Monday, May 04, 2026
 

غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم

 



سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نےتمام غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کردی ہے، یہ کمیٹی تمام غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔ قائمہ کمیٹی نے این-45 منصوبے کی بڈنگ میں بے ضابطگیوں پر اسے کالعدم قرار دیتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو ہدایت دی کہ 30 روز کے اندر شفاف طریقہ کار کے تحت نئی بڈنگ شروع کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں سینیٹر وقار مہدی، سینیٹر کامل علی آغا، سینیٹر ہدایت اللہ خان اور سینیٹر روبینہ خالد شریک ہوئے۔ اجلاس میں این-45 شاہراہ منصوبے، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے لیے کوئلے کی خریداری اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد سمیت غیر ملکی امداد کے تحت جاری شاہراہوں اور توانائی کے منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وفاقی سیکرٹری مواصلات اور چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی عدم موجودگی پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا، جس پر حکام نے بتایا کہ وہ عدالتی سماعت کے سلسلے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں مصروف ہیں۔ چترال سے متعلق منصوبے کے کنسلٹنٹ کی غیر حاضری پر بھی سوال اٹھایا گیا، جس پر بتایا گیا کہ وہ بیرون ملک مصروفیات کے باعث شرکت نہیں کر سکے۔ اجلاس میں سینیٹر روبینہ خالد نے چترال-چکدرہ روڈ کی خستہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی کے دورے کی تجویز دی جبکہ سینیٹر وقار مہدی نے اقتصادی امور ڈویژن میں تکنیکی نگرانی کے فقدان پر سوال اٹھایا۔ حکام نے وضاحت دی کہ منصوبوں کی تکنیکی نگرانی کا اختیار منصوبہ بندی ڈویژن کے پاس ہےچکدرہ-تمرگراہ 38.8 کلومیٹر سڑک منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کی منظوری جلد متوقع ہےتاہم حتمی ٹائم لائن منظوری کے بعد ہی دی جا سکے گی جبکہ عمومی طور پر منصوبے کی منظوری کے بعد ایک سال خریداری کے عمل میں صرف ہوتا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل