Monday, May 04, 2026
 

اسلحہ تجارت پر دس ممالک کا تسلط

 



شائد آپ کو یاد ہو کہ جب انیس سو نواسی نوے کے زمانے میں سوویت یونین ٹوٹ رہا تھا اور دنیا واحد سپرپاور (امریکا) پر مبنی نئے عالمی نظام کی بازگشت سے گونج رہی تھی۔تب چند تجزیاتی خوش فہم یہ تبلیغ کر رہے تھے کہ سرد جنگ کے خاتمے سے ہم پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں چنانچہ دو سپرپاورز پر مبنی پرانے ورلڈ آرڈر کی کمر توڑ مسابقت کے برعکس بدلی ہوئی دنیا میں ریاستیں اسلحے پر کم خرچ کریں گی اور اضافی پیسہ سوشل سیکٹر پر لگائیں گی۔ جب یہ خوش فہم ایسی لاف زنی کر رہے تھے تو عالمی ( امریکی ) اسلحہ ساز کمپنیوں کے کرتا دھرتا زیرِ لب مسکرا رہے تھے۔ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے بورڈ رومز میں نئی جنگیں ایجاد ہو رہی تھیں۔اس کمپلیکس کی مرادیں توقع سے بہت پہلے ہی بر آئیں۔نائن الیون کے سانحے نے گویا بلی کے بھاگوں چھینکا توڑ دیا۔سوویت یونین کی جگہ ایک نیا دشمن چین کی شکل میں دریافت کر لیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن پولٹیکل انڈسٹریل ملٹری کمپلیکس مسلسل ہنسی خوشی رھ رہا ہے۔ انیس سو انچاس سے اب تک ریاستیں ایک سو ٹریلین ڈالر سے زائد رقم اسلحے پر خرچ کر چکی ہیں۔اس بجٹ میں سے ساڑھے اکیاون فیصد ( ساڑھے تریپن ٹریلین ڈالر ) صرف ایک ملک نے خرچ کیے اور وہ ہے امریکا۔ جتنے انسان چالیس سالہ سرد جنگ میں ہلاک ہوئے ان سے دوگنے انیس سو نوے کے بعد سے اب تک ایجاد کردہ سیکڑوں چھوٹی بڑی جنگوں میں مارے جاچکے ہیں۔اسلحہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ، مہلک اور مہنگا ہو گیا ہے۔جنگ زمین اور فضا سے نکل کے خلا میں پہنچ چکی ہے۔یعنی ہماری دنیا پہلے کسی بھی زمانے سے زیادہ غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ سال انیس سو اٹھاسی میں دنیا نے اسلحے پر ایک اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر خرچ کیے۔دو ہزار نو میں یہ بجٹ دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔دو ہزار سولہ سے اب تک یورپ کے فوجی اخراجات دوگنے ہو چکے ہیں۔ گذشتہ ایک دہائی میں مشرقی یورپی ممالک کے جنگی اخراجات میں بالخصوص ایک سو تہتر فیصد اضافہ ہوا جو تاریخ میں کسی بھی ایک دہائی میں کسی ایک خطے میں سب سے زیادہ مجموعی اضافہ ہے۔آج عالمی فوجی بجٹ تین ٹریلین ڈالر چھو رہا ہے۔یعنی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد فوجی اخراجات کم ہونے کے بجائے دو گنا ہو گئے۔ اس تناظر میں اگر ہم آبادی اور وسائیل کے اعتبار سے ریاستوں کے انفرادی جنگی اخراجات دیکھیں تو تصویر اور واضح ہوتی ہے۔مثلاً اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سپری ) کے مطابق قطر اپنی آبادی کے تناسب سے اسلحے پر سب سے زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے۔ دو ہزار چھ میں قطر کے جنگی اخراجات بارہ سو اکتیس ڈالر فی کس تھے جو انیس سو بائیس تک بڑھ کے پانچ ہزار چار سو اٹھائیس ڈالر فی کس ہو گئے۔یعنی سولہ برس میں تین سو چالیس فیصد اضافہ۔ اسرائیل کے فوجی اخراجات اس عرصے میں تیرہ سو ساٹھ ڈالر سے بڑھ کے پانچ ہزار ایک سو آٹھ ڈالر فی کس ہو گئے یعنی دو سو چھہتر فیصد کا اضافہ۔اس عرصے میں ناروے کے دفاعی اخرجات میں ایک سو اکیاسی فیصد اضافہ ہوا۔ مگر یوکرین نے تو حد ہی کردی۔دو ہزار چھ میں یوکرین کے فوجی اخراجات تریسٹھ ڈالر فی کس تھے۔دو ہزار پچیس میں یہ بڑھ کے دو ہزار ایک سو ستانوے ڈالر فی کس ہو گئے۔یعنی انیس برس میں تین ہزار تین سو ستاسی فیصد اضافہ۔اس کی ایک وجہ دو ہزار چودہ میں جزیرہ نما کرائمیا پر روسی قبضہ اور فروری دو ہزار بائیس سے جاری جنگ ہے۔ اس تناظر میں جب ہم دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک کے پچاسی برس کا جائزہ لیں تو کوئی ایک وجہ بھی نظر نہیں آتی جو امید کی فاختہ کے پر کھول سکے۔ اسلحے کے کاروبار پر پچھلی آٹھ دہائیوں سے گنے چنے ممالک کی گنی چنی کمپنیوں کا ہی قبضہ ہے۔ اگر ہم صرف دو ہزار سولہ تا دو ہزار پچیس کے دور کو ہی دیکھ لیں تو اس عرصے میں دو سو پچانوے بلین ڈالر کے ہتھیار بیچے گئے۔ ان میں سے انتالیس فیصد ہتھیار ( ایک سو پندرہ بلین ڈالر ) میڈ ان یو ایس اے تھے۔دو ہزار بیس تا چوبیس کے چار برس میں پینٹاگون نے اگلی ایک دہائی کے لیے دو اعشاریہ چار ٹریلین مالیت کے ایڈوانس اسلحہ کے ٹھیکے امریکی پرائیویٹ سیکٹر کو دیے۔ان میں سے ایک تہائی ٹھیکے ( سات سو اکہتر ارب ڈالر ) پانچ امریکی کمپنیوں (لاک ہیڈ مارٹن ، آر ٹی ایکس ، بوئنگ ، جنرل ڈائنامکس اور نارتھروپ گرومین ) کو ملے۔ دو ہزار سولہ تا پچیس کے پیریڈ میں اسلحہ فروخت کرنے والے دوسرے بڑے ملک روس کے پاس عالمی مارکیٹ کا تیرہ فیصد شئیر ( چالیس ارب ڈالر ) ، فرانس کے پاس نو اعشاریہ تین فیصد شئیر ( اٹھائیس ارب ڈالر ) ، چینی اور جرمن اسلحہ ساز کمپنیوں کے پاس ساڑھے پانچ پانچ فیصد شئیرز ( سولہ ، سولہ ارب ڈالر ) ہے،اسرائیل کے پاس گلوبل اسلحہ تجارت کا تین اعشاریہ آٹھ فیصد شئیر ( گیارہ ارب ڈالر ) ، اٹلی کے پاس تین اعشاریہ سات فیصد شئیر ( گیارہ ارب ڈالر ) ، برطانیہ کے پاس تین اعشاریہ چار فیصد شئیر ( دس ارب ڈالر) ، جنوبی کوریا کے پاس دو اعشاریہ آٹھ فیصد شئیر (آٹھ ارب ڈالر ) ، اسپین کے پاس دو اعشاریہ تین فیصد شئیر (سات ارب ڈالر ) اور دیگر متفرق ممالک کے پاس بارہ فیصد شئیر ( تینتیس بلین ڈالر ) رہا۔ یعنی آسان زبان میں دنیا میں اٹھاسی فیصد اسلحہ دس ممالک کی کمپنیوں نے فروخت کیا۔موجودہ وائٹ ہاؤس انتظامیہ تو دو ہزار اٹھائیس میں رخصت ہو جائے گی مگر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے ہی برس میں میزائیلوں سے تحفظ کے گولڈن ڈوم پروجیکٹ کے زریعے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے اگلے دس سنہری برسوں کو یقینی بنا دیا ہے۔ اگر اگلی انتظامیہ گولڈن ڈوم منصوبے کو منسوخ بھی کر دے تب بھی جو ایڈوانس پیسہ امریکی شہریوں کی جیب سے تحفظ کے نام پر نکال کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے حوالے ہو چکا ہے وہ تو واپس ملنے سے رہا۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔انیس سو اسی کی دہائی میں اسٹار وار پروجیکٹ پر بھی ارب ہا ڈالر خرچ کر کے اسے دس برس کے اندر اسکریپ کر دیا گیا تھا۔نہ کوئی سوال ، نہ جواب نہ احتساب۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل