Loading
قارئین! آپ نے مختلف قسم کے لائسنس کے نام سن رکھے ہوں گے جیسے میڈیکل لائسنس، بار لائسنس، پائلٹ لائسنس، پروفیشنل انجینئر لائسنس، اسلحے کے لائسنس، اخبارات و ٹی وی چینل کے لائسنس، شکار اور ماہی گیری کے لائسنس، تعمیرات کے لائسنس، جانوروں کو رکھنے کے لیے لائسنس، کمپیوٹر سافٹ ویئر استعمال کرنے کے لائسنس، ڈرون اڑانے کے لائسنس، شراب فروخت کرنے کے لائسنس یا سیاحت کے لائسنس، ان سب کا اصل مقصد ایک ہی ہے کہ قانون کی حفاظت اور معیار کو برقرار رکھنا اور لائسنس ہولڈرز اور ان کے ڈیٹا کا ریکارڈ رکھنا۔
لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے لائسنس کا نام بتا رہے ہیں جو آپ نے شاید پہلے کبھی نہ سنا ہو اور یہ ہے فقیروں کا لائسنس ! جی ہاں بھیک مانگنے والوں کا لائسنس۔
ہمارے ہاں اس قسم کے لائسنس کا تو تصور ہی نہیں ہے ،تاہم سویڈن میں قانون موجود ہے کہ جو بھی فقیر بھیک مانگنا چاہتا ہو،اس کو بھیک مانگنے کے لیے پہلے حکومت سے اجازت نامہ یعنی لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔
یہ لائسنس حکومت بھیک مانگنے والے کو صرف تین مہینے کے لیے دیتی ہے، ہر تین مہینے کے بعد یہ لائسنس ایکسپائر ہو جاتا ہے اور اس کی دوبارہ سے تجدید کرانے پڑتی ہے جس کی باقاعدہ حکومت کو دوبارہ فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔
لیکن یہ قانون شاید انسانی حقوق کی تنظیموں کو پسند نہیں، اسی لیے ناروے جیسے ملک نے جب یہی قانون اپنے ہاں بھی بنانا چاہا تو وہاں کی اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مخالفت کر دی،لہٰذا یہ قانون نہیں بن سکا ۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون واقعی کسی ملک کے لیے اچھا ثابت ہو سکتا ہے؟ کیا ریاستوں کو یہ قانون بنانا چاہیے؟ اور اس سے بھی اہم سوال بحیثیت پاکستانی ہمارے سامنے یہ ہے کہ کیا ہم بھی اپنے ملک میں کوئی ایسا قانون بنائیں کہ جس میں بھکاریوں کو بھیک مانگنے کے لیے اجازت نامے یعنی لائسنس کی ضرورت ہو؟
ہو سکتا ہے کہ میرا یہ کالم حکومت کا کوئی جہاندیدہ ذمے دار پڑھے تو فوراً پاکستان میں بھی قانون بنانے کی کوشش کر ے ،کیونکہ لائسنس کی فیس سے حکومت کے خزانے میں اچھے خاصے پیسے جمع ہو سکتے ہیں، لیکن سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس عمل سے یعنی گدا گروں کے لیے اگر لائسنس بنانا لازمی قرار دیا جائے تو اس سے حکومت کو صرف اچھی آمدنی ہی حاصل ہوگی یا اوربھی کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟
آئیے! اس پہ غور کریں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب کسی چیز کا لائسنس بنایا جاتا ہے تو اس میں لائسنس بنانے والا صرف لائسنس کی فیس ادا نہیں کرتا بلکہ پورا ایک پروسس مکمل کرتا ہے کہ جس میں وہ اپنی تمام معلومات دیتا ہے۔ مثلاً وہ کون ہے؟
اس کی ولدیت کیا ہے؟ اس کی عمر کیا ہے؟ وہ کہاں رہتا ہے؟ اس کی آمدن کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ یعنی لائسنس میں ایک طرح سے لائسنس لینے والے کے کوائف حکومت تک پہنچ جاتے ہیں جس سے ان معلومات کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت جب کبھی کوئی پلاننگ کرنا چاہے تو اس کے پاس ڈیٹا موجود ہوتا ہے، یہی سب سے اہم ترین بات ہے۔
آئیے !ہم جائزہ لیں کہ اگر پاکستان میں گدا گری سے متعلق لائسنس کا قانون بنا دیا جائے تو اس سے کیا کیا فوائد ہوں گے۔
نمبر ایک: لائسنس فیس سے حکومت کو اچھی خاصی آمدنی ہوگی۔
نمبر دو: لائسنس بنوانے کے لیے بھیک مانگنے والا جب اپنی تمام معلومات لکھ کر دے گا تو اس کی سالانہ آمدنی کا بھی پتہ چل سکے گا اور اس پر حکومت کو ٹیکس لگانا مزید آسان ہوگا اور اس ٹیکس سے حکومت کو پھر مزید آمدنی حاصل ہوگی۔
نمبر تین: جو افراد بھیک مانگیں گے ان کے نام ،شناختی کارڈ نمبر اور رہائشی پتے بھی حکومت کے پاس ڈیٹا کی شکل میں آجائیں گے ،چنانچہ اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ گداگروں میں چھپی مافیا بے نقاب ہو جائے گی۔
یعنی جو لوگ باقاعدہ اپنا گینگ رکھتے ہیں یا کوئی گروپ رکھتے ہیں اور وہ مختلف لوگوں سے بھیک منگوا کر پیسہ اکٹھا کرتے ہیں وہ بے نقاب ہو سکیں گے اور ان میں وہ بھی بے نقاب ہو سکیں گے جو جرائم پیشہ افراد ہیں (یعنی جو کہ مختلف لوگوں سے بھیک منگواتے ہیں اور اس کی آڑ میں بھیک مانگنے کے لیے معذور لوگوں کو بیرون ملک بھی بھیجتے ہیں ،تاکہ وہاں سے غیر ملکی کرنسی میں دولت حاصل کی جا سکے)۔
اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ گداگری کے مقصد کے لیے جو انسانی اسمگلنگ کی جاتی ہے اور اغوا کاروں کے گروپ اس کام میں ملوث پائے جاتے ہیں، یعنی چھوٹے بچوں کو اغوا کرنا اور انھیں کسی اور علاقے میں لے جا کر بھیک مانگنے پر مجبور کرنا، وہ بھی بے نقاب ہو سکیں گے۔
یوں اگر ہم ان تمام معاملات کا جائزہ لیں تو جرائم پیشہ افراد کے گروہ اور مافیا کو اس طرف سے لگام ڈالی جا سکتی ہے اور انھیں بے نقاب کیا جا سکتا ہے اور اس دھندے پر کاری ضرب لگائی جا سکتی ہے۔ اس سارے عمل میں حکومت کو آمدنی بھی ہوگی اور عوام جو ظاہری صورت دیکھ کر ہر ایک کو خیرات دے دیتے ہیں، ان کی خیرات بھی پھر صرف مستحق لوگوں میں ہی جائے گی، جال سازوں کے پاس نہیں جائے گی۔
راقم کے خیال میں یہ ایک بہت اہم کام ہے جس پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ بھیک مانگنے والوں کے حوالے سے جو دستیاب ڈیٹا ہے۔ اس میں بڑے حیرت انگیز راز موجود ہیں۔
مثلاً ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف کراچی شہر میں ایک بھکاری اوسطاً تقریباً 2000 روپے روزانہ کماتا ہے،لاہور میں تقریباً 1400 روپے روزانہ،اسلام آباد میں تقریباً 950 روپے روزانہ۔ کچھ رپورٹس کے مطابق شہروں میں یہ آمدنی 1000 سے 3000 روپے روزانہ تک بھی ہو سکتی ہے۔عام بھکاری تقریباً 25,000 سے 60,000 روپے ماہانہ جب کہ بعض ’’ پروفیشنل‘‘بھکاری: 1 لاکھ سے 3 لاکھ روپے ماہانہ تک بھی کماتے ہیں۔
کراچی میں ایک بھکاری کے پاس ایک دن میں 1 لاکھ روپے ملنے کی رپورٹ بھی آئی۔کچھ اندازوں کے مطابق بھکاری روزانہ مجموعی طور پر اربوں روپے اکٹھے کرتے ہیں۔
ایک محتاط تحقیق کے مطابق سالانہ تقریباً 136 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔کچھ رپورٹس ایسی بھی ہیں جن کے مطابق تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ (38 ملین) بھکاری پاکستان میں موجود ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ تعداد 2 کروڑ 50 لاکھ سے 3 کروڑ 80 لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں صرف تقریباً 5–6 ملین لوگ ٹیکس فائل کرتے ہیں۔
حکومت وقت جو ایک عام مزدور اور مڈل کلاس تنخواہ دار طبقے سے ناقابل بیان حد تک ٹیکس لے رہی ہے جب کہ اس طبقہ کو پینے کے پانی سے لے کر سیکیورٹی تک کے لیے اپنی جیب سے پیسے خرچ کرنے پڑرہے ہیں، اسے چاہیے کہ ایک نیا ’’گدا گری لائسنس ‘‘ بھی عائد کردے کہ اور اس سے بھی خوب ٹیکس کمائے کہ اس سے کم از کم اس ملک سے جرائم کی شرح میں تو کمی آئے گی اور بچوں کو اغوا کرکے ان سے بھیک منگوانے جیسے خطرناک جرائم بھی کنٹرول ہو سکیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل