Loading
سندھ ہائیکورٹ نے مالی تنازع کے مقدمے میں شہری کی شناختی کارڈ بلاک کرنے کیخلاف درخواست پر ماتحت عدالت کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دیدیا۔
ہائیکورٹ میں مالی تنازع کے مقدمے میں شہری کی شناختی کارڈ بلاک کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
سندھ ہائیکورٹ نے ماتحت عدالت کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دیدیا۔ جسٹس حسن اکبر نے تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کا شناختی کارڈ بلاک کرنا غیر قانونی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
کسی قانون میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی واضح گنجائش موجود نہیں۔ سپریم کورٹ واضح کرچکی ہے کہ سندھ میں نافذ سول پروسیجر کوڈ 1908 میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔ ضابطہ فوجداری قانون کے تحت بھی شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی واضح قانونی بنیاد نہیں۔
اعلیٰ عدالتوں نے نادرا آرڈیننس 2000 کے تحت بھی شناختی کارڈ بلاک کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ شناختی کارڈ بلاک کرنے سے شہری کی زندگی عملی طور پر مفلوج ہوجاتی ہے۔
شناختی کارڈ بلاک ہونے سے شہری کو تعلیم، صحت، روزگار اور بینکنک سہولیات سے محروم ہوجاتا ہے۔ درخواستگزار محمد راشد نے سینیئر سول جج جنوبی کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم چیلنج کیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل