Loading
قوموں کی تاریخ کے ماتھے پر کچھ لمحات ایسے تابندہ ستارے بن کر چمکتے ہیں جو محض گزرتے وقت کی چاپ نہیں ہوتے بلکہ وہ عصرِ رواں کا دھارا موڑنے والی ایک عظیم انقلابی لہر ثابت ہوتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لہو میں حرارت، شعور میں پختگی، شناخت میں وقار اور اجتماعی سوچ میں ہمالیہ جیسی بلندی پیوست کر دیتی ہیں۔
’’معرکۂ حق‘‘ بھی تاریخِ پاکستان کا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ ہماری غیرتِ ملی کا وہ درخشندہ استعارہ ہے جس نے دنیا کی دجالی اور فرعونی قوتوں پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی کہ یہ سرزمین محض نقشے پر کھینچی گئی چند لکیروں کا نام نہیں بلکہ یہ کروڑوں دھڑکتے دلوں کے ایمان، لازوال شجاعت، بے مثال قربانی اور وطن سے والہانہ عشق کا ایک مقدس پیمان ہے۔
اس معرکے نے ثابت کیا کہ جب جذبۂ حریت بیدار ہو، جب دلوں میں ایمان کی حرارت موجزن ہو اور جب قوم اپنے نظریے اور وطن کے دفاع کے لیے متحد ہو جائے تو مادی وسائل کی کمی کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ بحیثیت مسلمان ہماری نسبتیں بدر کے ان 313 جان نثاروں سے جا ملتی ہیں جنھوں نے کم وسائل کے باوجود حق کو باطل پر غالب کر کے رہتی دنیا تک یہ سبق دیا کہ فتح کا دار و مدار ہتھیاروں کی کثرت پر نہیں بلکہ ایمان، یقین، اتحاد اور قیادت پر ہوتا ہے۔
معرکۂ حق بھی اسی روحِ ایمانی کا تسلسل تھا جہاں پاکستانی قوم نے اپنی خودداری کا علم بلند کرتے ہوئے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ ہم ایک زندہ، باوقار اور سیسہ پلائی ہوئی قوم ہیں جو وطن کی حرمت پر کٹ مرنا جانتی ہے مگر سر جھکانا ہماری سرشت میں شامل نہیں۔
معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر پوری قوم فخر، اعتماد اور جذبۂ تشکر کے ساتھ ان عظیم لمحات کو یاد کر رہی ہے جب ہندوستان نے پاکستان کو چیلنج کرنے کی کوشش کی مگر اسے ایسا دندان شکن جواب ملا جس کی بازگشت آج بھی عالمی دفاعی، عسکری اور سفارتی حلقوں میں سنائی دے رہی ہے۔
اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس بار پوری قوم اور افواجِ پاکستان ’’بنیان مرصوص‘‘ بن کر سامنے آئیں گے۔ اس عظیم کامیابی کا سب سے بڑا کریڈٹ بلاشبہ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو جاتا ہے جن کی بصیرت افروز قیادت، غیر معمولی عسکری حکمتِ عملی، مضبوط اعصاب اور ایمانی بصیرت نے پاکستان کو ایک نئی دفاعی قوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے ابتدا ہی سے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان امن پسند ملک ضرور ہے مگر کمزور ہرگز نہیں۔ اگر کسی نے پاکستان کی سرحدوں، نظریے یا قومی سلامتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو اسے ایسا جواب دیا جائے گا جو تاریخ یاد رکھے گی۔
معرکۂ حق میں یہی عزم پوری قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے آیا۔ یہ جنگ صرف بارود، میزائلوں اور جنگی طیاروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ اعصاب، ٹیکنالوجی، حکمتِ عملی، سائبر وار، انٹیلی جنس اور قومی حوصلے کی جنگ بھی تھی۔ دنیا حیران رہ گئی جب صرف چند دنوں میں پاکستان نے دشمن کی عسکری برتری کے تمام دعوؤں کو خاک میں ملا دیا۔
بھارت جو اپنے جدید اسلحے، عالمی حمایت اور دفاعی طاقت پر ناز کرتا تھا، وہ خود اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب گیا۔
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اس معرکے میں جس پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور دلیری کا مظاہرہ کیا، اس نے جدید فضائی جنگ کی تاریخ میں نئی مثال قائم کر دی۔
پاک فوج نے بھی اپنی روایتی پیشہ ورانہ مہارت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی اہم عسکری تنصیبات، دفاعی نظام اور اسلحہ ڈپوؤں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ دشمن کی تمام تر منصوبہ بندی اور عسکری برتری کا غرور چند ہی لمحوں میں خاک میں مل گیا۔
پاکستان نے ثابت کر دیا کہ اس کے دفاعی ادارے ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ معرکۂ حق کا ایک انتہائی اہم پہلو سائبر اور کمیونیکیشن وار فیئر بھی تھا۔ پاکستانی ماہرین نے دشمن کے مواصلاتی نظام، انٹیلی جنس رابطوں اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کو اس قدر مؤثر انداز میں نشانہ بنایا کہ دشمن کے کئی حساس نظام مفلوج ہو کر رہ گئے۔
اس معرکے میں سب سے قابلِ فخر پہلو پاکستانی قوم کا اتحاد تھا۔ شہروں، قصبوں اور دیہات میں عوام اپنے جوانوں کے لیے دعائیں کرتے دکھائی دیے۔ مائیں اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان ہونے کی دعائیں دیتی رہیں۔ نوجوان سوشل میڈیا پر دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب دیتے رہے جب کہ بچے "پاکستان زندہ باد" کے نعروں کے ساتھ اپنے فوجی جوانوں سے محبت کا اظہار کرتے نظر آئے۔ پوری قوم ایک آواز، ایک سوچ اور ایک جذبے کے ساتھ افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ یہی قومی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ثابت ہوا۔
سوشل میڈیا سے لے کر عالمی سفارتی محاذ تک پاکستان کے نوجوانوں نے دشمن کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کیا اور دنیا کو حقیقت سے آگاہ کیا۔ معرکۂ حق کے بعد پاکستان کے مقدر کا ستارہ جس آب و تاب سے چمکا، دنیا اس کی گواہ ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کو نئی عزت، وقار اور اعتماد حاصل ہوا۔ وہی سبز پاسپورٹ جسے کبھی شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، آج عزت و احترام کی علامت بنتا جارہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک بالخصوص عالمِ اسلام کی اہم ریاستیں پاکستان کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعلقات مضبوط بنانے کی خواہش مند نظر آئیں۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اس بدلتی عالمی سوچ کا واضح ثبوت ہے۔ اس معاہدے نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی عسکری مہارت، دفاعی حکمتِ عملی اور جنگی صلاحیتوں پر عالمِ اسلام کو بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ معرکۂ حق کے بعد سفارتی میدان میں پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کیں، وہ بھی تاریخ کا روشن باب بن چکی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران جب دنیا کے بڑے بڑے ممالک خاموشی اختیار کیے بیٹھے تھے، پاکستان نے جراتمندانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کی قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک ایسی سفارتی کامیابی تھی جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ 1979کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک کی قیادت براہِ راست مذاکرات کے لیے آمنے سامنے بیٹھی اور اس کا سہرا پاکستان کے سر سج گیا۔
معرکۂ حق نے دنیا کو ایک نئے پاکستان سے روشناس کرایا ہے۔ ایسا پاکستان جو عسکری طور پر مضبوط، سفارتی طور پر باوقار، ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھتا ہوا، معاشی طور پر خوداعتماد اور قومی طور پر متحد ہے۔
یہ کامیابی صرف افواجِ پاکستان کی نہیں بلکہ پوری قوم کی کامیابی ہے۔ یہ اْن ماؤں کی کامیابی ہے جنھوں نے اپنے بیٹوں کو وطن پر قربان ہونے کا درس دیا، یہ اْن جوانوں کی کامیابی ہے جو سرحدوں پر سینہ سپر رہے، یہ اْن شہریوں کی کامیابی ہے جنھوں نے ہر مشکل وقت میں اتحاد کا مظاہرہ کیا اور یہ اْس قیادت کی کامیابی ہے جس نے قوم کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر فتح، وقار اور اعتماد کی نئی روشنی عطا کی۔
معرکۂ حق ہمیشہ تاریخ میں اس دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب پاکستانی قوم نے دنیا کو بتا دیا کہ ایمان، اتحاد، قربانی، حب الوطنی اور مضبوط قیادت سے سرشار قوموں کو شکست دینا ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان زندہ تھا، پاکستان زندہ ہے اور پاکستان ہمیشہ زندہ رہے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل