Saturday, May 09, 2026
 

بین الاقوامی اداروں کے لرزتے ایوان

 



دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کو مزید عظیم جنگوں سے بچانے اور جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی تعمیر نو کے لیے متعدد عالمی ادارے قائم کیے گئے تھے جو آج تک مختلف ادوار سے ہوتے ہوئے مکمل فعال سے مکمل غیر فعال حیثیت میں کام کررہے ہیں۔ یہ کالم ان میں سے چند اداروں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور ان کے مستقبل کے حوالے سے بھی چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔  ہم سب سے پہلے نیٹو (The North Atlantic Treaty Organisation) یعنی تنظیم معاہدہ شمالی اوقیانوس کو دیکھتے ہیں۔ یہ تنظیم 4 اپریل 1949 کو امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک معاہدے کے تحت عمل میں لائی گئی۔ اس کا صدر دفتر بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں واقع ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد سرد جنگ کے دوران سویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنا تھا۔ یہ یورپ اور شمالی امریکا کے ممالک کا ایک دفاعی اتحاد ہے، جس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کی اجتماعی سلامتی اور رکن پر حملے کی صورت میں اجتماعی دفاع فراہم کرنا ہے۔ اس تنظیم میں دفاع کی کلیدی ذمے داری امریکا نے اپنے ہاتھ میں رکھی تھی تاکہ وہ یورپ میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکے۔  یہ اتحاد بستر مرگ پر قریب قریب آخری حالت میں ہے۔ حالیہ ایران امریکا جنگ میں یورپ نے امریکی حکمت عملی کی تائید سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اٹلی، جرمنی، فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے اس پر تنقید بھی کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدر ٹرمپ نے جرمنی سے پانچ ہزار فوجی واپس بلانے کا عندیہ دے دیا اور ساتھ ساتھ یہ اشارہ بھی دے دیا کہ واپس آنے والے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور یہ عمل اگلے 6 سے 12 ماہ کے دوران مکمل ہوگا۔ خیال رہے کہ اس کٹوتی سے قبل جرمنی میں 36,000 امریکی فوجی موجود تھے۔ صدر ٹرمپ نے بھی نیٹو کو ماضی کا قصہ پارینہ قرار دے دیا ہے۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ نیٹو دراصل ماضی میں سویت یونین اور حال میں روس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے تھا لیکن اگر مستقبل میں یورپی ممالک آپس میں یہ اتحاد کسی طرح قائم کر لیتے ہیں تو شاید روس کو اس میں کلیدی حیثیت حاصل ہوگی اور امریکا کا وہی مقام ہوگا جو ماضی میں سویت یونین کا تھا۔  آیئے !اب دوسرے اداروں کی طرف چلتے ہیں۔  یونائیٹڈ نیشن یا اقوام متحدہ حالانکہ اس وقت اس کا صحیح نام اقوام (غیر) متحدہ ہونا چاہیے، وہ اس لیے کہ ادارے نے چھوٹے ممالک کے مسائل سے غیریت برتی تو اس کے نتیجے میں اس کے رکن ممالک غیر متحدہ ہوگئے۔ اب یہ ادارہ اپنی بقا کا ڈھول پیٹ رہا ہے ورنہ سب کو پتہ ہے لیگ آف نیشنز کی طرح یہ بھی اپنی افادیت کھو چکا ہے بلکہ مرچکا ہے اور صرف مصنوعی تنفس کے ذریعے اس کو زندہ رکھا ہوا ہے، اگر آج یہ مصنوعی تنفس ہٹا دیا جائے تو نہ صرف موت کا اعلان ضروری ہوجائے گا کیونکہ یہ ادارہ اب باقاعدہ ’’بدبو‘‘ مارنے لگا ہے۔ اس بدبو کے باوجود اس کا پوسٹ مارٹم بہت ضروری ہے تاکہ موت کی وجوہات کا تعین اور باقاعدہ اعلان کیا جاسکے ،ورنہ وجوہات تو اس کے تمام مالکوں کے علم میں ہے۔ اعلان اس لیے ضروری ہے تاکہ اگر اس کے مردہ بطن سے ایک نئے وجود کو اگر زندگی دی بھی جائے تو کم از کم جمہوری روایات کو مقدم رکھا جائے اور ویٹو کی لامحدود طاقت چند مخصوص ممالک کو دینے کے جائے اس کو کچھ قاعدے، قرینے اور قانون کا پابند کیا جائے کیونکہ اسی میں اس یا آنے والے ادارے کی بقا ہے۔ عالمی بینک (World Bank) کی تاریخ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور بین الاقوامی معاشی استحکام کی ضرورت سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کا قیام جولائی 1944 میں امریکا کے شہر بریٹن وڈز (Bretton Woods) میں ہونے والی ایک کانفرنس کے نتیجے میں عمل میں آیا، جسے عام طور پر ’’بریٹن وڈز کانفرنس‘‘کہا جاتا ہے۔ اس کے قیام کا مقصد جنگ عظیم دوم کے بعد تباہ حال یورپی ممالک کی تعمیر نو اور ترقی پذیر ممالک میں معاشی ترقی کے لیے طویل مدتی قرضے فراہم کرنا قرار پایا، اگرچہ معاہدہ دسمبر 1945 میں طے پایا، لیکن بینک نے عملی طور پر 25 جون 1946 سے کام شروع کیا اور بینک کا پہلا قرضہ 25 کروڑ ڈالر تھا، جو فرانس کو دیا گیا۔ عالمی بینک گروپ پانچ بین الاقوامی اداروں پر مشتمل ہے جو ترقی پذیر ممالک کو مالی معاونت، تکنیکی مہارت اور سرمایہ کاری کے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے پورے نام درج ذیل ہیں۔ 1۔ بین الاقوامی بینک برائے تعمیر و ترقی (IBRD) ‘2۔ بین الاقوامی ترقیاتی انجمن (IDA) ‘3۔ بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن(IFC) ‘4۔ ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی(MIGA) ‘5۔ بین الاقوامی مرکز برائے تصفیہ سرمایہ کاری و تنازعات (ICSID)ورلڈ بینک: IBRD اور IDA کو مجموعی طور پر ’’ورلڈ بینک‘‘ کہا جاتا ہے۔ عالمی بینک گروپ: ان پانچوں اداروں کے مجموعے کو عالمی بینک گروپ کہتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ ادارے ترقی پذیر ممالک کی معاونت کے لیے قائم کیے گئے تھے لیکن درحقیقت اس وقت یہ عالمی ساہوکار کے حلیف اور گماشتے بن کر ترقی پذیر ممالک کے وسائل کو کنٹرول کرتے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کا قیام بھی جولائی 1944 میں بریٹن وڈز کانفرنس کے دوران عمل میں آیا اور اس کا باقاعدہ آغاز دسمبر 1945 میں ہوا۔ ان کے اغراض و مقاصد بھی وہی ہے، جس پر صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ ’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور۔‘‘  آپ یوں سمجھ لیجیے ، یہ تمام ادارے امریکا کے معاشی، سیاسی اور سفارتی ہتھیار ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ہالی وڈ امریکا کا ثقافتی ہتھیار ہے۔ اب جیسے جیسے ڈالر کمزور ہورہا ہے تو ان میں سے کچھ ہتھیار اپنی افادیت کھو رہے ہیں اور کچھ ہتھیار اب دشمن امریکا کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ آج تاریخ ایک دفعہ پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر بڈھا برطانیہ ’’گھر‘‘ جارہا تھا اور نوجوان امریکا اس کی جگہ لے رہا تھا۔ آج امریکا بڈھا ہوگیا ہے اور کون نوجوان اس کی جگہ لے رہا ہے وہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں، ہاں ایک اشارہ ضرور ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے وقت وہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ ان سب عالمی اداروں کے ایوان لرز رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کچھ ایوان گر بھی جائے کیونکہ عالمی ساہوکار میں بھی تبدیلی آرہی ہے کچھ پرانے ساہوکار جگہ چھوڑ رہے ہیں اور ان کی جگہ نئے ساہوکار جگہ لے رہے ہیں۔ اوپیک اور اوپیک پلس میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اوپیک (Organisation of the Petroleum Exporting Countries) پٹرول برآمد کرنے والے ممالک کی ایک عالمی تنظیم ہے، جس کی تاریخ تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں کے تعین اور پیداوار کے کنٹرول سے وابستہ ہے۔ اوپیک کا قیام ستمبر 1960 میں بغداد کانفرنس کے دوران عمل میں آیا۔ اس کے بانی اراکین میں ایران، عراق، کویت، سعودی عرب اور وینز ویلا شامل تھے۔ 2016 میں جب تیل کی قیمتوں میں شدید کمی آئی تو اوپیک ممالک نے دیگر غیر اوپیک تیل پیدا کرنے والے ممالک کے (جس میں روس سب سے اہم ملک ہے) ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اتحاد کو اوپیک پلس کہا جاتا ہے۔ اوپیک اور اوپیک پلس اب 2026 میں متحدہ عرب امارات کے اخراج جیسے بڑے چیلنج کا سامنا کررہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا چند دنوں کے نوٹس پر اوپیک اور اوپیک پلس چھوڑنے کا فیصلہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ نظام سے بغاوت کا فیصلہ تھا کیونکہ اوپیک پر سعودی بڑا سرمایہ دار ہے۔عربوں میں آپس میں اختلافات نئے نہیں ہیں۔ جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہورہا تھا تو شریف آف مکہ (حسین بن علی ہاشمی) نے اپنے تعاون کے بدلے میں مسلمانوں کی قیادت مانگی تھی۔ اس سے مقاصد تو حاصل کر لیے گئے لیکن قیادت نہیں دی گئی تھی کیونکہ مسلمانوں کی عالمی قیادت ختم کرنے پر اس وقت کی تمام عالمی طاقتیں متفق تھیں۔ چنانچہ حجاز کا علاقہ سعود کو دیا گیا کہ جس نے اپنے نام پر علاقے کا نام سعودی عرب رکھا اور شریف آف مکہ کی اولاد اس وقت اردن (Jordan) پر حکومت کررہی ہے۔ آنے والے دنوں میں کیا ہوتا ہے وہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ وہ کچھ ہونے جارہا ہے کہ جس کا کس کو بھی یقین نہیں تھا۔ یہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول بہت صادق آتا ہے کہ’’ میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا‘‘ اگر انسان اس سے سبق لینا چاہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل