Loading
بظاہر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ٹلی ہوئی ہے اور سیز فائر موجود ہے۔لیکن اس کے باوجود جنگ کے بادل موجود ہیں ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب جنگ ختم ہوگئی ہے یہ بھی مکمل سچ نہیں ۔کیونکہ جنگ کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں ہمیں ایک دوسرے کے خلاف دیکھنے کو ملتی ہیں۔
اگرچہ باقاعدہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی یا مذاکرات کے دوسرے دور کی سیاسی بیٹھک اسلام آباد میں نہیں سج سکی اور بہت سے لوگوں نے مذاکرات میں موجود اس ڈیڈ لاک کو ناکامی کا نام بھی دیا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ امریکا اور ایران کی طرف سے یہ جنگ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں سفارتی یا ابلاغ کے محاذ پر جاری ہے۔
لیکن اس جنگ نے آج نہیں تو کل کسی معاہدے کی شکل میں ختم ہونا ہے۔اسی بنیاد پر امریکا،ایران ،پاکستان ،مصر،ترکی ،سعودی عرب ،چین اور روس کے درمیان مختلف حوالوں سے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پس پردہ ڈپلومیسی کا عمل چل رہا ہے ۔جس میں ایک دوسرے کی سخت شرائط اور تجاویز کی بنیاد پر کچھ لو اور کچھ دو کے تحت قابل قبول فارمولہ بھی تلاش کیا جا رہا ہے ۔
بنیادی مسئلہ امریکا اور ایران کے درمیان گہری بداعتمادی اور بھروسے کے کمی کا ہے۔ بالخصوص ایران کسی بھی صورت میں امریکا پر کسی بھروسہ کے لیے تیار نہیں ۔اس کے لیے اسے بالخصوص چین اور روس کی حمایت اور ضمانت درکار ہے ۔
اسی لیے اب جو خفیہ ڈپلومیسی چل رہی ہے اس میں پاکستان ،سعودی عرب اور چین سمیت روس کی اہمیت بڑھ گئی ہے ۔پاکستان کا کردار بدستور اب بھی موجود ہے اور پاکستان باہمی رابطوں میں ایک بڑے ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے ۔
پاکستان کی بنیادی ضرورت جہاں اپنے اس کردار کی مدد سے اپنی اہمیت کو عالمی سیاست میں تسلیم کروانا ہے وہیں اسے جو استحکام درکار ہے وہ اس کی اپنی داخلی سیاسی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے۔
ایران کے بارے میں ایک مہم یہ بھی دیکھنے کو ملی ہے کہ ایران مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا اور اسی بنیاد پر ایران پر کچھ حلقے تنقید بھی کر رہے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذاکرات کا دوسرا دور ایران کی وجہ سے ممکن نہیں ہوسکا ۔
لیکن یہ حالات کیونکر پیدا ہوئے اس کا بھی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اول، امریکی صدر ٹرمپ کا اپنا کردار جس میں تضادات اور دھمکیوں یا یو ٹرن پر مبنی بیانات نے ایران میں مخالفانہ ردعمل کو جنم دیا۔
دوئم، امریکا نے یہ تاثر دیا کہ مذاکرات کی بنیاد اسی صورت میں ممکن ہوگی جب ایران امریکی شرائط پر عمل کرے گا یعنی امریکا ایران پر ڈکٹیشن کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتا تھا،سوئم امریکا نے فوری طور پر ایسے عملی اقدامات جو سازگار حالات کو بنانے میں موثر ہوتے ہیں یا وہ اسرائیل کے عزائم کو روکتا تو اس میں بھی کوئی اقدامات دیکھنے کو نہیں ملے۔
چہارم، امریکا اس مذاکرات اور معاہدے کی بنیاد پر یہ تاثر دنیا کی سیاست میں قائم کرنا چاہتا تھا اور ہے کہ ہمیں ایران کے مقابلے میں کامیابی اور ایران کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یقیناً یہ سب کچھ ایران کے لیے قابل قبول نہیں تھا اور اس نے امریکا کے خلاف جو جنگ کئی دہائیوں سے لڑی ہے اور اب بھی یہ جنگ لڑی جا رہی ہے وہ کسی کمزور معاہدے کے لیے نہیں تھی اور ایسی صورت میں خود ایران کو امریکا کے حوالے سے اپنی داخلی سیاست میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا جس میں پاسداران انقلاب ایسے کسی کمزور سمجھوتہ کو قبول نہیں کرے گی جس میں ایران کی کمزوری کا تاثر قائم ہو۔
ایران اب اس مسئلہ کو محض امریکا یا اسرائیل تک محدود ہو کر نہیں دیکھ رہا بلکہ وہ ان مذاکرات کو بنیاد بنا کر ایک بڑے علاقائی فریم ورک میںدیکھ رہا ہے۔ وہ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کو اس نقطہ کی طرف بھی لانا چاہتا ہے کہ ان کے اپنے ملکوں میں موجود امریکی اڈے ان کی سلامتی کی بجائے ان کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔
اس لیے ایران مشرق وسطی کی سیاست میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک سمیت پاکستان کو اپنے قریب لا کر ایک بڑے علاقائی فریم ورک میں کام کرنے کا خواہش مند ہے اور اس بات کا ایرانی قیادت نے مختلف طریقوں سے اشارہ بھی دیا ہے ۔
لیکن اس میں بھی ایران کے لیے ایک بڑا مسئلہ اس کے اور سعودی عرب یا خلیجی ممالک کے درمیان بہت سے معاملات پر تحفظات یا بداعتمادی کا ماحول ہے جس کے خاتمہ میں سب کو غیر معمولی سطح کے اقدامات کی ضرورت ہے۔
اب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی یا معاہدہ محض اب ان دو ملکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں دیگر ممالک اور علاقائی طاقتیں بالخصوص چین اور روس کا کردار بھی بڑھ گیا ہے۔اس لیے فوری طور پر ان فریقوں میں معاہدے کا کسی بھی صورت میں سامنے آنا معمولی عمل نہیں بلکہ مشکل عمل ہوگا۔
معاہدے کے کچھ نکات پر اتفاق ہوسکتا ہے اور باقی معاملات پر بات چیت کا عمل آگے بڑھتا رہے گا۔لیکن اگر آگے کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوتی تو پھر ان میں مختلف شکلوں میں نہ صرف نئے تنازعات اور ٹکراؤ جنم لیں گے بلکہ اس امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ ہمیں ان بعض ممالک میں ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگ جیسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
اس لیے جنگ کی یہ کشمکش مشرق وسطی میں جاری رہ سکتی ہے اور اس میں عالمی اور علاقائی قوتیں بھی خود کو اس جنگ سے باہر نہیں رکھ سکیں گی۔ایران کو اس جنگ میں ایک بنیادی فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس جنگ کے بعد پوری دنیا میں امریکا اور امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف ایران حملے پر نفرت بڑھی ہے۔
ٹرمپ کی داخلی سیاست سمیت ان کی مقبولیت کمزور ہوئی ہے ان کے اپنے حکومتی اور دفاعی ساتھی چھوڑگئے ہیں اور نیٹو ممالک نے بھی ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے۔اسی طرح امریکا نے جو یہ تاثر قائم کیا تھا کہ وہ فوری جنگ کے نتیجے میں ایران جنگ سے نہ صرف اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرلے گا بلکہ وہاں رجیم چینج بھی ہوجائے گی وہ ممکن نہیں ہوسکا،ایران کی جنگ میں مزاحمت نے امریکا کو حیران بھی کیا اور پسپائی پر مجبور بھی کیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مذاکرات ایران کی بھی ضرورت ہے لیکن ایران نے اب اس جنگ میں ایسا ماحول بنادیا ہے کہ ایران سے زیادہ امریکا اب اس جنگ سے باہر نکلنا چاہتاہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے ان سخت حالات میں امریکا کے خلاف مزاحمت کی ہے ،لیکن اسے بھی درمیانی راستہ نکالنا ہے تاکہ ایران کو پرامن بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔
اس میں یقیناً ایران کی اپنی داخلی سیاست کے مسائل بھی ہیں جو براہ راست عالمی اور علاقائی سیاست کے لیے تحفظات رکھتے ہیں ۔اس پر بات چیت کا راستہ کھولنا اور معاملات میں ایک دوسرے کے تحفظات کو ختم کرنا بھی ایران کی بڑی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے۔
اس لیے ایران کو بھی معاملات کے حل میں سیاسی حکمت عملی اور سفارتی سطح پر غیر معمولی کام کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا اور جو خدشات ان کے بارے میں عالمی دنیا میں موجود ہیں ان کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
ایران کو بھی یہ جو خدشہ ہے کہ امریکا مذاکرات کے نام پر ان پر ایک بڑے حملے کی تیاری کررہا اس خدشے کو دور کرنا بھی امریکا کی ذمے داری ہے۔جنگ نہ تو امریکا کے حق میں ہے اور نہ ہی موجودہ حالات میں بالخصوص ایران کے حق میں ہے۔
کیونکہ اگر جنگ ہوتی ہے تو یہ سب کے لیے بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج امریکا کیے خلاف ایران کھڑا ہے لیکن وہ یہ کام لمبی سطح پر نہیں کرسکے گا ۔تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ خود مشرق وسطی کے ممالک براہ راست امریکا سے جنگ کی طرف جائیں گے ۔
ایران سمیت سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو امریکا اور اسرائیل کے اس ایجنڈے سے خبردار رہنا ہوگا کہ وہ مشرق وسطی میں ایک دوسرے کے خلاف بڑی لڑائی یا تنازعات کو پیدا کرکے وہاں داخلی کشمکش پیدا اور ایران کو تنہا کرنا چاہتا ہے یا ایران کو مشرق وسطی میں ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کرنا اور وہاں کشیدگی کو پیدا کرنا اس کے ایجنڈے کا حصہ ہوسکتا ہے۔
اس لیے مشرق وسطی کے یا علاقائی ممالک کو امریکا کے ایجنڈے سے بھی خبردار رہنا ہوگا جو یہاں اپنے مفادات کے لیے ایک دوسرے کو لڑانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔کیونکہ جنگ کی بنیاد پر معیشت کی تباہی ہمیں مزید پیچھے کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل