Friday, May 01, 2026
 

ایک خاموش محنت کش کی کہانی اور عالمی تاریخ کا سفر

 



وہ آج بھی صبح سویرے اٹھا، کدال کندھے پر رکھ کر روزی کمانے کے لیے اپنے کام پر نکل پڑا۔ اس کے قدموں کی دھول ابھی بھی سڑک پر بکھری ہوئی تھی، لیکن شہر اپنی رفتار سے چل رہا تھا۔ صبح کی ہلکی ٹھنڈی ہوا میں وہ اپنے تھکے ہوئے جسم کے ساتھ بھی ایک نئے دن کی امید لیے آگے بڑھ رہا تھا۔ زندگی اس کے لیے کبھی آسان نہیں رہی تھی، مگر وہ ہر دن اسی امید پر جیتا تھا کہ شاید آج حالات کچھ بہتر ہو جائیں۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ضرور تھی، مگر اندر کہیں ایک خاموش اداسی گہری تہوں میں چھپی ہوئی تھی۔ آج اس کی بیٹی نے اس سے پھل لانے کی فرمائش کی تھی۔ یہ ایک چھوٹی سی خواہش تھی، مگر اس کے لیے یہ کسی بڑے امتحان سے کم نہیں تھی۔ وہ راستے میں یہی سوچتا رہا کہ اتنی کم کمائی میں وہ یہ فرمائش کیسے پوری کرے گا؟ گھر جا کر کیا بہانہ بنائے گا؟ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیسے کہے گا کہ وہ اس کے لیے ایک پھل بھی نہیں لا سکا؟ یہی کشمکش اسے اندر ہی اندر گھیرے ہوئے تھی، اور اسے احساس تک نہ تھا کہ آج دنیا بھر میں اسی جیسے محنت کشوں کی محنت، جدوجہد اور حقوق کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک دن منایا جا رہا ہے، جسے عالمی یومِ مزدور کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں، بلکہ اُن لاکھوں مزدوروں کی ہے جو روز اسی طرح کی زندگی جیتے ہیں۔ کوئی اینٹیں اٹھا رہا ہوتا ہے، کوئی سڑکیں بنا رہا ہوتا ہے، کوئی فیکٹری میں مشینوں کے ساتھ جُھلا ہوا ہوتا ہے، اور کوئی دھوپ میں کھڑے ہو کر دوسروں کے لیے سہولتیں پیدا کر رہا ہوتا ہے۔ مگر ان سب کی اپنی زندگی اکثر مشکلات، کم اجرت اور غیر یقینی مستقبل کے درمیان گزرتی ہے۔ یہی وہ خاموش حقیقت ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ اور یہی حقیقت ہمیں تاریخ کے اُس موڑ تک لے جاتی ہے جہاں سے مزدوروں کے حقوق کی عالمی تحریک نے جنم لیا۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ اس دن کی بنیاد 1886 کے شکاگو میں ہونے والے ہے مارکیٹ واقعے سے جڑی ہے، جہاں مزدوروں نے 8 گھنٹے کام کے اوقات کے مطالبے کے لیے احتجاج کیا تھا۔ یہ احتجاج بعد میں مزدور حقوق کی عالمی تحریک کی بنیاد بن گیا۔ اس وقت مزدور دن میں 10 سے 16 گھنٹے تک کام کرتے تھے، اور ان کے پاس نہ مناسب تنخواہ تھی اور نہ ہی محفوظ کام کے حالات۔ اسی ناانصافی کے خلاف یہ تحریک اٹھی جس نے دنیا بھر میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ مزدوروں کی آواز آہستہ آہستہ ایک عالمی مطالبے میں تبدیل ہونے لگی۔ اس کے بعد 1889 میں دوسری انٹرنیشنل نے فیصلہ کیا کہ ہر سال یکم مئی کو عالمی یومِ مزدور منایا جائے گا، اور پہلی بار یہ دن 1890 میں دنیا کے کئی ممالک میں باقاعدہ طور پر منایا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ دن ایک علامت بن گیا، محنت کش طبقے کی پہچان اور ان کے حقوق کی یاد دہانی کے طور پر۔ آج کے دور میں یہ دن صرف ایک یادگار نہیں بلکہ ایک عالمی عزم ہے کہ مزدوروں کو منصفانہ اجرت، محفوظ کام کے حالات اور سماجی انصاف فراہم کیا جائے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) اہم کردار ادا کرتی ہے، جو دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور بہتر پالیسیوں کے لیے کام کرتی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم اس عالمی عزم کو اکثر بھلا بیٹھتے ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ مزدوروں کا عالمی دن تو منایا جاتا ہے، مگر خود مزدور کے لیے یہ دن اکثر ایک عام دن ہی رہتا ہے۔ کئی اداروں میں مزدوروں کے حقوق کو وہ تحفظ بھی حاصل نہیں جو ہونا چاہیے۔ بعض جگہوں پر حکومتی مقرر کردہ اجرت (تقریباً 40 ہزار روپے ماہانہ) سے بھی کم تنخواہ دی جاتی ہے، جبکہ کام کے دوران حفاظتی انتظامات بھی ناکافی ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ایک مزدور اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اکثر اپنی جان خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ جگہوں پر قرض یا غربت کے باعث مزدوروں اور ان کے بچوں کو بھی کام پر لگانے جیسے مسائل آج بھی موجود ہیں، جو معاشرتی ناہمواری کی ایک تلخ تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ حقیقتیں ہیں جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر یہ حقیقتیں ہر روز کسی نہ کسی مزدور کی زندگی میں موجود ہوتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف دن منانے تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان لوگوں کی اصل قدر کریں جو ہمارے گھروں، سڑکوں، عمارتوں اور اداروں کی بنیاد بناتے ہیں۔ انہیں ان کی محنت کے مطابق اجرت، محفوظ ماحول اور عزت دینا ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔ اسی طرح عام شہری بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، چاہے وہ مزدور کی عزت ہو، اس کی چھوٹی موٹی مدد ہو یا حوصلہ افزائی۔ ایک چھوٹا سا اچھا رویہ بھی کسی کی زندگی میں بڑا فرق لا سکتا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے بنائی گئی مزدور پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد ہی اس طبقے کو حقیقی خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ جب قانون صرف کتابوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں بھی نافذ ہو گا، تب ہی تبدیلی ممکن ہے۔کیونکہ آخر میں سچ یہی ہے کہ جب تک مزدور خوشحال نہیں ہوگا، معاشرہ بھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہو سکتا۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل