Saturday, May 09, 2026
 

معاشی منظر نامہ

 



آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری دے دی ہے، اس قسط کے حوالے سے پاکستان نے آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کیا اور باقی پورے کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی نئی منظوری سے پاکستان کے لیے 8.4 ارب ڈالر کے 2 مختلف قرض پیکیجز کے تحت موصول رقم 4.5 ارب ڈالر ہو گئی۔ نئے قرض میں1 ارب توسیعی فنڈ سہولت کے تحت جب کہ 20 کروڑ ڈالر لچک و پائیداری سہولت کے شامل ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق قرض کی رقم آیندہ ہفتے منتقل ہو گی جس سے اسٹیٹ بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے۔ اس طرح زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے پاکستان ایک مستحکم پوزیشن میں آگیا ہے۔ تاہم حکومت کو پرانے مالیاتی و زری اہداف کی سختی سے پابندی کرنا ہے۔ پاکستان نے یو اے ای کے قرض بھی واپس کیے ہیں، حالانکہ یہ خاصا دباؤ والا عمل تھا لیکن سعودی عرب نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ اب پاکستان کے پاس 17 ارب ڈالر سے بھی زائد زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں جس سے وہ اپنی مالیاتی ذمے داریاں ادا کرنے کے قابل ہے اور اس کے علاوہ دیگر مالیاتی اداروں اور ممالک سے قرضہ ملنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں تاہم معاشی حوالے سے ابھی حکومت کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ خلیج کی صورت حال کی وجہ سے پاکستان معاشی دباؤ کا شکار ہوا ہے۔ ملک میں بیروزگاری، غربت اور معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے ۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے جون تک اسٹیٹ بینک کے خالص زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالہ سے کارکردگی کے معیار میں تبدیلی کی بھی منظوری دی ہے، دسمبر2026 اور جون 2027 کے لیے کارکردگی کے نئے معیار بھی طے کیے گئے ہیں۔ امریکا ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی صورت حال خاصی تشویشناک ہے اس وجہ سے بھی جہاں دنیا معاشی طور پر متاثر ہو رہی ہے، پاکستان پر بھی معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کو کرائی گئی یقین دہانیوں میں اس جنگ کے پیدا کردہ معاشی جھٹکوں کے تدارک کے لیے بنیادی اقدامات شامل ہیں، جنگ سے قبل کے مالیاتی اہداف کی پابندی اور34 کھرب روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس کی بھی یقینی دہانی کرائی گئی ہے، اس کے لیے فاسٹ ٹریک اقدامات ہوں گے تاکہ ایف بی آر کا شارٹ فال پورا ہو سکے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ایک اور وعدے کے مطابق نیا بجٹ آئی ایم ایف کی مشاورت سے تیار ہو گا تاکہ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ بجٹ سخت مالیاتی اقدامات پر مبنی اور بلند معاشی نمو کے لیے کوشاں نہ ہو۔ حکومت نے آیندہ مالی سال کے لیے 28.4 کھرب روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس پر اتفاق کیا ہے، جو جی ڈی پی کے2 فیصد کے برابر ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسٹیٹ بینک پہلے ہی شرح سود بڑھا کر11.5 فیصد کر چکا اور مہنگائی زیادہ ہونے کی صورت میں اس میں مزید اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح حکومت نے پروگریسو ٹیرف ڈھانچہ برقرار رکھتے ہوئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ، کمزور طبقوں کو ٹیرف میں بڑے اضافے سے بچانے، شعبہ توانائی میں لاگت کی کمی کے لیے اصلاحات کی یقین دہائی کرائی ہے۔ ایک خبر کے مطابق مجموعی طور پر قبول کی گئی ایک درجن سے زائد شرائط میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق قومی اسمبلی سے نئے بجٹ کی منظوری اور اسپیشل اکنامک و ٹیکنالوجی زونز کی موجودہ مراعات کے2035ء تک بتدریج خاتمے کے لیے قوانین میں ترامیم بھی شامل ہیں۔ بہرحال آئی ایم کی جانب سے قسط کا ملنا پاکستان کی معیشت کے لیے بہتر ثابت ہو گا۔ پاکستان کے پاس وقت ہے کہ وہ اپنے اہداف کو درست کرے اور معیشت کی ترقی کے لیے قابل عمل اقدامات کرے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت سب سے بڑے دباؤ کا جو سامنا ہے، اس میں مہنگی توانائی سرفہرست ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے مینوفیکچرنگ خاصی مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اگلے روز بھی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کردیا جب کہ مٹی کا تیل سستا کر دیاگیا۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جس کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15روپے اور پٹرول کی قیمت میں 14روپے 92 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔ ڈیزل کی نئی قیمت 15روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگئی جب کہ پٹرول کی نئی قیمت 14روپے 92 پیسے فی لیٹر بڑھنے کے ساتھ 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں ایک ہفتہ کے لیے مقرر کی گئی ہیں، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے سے ہوگیا۔ اس سے قبل ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 399 روپے 58 پیسے اور پٹرول کی قیمت 399 روپے 86 پیسے تھی۔ یاد رہے کہ حکومت نے اس سے قبل 29 اپریل کو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کرکے نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر کی تھی۔ پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیاتھا جس کے بعد قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر رکھی گئی تھی۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق مٹی کا تیل 41 روپے 80 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا گیا۔ مٹی کے تیل کی اب نئی قیمت318 روپے 96 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ دوسری جانب ذرائع پٹرولیم ڈویژن کے مطابق پٹرول پر فی لیٹر لیوی 13 روپے 91 پیسے بڑھا دی گئی۔ پٹرول پر لیوی 103 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 117روپے41 پیسے فی لیٹر جب کہ ڈیزل پر لیوی 28روپے 69 پیسے سے بڑھ کر 42روپے 60 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی اضافہ کے حوالے سے حکومتی اعداد وشمار اپنی جگہ درست ہوں گے لیکن عملی صورت حال پر غور کیا جائے تو اس سے کاروباری سرگرمیاں خاصی متاثر ہوں گی۔ گڈز ٹرانسپورٹرز پہلے ہی کرایوں میں اضافہ کر چکے ہیں اور اب کرایوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ خاص طور پر تعمیراتی صنعت اس حوالے سے بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ تعمیراتی صنعت کی ان پٹس کی قیمتیں مزید بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں سست پڑ رہی ہیں۔ ادھر شہری ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت نے متوسط طبقے کو مہنگائی سے بچانے کے لیے سبسڈی کا طریقہ کار وضع کر رکھا ہے تاہم معاملات خاصے گھمبیر صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہریوں کو نجی ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈیزل، پٹرول اور ایل پی جی کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہونا لازمی امر ہے۔ ادھر متوسط طبقے کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ افراطِ زر کی شرح بھی خاصی بلند ہے۔ حکومت نے اپنا ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کا آسان راستہ پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے اختیار کر لیا ہے۔ حالانکہ اگر حکومت اپنے ٹیکس اہداف حاصل نہیں کر پا رہی تو اس میں ساری ذمے داری سرکار کے ان اداروں پر عائد ہوتی ہے جن کا کام ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کی شرح کے حوالے سے بھی خاصا شور وغوغا ہوتا رہتا ہے جب کہ ٹیکس نیٹ کا پھیلاؤ بھی نہیں ہو رہا۔ ملک میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کی وجہ سے بہت سے ادارے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔ حالانکہ ایسے اداروں کی آمدنی اربوں روپے میں ہے لیکن وہ کسی قسم کا کوئی ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔ اسی طرح اسمگلنگ کا نیٹ ورک پوری طرح متحرک ہے۔ اس وجہ سے بھی ریونیو میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اعلیٰ بیورو کریسی کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کالے دھن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جب کہ ٹیکس چوری بھی ہو رہی ہے۔ جب تک اسمگلنگ کا کاروبار بند نہیں ہوتا اور ٹیکس اکٹھا کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران کی کارکردگی چیک کرنے کا کوئی فول پروف میکنزم نہیں بنایا جاتا، ریونیو شارٹ فال جاری رہے گا۔ پاکستان میں بہت سے ایسے سیکٹر موجود ہیں جنھیں سبسڈی دے کر زندہ رکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح ایجوکیشن اور صحت کے حوالے سے بھی ٹیکسیشن کا سسٹم خاصا نرم ہے۔ جب تک پاکستان میں ٹیکس کا نظام طاقت ور طبقوں سے ٹیکس لینے کے قابل نہیں ہوتا، اس وقت تک پاکستان قرضوں سے نجات بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ اندرون ملک قرضوں کی ری شیڈولنگ، نجی قرضوں کی معافی یا انھیں مارک اپ وغیرہ سے مبرا کر دینا، ریونیو شارٹ فال کی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ پاکستان کے سسٹم کو زندہ رکھنے کے لیے نچلے اور درمیانے طبقے سے ان کی اہلیت، صلاحیت اور سکت سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جب کہ بڑے کاروباری طبقے، کارپریٹ ورلڈ اور دیگر بگ وگز مختلف حیلوں بہانوں سے ٹیکس نیٹ سے نکل جاتے ہیں۔ جب تک امراء سے پورا ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ملک کا ریونیو سسٹم خسارے کا شکار رہے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل