Saturday, May 09, 2026
 

دنیا تباہی کے دہانے پر

 



اس وقت دنیا کا نظام جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مترادف چل رہا ہے۔ افسوس اس امر پر ہے کہ عالمی طاقتیں کیوں لیگ آف نیشنز کے انجام کو سامنے نہیں رکھتیں۔ اس عالمی تنظیم کو ناکام بنانے میں اس وقت کی بڑی طاقتوں کا ہی اہم کردار تھا، وہ اپنی من مانی کر رہی تھیں اور لیگ آف نیشنز کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہی تھیں۔ حالانکہ وہ تنظیم دنیا کے تمام چھوٹے بڑے یا طاقتور اور کمزور ممالک کی فلاح و بہبود اور دنیا سے جنگیں ختم کرکے امن و امان اور ترقی کا بول بالا کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی مگر محض بڑی طاقتوں کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے دوسری جنگ عظیم کو نہ روکا جا سکا اور پھر وہ اس جنگ کے ساتھ ہی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے بڑی طاقتوں کو احساس ہوا کہ ان کی من مانیوں کی وجہ سے لیگ آف نیشنز ایک ناکام ادارہ ثابت ہوا ہے چنانچہ انھوں نے امن عالم کے لیے ایک نئی تنظیم کے قیام کا فیصلہ کیا ،اس لیے کہ دنیا کا نظام بغیر کسی عالمی تنظیم کے نہیں چل سکتا جو تمام ممالک پر نظر رکھے اور دنیا میں امن و امان اور انسانی خدمت اور ترقی کے لیے کام کرے اور پھر وہی ممالک جن کی من مانی کی وجہ سے لیگ آف نیشنز ختم ہوئی تھی، ایک نئی عالمی تنظیم کے قیام کے لیے سرگرم عمل ہو گئے۔ پھر 24 اکتوبر 1945 کو یونائیٹڈ نیشنز یعنی اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہاں بڑی طاقتوں نے ویٹو کا حق اپنے پاس رکھا یعنی کہ وہ دنیا کے کسی معاملے کو اگر اپنے حق میں ناپسندیدہ سمجھیں تو اسے اپنے ویٹو کے استعمال سے ختم کرا سکتے تھے۔ بس اسی ویٹو کے حق نے دراصل اس نئی تنظیم کو بھی لیگ آف نیشنز جیسا بنا دیا اور پھر دنیا کے پانچ بڑے ممالک نے ویٹو کا حق حاصل کرکے اسے اپنے گھر کی باندی بنا لیا، اب وہی اسے اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں ،اسی وجہ سے یہ تنظیم اس وقت اپنی اہمیت کھو چکی ہے ، جب چاہے ویٹو پاورز اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کر لیتے ہیں اور یوں یہ ادارہ ایک ناکارہ ادارہ بن چکا ہے۔ یہ ادارہ بڑی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ تو کر رہا ہے مگر چھوٹے ممالک کے لیے اس میں کوئی کشش باقی نہیں رہی ہے۔ لگتا ہے اسے بعض ممالک جان بوجھ کر ناکارہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں تاکہ وہ اپنی من مانی کرکے اپنے مفادات حاصل کرسکیں۔ دنیا میں بعض ایسے مسائل ہیں جو برسوں سے حل طلب ہیں مگر وہ حل نہیں ہو پا رہے ہیں کیونکہ طاقتور ممالک انھیں حل نہیں ہونے دینا چاہتے، اب جیسے کہ جموں کشمیر کے عوام کی حق خود ارادیت کا مسئلہ 1948 سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ سلامتی کونسل کشمیریوں کے حق میں کئی قراردادیں پاس کر چکی ہے مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا ہے ان قراردادوں کے خلاف روسی حکومت اپنا ویٹو کا حق استعمال کر چکی ہے جس سے بھارت جیسے جارح اور ہوس ملک گیری میں مبتلا ملک کو بہت فائدہ ہوا ہے، وہ تقریباً 78 برس سے جموں کشمیر پر قابض ہے اور وہاں کے عوام کی آزادی کو اپنے پیروں تلے روند رہا ہے۔ اسی طرح اسرائیل فلسطینیوں کے حق خود ارادی کو اپنی طاقت سے روند رہا ہے اور دنیا بے بس ہے کیونکہ امریکا بہادر اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل دونوں ہی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی منحرفین ہیں مگر افسوس کہ ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی جاتی کیونکہ اسرائیل کی پشت پناہی پر امریکا ہے اور بھارت روس کا اسٹرٹیجک پارٹنر بنا ہوا ہے ،ایسی صورت حال میں دنیا میں امن و انصاف کا کیسے بول بالا ہوگا، جبر اور ظلم کا نظام کیسے ختم ہوگا۔ یہ تو خیر اقوام متحدہ کی پرانی کہانی ہے جو نہایت درد ناک ہے اور جس میں چھوٹی اقوام کے لیے سوائے ذلت کے کچھ نہیں ہے ان کی غربت کا آج بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔البتہ ترقی یافتہ ممالک دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ ایک نمائشی ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ امریکا جس ملک کو ناپسند کرتا ہے اس پر پابندیاں عائد کر دیتا ہے۔ اس نے تو روس کو بھی نہیں بخشا ہے اس پر بھی مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں حتیٰ کہ اس کے کئی ممالک کے بینکوں میں جمع رقم کو نکالنے کی بھی ممانعت کر رکھی ہے۔ مگر روس کا یہ حال ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے خلاف نہیں جاتا بلکہ انھیں خوش دلی سے قبول کر لیتا ہے، مگر قدرت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں حال ہی میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر صرف اس لیے حملہ کر دیا تھا کہ امریکا کو شک ہے کہ ایران ایٹمی اسلحہ تیار کر رہا ہے۔ حالاں کہ اس کے جوہری بم سے امریکا کو کوئی گزند نہیں پہنچنے والی ہے ایران اپنے مجوزہ بم سے صرف اسرائیل کو ہی اس کی توسیع پسندانہ اور فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کا مداوا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے مگر امریکا نے تو پہلے سے ہی اس پر ایٹم بم بنانے پر پابندی لگا رکھی ہے اور اب تو اس نے ایران کی یورینیم افزودگی کرنے والی لیبارٹری کو ہی تباہ کر دیا ہے مگر اس کے بعد بھی اس کی تشفی نہیں ہوئی ہے چنانچہ اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا تھا مگر یہاں امریکا کو بہت ذلت اٹھانا پڑی ہے۔ ایرانی قوم نے امریکا اور اسرائیل کو کراری شکست سے دوچار کر دیا ہے ۔اس پر اب دنیا بھر میں امریکی فوجی برتری کی پول کھل گئی ہے۔ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا نہ صرف مردانہ وار مقابلہ کیا ہے بلکہ انھیں بہت نقصان پہنچایا ہے چنانچہ اب امریکا اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور اس کی بحری ناکہ بندی کر دی ہے جو یقینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے اسے پوری دنیا میں بحری قزاق کا خطاب دیا جا رہا ہے۔ امریکا کی طاقت کا سحر ٹوٹنے کے بعد اب چین نے دبنگ فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں امریکا نے چین پر پابندی لگا دی ہے کہ وہ روس اور ایران سے تیل نہیں خرید سکتا۔ چین نے اس امریکی پابندی کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اس کا اپنا ملکی قانون ان ممالک سے تیل اور گیس خریدنے سے نہیں روکتا چنانچہ وہ ان ممالک سے تجارت جاری رکھے گا اور امریکی دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ چین کے اس دبنگ اقدام سے دنیا کے دوسرے ممالک کو بھی ہمت پکڑنا چاہیے اور امریکا کی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے اگر ایسا ہوا تو یقینا دنیا کا ماحول سدھر سکتا ہے ایک طرف اقوام متحدہ کی اہمیت بڑھے گی تو دوسری جانب بڑے ممالک خاص طور پر امریکا کی اجارہ داری اور دھونس دھاندلی کو لگام دی جاسکے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل