Tuesday, April 14, 2026
 

کرکٹ میں بھارت کی سیاست پر وزڈن کا سخت ردعمل، بورڈ بی جے پی کا ذیلی ادارہ قرار

 



بین الاقوامی کرکٹ میں بھارت کی سیاست اور حکومتی مداخلت پر کرکٹ کا بائبل کہلانے والے عالمی میگزین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اس سے آریلین قرار دیا اور کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نریندر مودی کی قیادت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ذیلی ادارہ بن گیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 1864 سے شائع ہونے والا وزڈن کرکٹرز المانک نے بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے انتظامی معاملات میں بھارتی سیاسی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے موجودہ حالات کو آرویلین قرار دیا ہے، وزڈن میں دنیا بھر کی کرکٹ کی اہم سرگرمیوں کا سالانہ ریکارڈ ہوتا ہے اور اسے کرکٹ کی بائبل تصور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزڈن کا 163واں سالانہ ایڈیشن جمعرات کو شائع ہوگا تاہم ایڈیٹر لارنس بوتھ نے بین الاقوامی کرکٹ میں بھارت کے اثر ورسوخ کو غیر صحت مند اور سیاست زدہ سے تعبیر کرتے ہوئے نمایاں کیا ہے۔ خیال رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا اور چیئرمین جے شاہ دونوں بھارتی ہیں، چیئرمین آئی سی سی جے شاہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے ہیں اور وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دیرینہ اتحادی ہیں۔ وزڈن نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کا کھیلوں سے متعلق ذیلی ادارہ قرار دیا ہے، جے شاہ آئی سی سی کے چیئرمین بننے سے پہلے بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ تھے۔ لارنس بوتھ نے نشان دہی کی ہے کہ ایشیا کپ 2025 کے دوران کس طرح سیاسی طور پر مداخلت کی گئی، جہاں بھارت اور پاکستان کے درمیان اس سے قبل ہونے والی مختصر جنگ کے وجہ سے میچوں میں کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے لکھا کہ کیا 2025 میں کھیل کے نظم و نسق پر اس سے زیادہ واضح تنقید کوئی اور ہو سکتی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا کہ ‘سیاست اور کھیل کو ایک ساتھ نہیں ہونا چاہیے’ غالباً وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ اپنے ملک کے وزیر داخلہ بھی ہیں۔ لارنس بوتھ نے مزید کہا کہ یہ بات اس تازہ نمائشی بیان بازی سے بہت پہلے ہی واضح تھی کہ بی سی سی آئی دراصل بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کا کھیلوں سے متعلق ذیلی ادارہ ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ یہ تعلق اس وقت واضح ہو گیا جب بھارت کے کپتان سوریہ کمار یادیو نے ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف بھارت کی پہلی جیت اپنی فوج کے نام کر دیا۔ لارنس  بوتھ نے کہا کہ کرکٹ اب انتہائی خطرناک سرگرمیوں کی ایک پراکسی بننے تاثر اس وقت مزید مضبوط ہوا جب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کو ہرانے پر ایکس پر بیان دیا کہ کھیل کے میدان میں آپریشن سندور۔ نتیجہ وہی بھارت جیت گیا۔ وزڈن کے ایڈیٹر نے بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مصتفیض الرحمان کے معاملے کا بھی حوالہ دیا، جن سے بنگلہ دیش میں ہندو افراد کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے ساتھ ہونے والے 10 لاکھ ڈالر کا معاہدہ ختم کردیا تھا۔ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کے بعد ایسے واقعات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو رواں برس ٹی20 ورلڈ کپ سے باہر ہونا پڑا کیونکہ ان کی حکومت نے ٹیم کو بھارت جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ لارنس بوتھ نے لکھا کہ کھیل کا نظم و نسق بتدریج زیادہ آرویلین ہوتا جا رہا ہے جہاں یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بھارتی بالادستی کو استثنیٰ حاصل ہے جبکہ دیگر فریقین کو ردعمل ظاہر کرنے پر مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل