ مذاکرات ہوئے جن میں 10 سال بعد پاکستان آنے والے امریکی نائب صدر نے اپنے وفد کی قیادت کی جب کہ ایران کے صدور و دیگر عہدیدار تو پاکستان آتے ہی رہے ہیں اور پاکستان کی انتھک کوشش کے نتیجے میں ایک دوسرے کے دشمن ملک اسلام آباد آنے پر رضا مند ہوئے اور پاکستان کی میزبانی میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی جس کو روکنے کے لیے بھارت اور ملک کے اندر موجود ملک دشمنوں نے بھرپور کوشش کی تھی جو ناکام رہی اور پاکستان دنیا میں پائیدار امن کے لیے امریکا اور ایران کو پاکستان بلا کر ان کے درمیان برائے راست مذاکرات کرانے میں کامیاب رہا جس سے دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر مرکوز اور پاکستان دنیا کی نگاہوں میں مرکز نگاہ رہا اور دنیا کے متعدد ممالک نے پاکستان کے اس تاریخی کردار کو سراہا اور عالمی برادری نے اسلام آباد مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ امریکا اور ایران اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ دنیا میں ایران و امریکا مذاکرات کو پاکستان کی اہم کامیابی قرار دیا گیا ہے کیونکہ دونوں ملکوں کو ایک میز پر بٹھا کر مذاکرات کرا دینا پاکستان کا ایسا کارنامہ اور ہمیشہ برقرار رہنے والا ایک ایسا عالمی اعزاز ہے جو دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
پاکستان کی ثالثی میں 47 سال بعد امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کو کامیاب بنانا دونوں ملکوں کا اور دونوں کو ایک میز پر بٹھا دینا پاکستان کی ذمے داری نہیں کوشش تھی جو عالمی امن کی ہی نہیں بلکہ امریکا و ایران کی ذمے داری تھی۔ پاکستان کا کام صرف دونوں کو ایک میز پر لانا تھا اور پاکستان کی یہ کوشش کامیاب رہی اور امریکا و ایران کو فراہم کردہ پاکستان کا یہ سفارتی موقع تاریخ کا حامل قرار پایا اور پاکستان اپنے مقصد میں کامیاب رہا اور پاکستان کی اس کوشش کو کامیاب بنانے میں سعودی عرب، مصر، ترکیہ کا بھی اہم کردار تھا جن کے وزرائے خارجہ اہم اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان میں اکٹھے بھی ہوئے تھے ، پاکستان سمیت چاروں ملکوں کی کوشش تھی کہ یہ جنگ رکے مگر اسرائیل ایسا نہیں چاہتا تھا ۔
ایران پر یہ جنگ امریکا اور اسرائیل نے مل کر مسلط کی۔ امریکی صدر نے پہلے پانچ روزہ جنگ بندی کا اعلان کرنے کے بعد ایران پر حملے مکمل طور بند نہیں کیے تھے، صرف کم کیے تھے جب کہ اسرائیل کے حملے نہ صرف جاری تھے بلکہ دونوں نے جنگوں کے سلسلے میں عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے والے اصولوں کو نظرانداز کیا۔ایک طرف امریکا نے جنگ کے عالمی اصول پامال کیے اور دوسری طرف اسرائیل سے حملے کرا کر ایران کے انتہائی عمر رسیدہ سپریم لیڈر سمیت ایرانی قیادت شہید کرائی۔ ایران نے اپنے عظیم جانی نقصان کے باوجود مذاکرات میں شرکت کی جس کی کامیابی کی ذمے داری امریکا کی تھی، بہرحال امریکاکے عوام بھی پوچھ رہے ہیں کہ امریکی صدر نے ایران پر جنگ کیوں مسلط کی؟ پاکستان نے اس جنگ کے بعد امریکا و ایران کے برائے راست مذاکرات کرا کر ہمیشہ برقرار رہنے والا عالمی اعزاز حاصل کر لیا ہے اور دونوں وفود واپس چلے گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی صدر اب کیا کرتے ہیں، اب ان پر ہی دنیا میں عالمی امن دیرینہ طور برقرار رکھنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل