Loading
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سے درخواست کی سماعت سے معذرت کرلی۔
جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کی تعیناتی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سے درخواست کی سماعت سے معذرت کرلی۔
عدالت نے کیس کو روسٹر کے مطابق کسی اور بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔ درخواستگزار کے وکیل سرمد ہانی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی سپریم کورٹ کورٹ کی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر رضوان سومرو 2006 میں نیب میں تعینات ہوئے تھے۔ مذکورہ افسر کو متنازع قانون سازی کے ذریعے سندھ پولیس میں شامل کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر افسر کو دوبارہ نیب بھیجا گیا۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رضوان سومرو کو پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کردیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے قواعد کے برعکس ڈیپوٹیشن پر تقرریاں ناقابل قبول قرار دی تھیں۔ مذکورہ پراجیکٹ اربوں روپے کی لاگت سے جاری اہم منصوبہ ہے۔ منصوبے کی تحت سندھ بھر کے اسکولوں کی اپ گریڈیشن، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
حساس اور اہم منصوبے کی سربراہی کرنے والے افسر کی اہلیت اور قانون حیثیت پر سوالات موجود ہیں۔ وکیل نے موقف دیا پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی مکمل قانونی طریقہ کار کے تحت عمل میں آئی ہے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی پوسٹ پبلک آفس نہیں بلکہ پراجیکٹ کی بنیاد پر کی گئی تعیناتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل