Loading
کراچی: اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار کنٹرولر میرپور خاص بورڈ نے دوران تفتیش نت نئے انکشافات کیے ہیں۔
اینٹی کرپشن کے نوٹسز میں الزام عائد کیا گیا کہ قلیل عرصے میں سندھ کے تعلیمی بورڈز سے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو 20 کروڑ روپے رشوت کے طور پر پہنچائے گئے، 20 کروڑ کی رقم نتائج کی تبدیلی، امتحانی و انتظامی ریکارڈز میں ہیر پھیر اور ٹرانسفر/ پوسٹنگ کی مد میں پہنچائی گئی۔ رقم تعلیمی بورڈز نے ایک ڈپٹی سیکریٹری فرحان اختر کے ذریعے سیکریٹری بورڈ اینڈ یونیورسٹیز تک پہنچائی۔
اینٹی کرپشن کے مطابق میٹرک و انٹر بورڈز کراچی سے 7 کروڑ ، سکھر بورڈ سے 4 کروڑ، حیدر آباد بورڈ سے 4 کروڑ اور شہید بینظیر آباد بورڈ (نوابشاہ) سے 5 کروڑ کی رقم پہنچائی گئی۔
انکوائری کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن نے سیکریٹری و چیئرمین میٹرک بورڈ کراچی، چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی، چیئرمین سکھر بورڈ زاہد علی چنڑ ، چیئرمین نوابشاہ بورڈ آصف میمن کو نوٹسز جاری کیے۔
سابق ڈپٹی سیکٹریٹری فرحان اختر ، سیکریٹری نوابشاہ بورڈ،سیکشن افسر محمد زبیر کتبر، کنٹرولر سکھر ، لاڑکانہ اور حیدرآباد بورڈ کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ اینٹی کرپشن تین سابق چیئرمینز میرپورخاص بورڈ اور متعلقہ وزیر کے پرسنل سیکریٹری کو بھی طلب کرچکا ہے۔
اینٹی کرپشن نوتس کے مطابق نوابشاہ بورڈ میں پری میڈیکل ایک طالبہ کو یکے بعد دیگرے دو مارک شیٹس جاری ہوئیں، پہلی مارک شیٹ میں 500 میں سے 362 جبکہ دوسری میں 497 مارکس دیے گئے۔
سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ سے پہلے ہی ریکارڈ مانگا جاچکا ہے، عباس بلوچ گریڈ 20 کے سیکریٹری ہیں اس لیے نچلے گریڈ کے انکوائری افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل