Loading
دنیا ایک تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ عالمی سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی، جنگی حکمتِ عملی، سفارت کاری اور میڈیا… ہر شعبہ ایک نئے رخ پر کھڑا ہے۔ وہ عالمی نظام جسے کبھی مستقل سمجھا جاتا تھا، اب لرزتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں، نئی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں اور چھوٹے و درمیانے ممالک اپنی بقا اور مفادات کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار ہے؟گزشتہ چند برسوں میں دنیا نے غیرمعمولی واقعات دیکھے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل انقلاب نے معیشت، تعلیم، صحافت اور روزگار کے روایتی ڈھانچے ہلا کر رکھ دیے ہیں۔ دنیا اب صرف ہتھیاروں سے نہیں، معلومات، ٹیکنالوجی اور معیشت سے بھی چل رہی ہے۔
پاکستان ایک اہم جغرافیائی محلِ وقوع رکھنے والا ملک ہے۔ چین، وسطی ایشیا، خلیجی ریاستوں اور جنوبی ایشیا کے درمیان واقع پاکستان ہمیشہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے مگر صرف جغرافیہ کسی قوم کو طاقتور نہیں بناتا، اصل قوت سیاسی استحکام، معاشی خود انحصاری، ادارہ جاتی مضبوطی اور قومی وژن سے پیدا ہوتی ہے۔
یہی وہ شعبے ہیں جہاں پاکستان کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ پاکستان اس وقت کئی داخلی اور خارجی چیلنجز سے دوچار ہے۔ معیشت مسلسل دباؤ میں ہے، مہنگائی نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے، نوجوان بے روزگاری اور غیریقینی مستقبل کا شکار ہیں جب کہ سیاسی کشیدگی نے قومی یکجہتی کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب دہشت گردی کی نئی لہر اور علاقائی عدم استحکام بھی ریاستی ترجیحات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی کی صورت میں ایک بڑی قوت موجود ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں بوڑھی ہو رہی ہیں جب کہ پاکستان کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
اگر یہی نوجوان معیاری تعلیم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور ہنر سے آراستہ ہو جائیں تو پاکستان خطے کی ایک بڑی معاشی قوت بن سکتا ہے۔ فری لانسنگ، آئی ٹی ایکسپورٹ، ڈیجیٹل میڈیا اور اسٹارٹ اپ کلچر نے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام ابھی تک بیسویں صدی کی سوچ کے مطابق چل رہا ہے جب کہ دنیا اکیسویں صدی کے تقاضوں میں داخل ہو چکی ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے کئی مواقع پر ذمے دار سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے اور خود کو ایک معتدل، رابطہ کار ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو Climate Change سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی آلودگی میں اس کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیلاب، پانی کی قلت، زرعی بحران اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت مستقبل کے بڑے خطرات ہیں۔
اگر ابھی سے سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ قومی سلامتی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔میڈیا کا کردار بھی اس نئی دنیا میں انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ اطلاعات کی جنگ اب روایتی جنگوں سے زیادہ طاقتور ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے بیانیے کی طاقت عوام کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ پاکستان کو ذمے دار، تحقیق پر مبنی اور قومی مفاد کے مطابق میڈیا کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔
دنیا واقعی بدل رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کے لیے کتنے تیار ہیں۔ قومیں صرف وسائل سے نہیں، وژن، نظم و ضبط، تعلیم، انصاف اور اجتماعی شعور سے ترقی کرتی ہیں۔ پاکستان کے پاس مواقع بھی ہیں اور صلاحیت بھی، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی ترجیحات کو وقتی سیاست سے بلند ہو کر طویل المدتی قومی مفاد کے مطابق ترتیب دیا جائے۔
دنیا بدل رہی ہے۔ اب فیصلہ پاکستان کو کرنا ہے کہ وہ اس تبدیلی کا حصہ بننا چاہتا ہے یا اس کے پیچھے رہ جانا چاہتاہے۔ پاکستان اگر بدلتی ہوئی دنیا میں ایک باوقار، مستحکم اور بااثر ریاست بننا چاہتا ہے تو اسے وقتی سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر ایک جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔
دنیا اب صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، تعلیم، سفارت کاری اور ادارہ جاتی استحکام سے چلتی ہے۔ پاکستان کو درج ذیل بنیادی شعبوں میں سنجیدہ اور مسلسل اقدامات کرنا ہوں گے:
1۔ تعلیم کو قومی ایمرجنسی قرار دینا ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ جدید سائنسی اور تکنیکی تعلیم کو فروغ دے۔اسکول سے یونیورسٹی تک Critical Thinking سکھائی جائے۔
2۔ معیشت کو سیاسی نعروں سے آزاد کرنا جو گا۔ مستقل قرضوں اور IMF پروگرامز پر چلنے والی معیشت مضبوط خارجہ پالیسی نہیں چلا سکتی۔برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔
غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرنا ہوں گے۔ معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں، عوامی اعتماد سے بھی چلتی ہے۔3۔ سیاسی استحکام اور قومی مکالمہ ضروری ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ملک مسلسل سیاسی تصادم کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتا۔
سیاسی برداشت پیدا کرنا ہوگی۔قومی مفادات پر Charter of Economy جیسا اتفاق ہونا چاہیے۔اداروں کو آئینی حدود میں مضبوط کیا جائے۔ پارلیمنٹ کو مؤثر بنایا جائے۔4۔ خارجہ پالیسی میں توازن اور جذبات کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر خارجہ پالیسی چلانی ہوگی۔
امریکا اور چین دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات، خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی تعاون، وسطی ایشیا سے تجارتی روابط، ایران اور افغانستان کے ساتھ حقیقت پسندانہ پالیسی کو اپنانا ہوگا۔ آج کی دنیا میں کامیاب ریاستیں ’’Bridge States‘‘ بنتی ہیں، محاذ آرائی نہیں کرتیں۔
5۔ نوجوانوں کو بوجھ نہیں، قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ:نوجوانوں کو روزگار اور skills دی جائیں۔ مایوس نوجوان کسی بھی معاشرے کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں جب کہ بااختیار نوجوان قوم کی طاقت ہوتے ہیں۔6۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کو قومی شعور کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ اطلاعات کی جنگ اب اصل جنگ بن چکی ہے، پاکستانی میڈیا کوتحقیق اور ذمے داری پر مبنی صحافت کی طرف جانا ہوگا۔
قومی بیانیہ جذبات سے نہیں، شعور سے بنتا ہے۔7۔ موسمیاتی تبدیلی کو سیکیورٹی ایشو سمجھنا ہوگا۔ آنے والے برسوں میں پانی، خوراک اور ماحولیات سب سے بڑے چیلنج بن سکتے ہیں۔
پاکستان کو پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے بنانے ہوں گے۔ شجرکاری کو مستقل قومی مہم بنانا ہوگا۔صاف توانائی (Solar/Wind) کی طرف جانا ہوگا۔
8۔ قانون کی حکمرانی اور انصاف۔ دنیا سرمایہ وہاں لاتی ہے جہاں انصاف، استحکام اور شفاف نظام ہو۔پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، جغرافیہ بھی، صلاحیت بھی اور نوجوان قوت بھی۔ آج دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔
یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ سنجیدہ قومی سوچ کا ہے۔ اگر پاکستان نے تعلیم، معیشت، ٹیکنالوجی، انصاف اور قومی یکجہتی پر توجہ دی تو آنے والی دہائی اس کے لیے سنہری ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل