Loading
ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران دہشت گردوں کے جانب سے داغے گئے مارٹر گولے مقامی آبادی پر بھی گرے جس سے 6 شہری شہید اور 13 زخمی ہوگئے جبکہ دہشت گرد متعدد لاشیں لے کر فرار ہوگئے۔
آئی جی پی ذوالفقار حمید نے بہادر ہنگو پولیس و سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز کو دہشتگردوں کی بڑی تعداد کا حملہ ناکام بنانے پر شاباش دی ہے۔
ہنگو پولیس، سی ٹی ڈی و سیکورٹی فورسز نے مشترکہ کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج کے 100 سے زائد دہشت گردوں کی ضلع ہنگو میں دراندازی کی کوشش ناکام بنائی۔
پیر کے روز سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان کی اطلاعات ہیں، دہشتگرد ضلع اورکزئی کے پہاڑوں سے ہنگو کے علاقوں زرگری، شناوری اور نریاب میں داخلے کی کوشش کر رہے تھے۔
دہشت گردوں نے مختلف سرحدی پوسٹس کا محاصرہ کرنے کی بھی کوشش کی جسے ضلعی پولیس، سی ٹی ڈی، ایف سی اور پاک فوج نے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا۔ سہ روزہ آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں اور پولیس و سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں دہشتگردوں کے فائر کیے مارٹر گولے مقامی آبادی پر بھی گرے، جس سے 6 شہری شہید اور 13 زخمی ہوئے۔
مقامی لوگوں کے مطابق دہشت گردوں کو زبردست نقصان پہنچا اور وہ اپنے ہلاک ساتھیوں کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھاتے ہوئے فرار ہوئے۔ کامیاب آپریشن کے نتیجے میں عوامی پراپرٹی، اسکولوں اور پہاڑی علاقے کو کلئیر کروا لیا گیا ہے۔
آئی جی پی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کامیاب آپریشن پر پولیس و سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے سر ہتھیلی پر رکھ کر لڑنے والے جوان قابل فخر ہیں۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے آپریشن میں حصہ لینے والے ہنگو پولیس، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور البرق فورس کے جوانوں کے لئے نقد انعامات اور اسناد کا اعلان بھی کیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس فتنۃ الخوارج کا مکمل صفایا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل