Loading
بھارت کے پانچ حالیہ ریاستی انتخابات میں سب سے زیادہ چونکا دینے والے نتائج مغربی بنگال سے سامنے آئے۔ نتائج سے بھی زیادہ ہلچل ان الزامات نے مچائی جو انتخابی عمل، ووٹر لسٹوں اور انتخابی اداروں کی غیرجانبداری پر لگائے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے دعویٰ کیا کہ صرف مغربی بنگال میں تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کے نام خصوصی نظرثانی مہم کے دوران فہرستوں سے نکالے گئے، جن میں لگ بھگ 30 لاکھ نام انتخاب سے کچھ عرصہ پہلے حذف کیے گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی کی مجموعی انتخابی ووٹوں کی برتری بھی تیس لاکھ کے لگ بھگ رہی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ متاثرہ ووٹرز کی بہت بڑی تعداد مسلم اکثریتی اضلاع سے تعلق رکھتی تھی۔
معروف بھارتی صحافی عارفہ خانم شیروانی نے اسے ’’خاموش سیاسی بے دخلی‘‘ قرار دیا، جب کہ جوگیندر یادیو جیسے سینئر سیاسی تجزیہ کار نے مسلسل اس خدشے کا اظہار کیا کہ کیا بھارتی الیکشن کمیشن اب بھی وہی غیرجانبدار ادارہ ہے جس پر کبھی دنیا اعتماد کرتی تھی؟ یہی وجہ ہے کہ حالیہ انتخابات صرف نشستوں کا معرکہ ہی نہیں بلکہ بھارتی جمہوریت کی ’’سمت‘‘ پر ایک ریفرنڈم ثابت ہوا۔
اب بی جے پی براہِ راست یا اتحادی شکل میں بھارت کی تقریباً 78 فیصد ریاستوں پر اقتدار میں ہے۔ یہ بھارت جیسے کثیر الجہتی اور متنوع ملک میں سیاسی طاقت کا غیرمعمولی ارتکاز ہے۔ فرانسیسی سیاسی ماہر کرسٹوف جیفریلو اور جائلز ورنیئر کئی برسوں سے اس نکتے پر لکھ رہے ہیں کہ بھارت اب روایتی ملٹی پارٹی جمہوریت سے ’’ون پارٹی ڈومیننٹ سسٹم‘‘ کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں انتخابات تو ہوتے ہیں مگر ریاستی طاقت، میڈیا بیانیہ اور قومی شناخت ایک ہی سیاسی طاقت کے پابند لگتے ہیں۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ گزشتہ دس برسوں میں بھارتی سیاست کا مزاج بنیادی طور پر تبدیل ہوا ہے۔ کبھی انتخابات ترقی، غربت، روزگار اور کسانوں کے گرد گھومتے تھے۔ اب سیاست کی زبان بدل چکی ہے۔ اب مذہبی شناخت، قوم پرستی، تاریخی واقعات کا یکطرفہ بیانیہ اور جذباتی نعروں کی سیاست زیادہ طاقتور ہے۔
اس تبدیلی کا ایک مظہر تامل ناڈو کے نتائج بھی ہیں۔ وہاں مارکسسٹ جماعت تقریباً ایک نشست تک محدود ہو گئی، جب کہ ایک فلمی اداکار نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہ محض صوبائی نہیں بلکہ پورے بھارت میں نظریاتی سیاست کے سکڑنے کی علامت ہے۔
جوگیندر یادیو کے مطابق بھارتی بایاں بازو نئی نسل کی نفسیات سمجھنے میں ناکام رہا۔ وہ اب بھی 70 کی دہائی جیسی طبقاتی سیاست کی زبان بولتا ہے جب کہ نئی سیاست مذہب، میڈیا، شناخت اور جذبات کے گرد گھوم رہی ہے۔
اسی طرح کانگریس کی محدود انتخابی وقعت بھارت کے بدلتے سیاسی منظرنامے کی قابل غور حقیقت ہے۔ کبھی پورے بھارت پر حکمرانی کرنے والی جماعت اب صرف دو ریاستوں تک محدود ہو چکی ہے۔ سیاسی مبصر پرتاپ بھانو مہتا اور زویا حسن کے مطابق کانگریس نہ تو ہندو قوم پرستی کا واضح جواب دے سکی اور نہ ہی نئی نسل کے لیے کوئی نیا سیاسی وژن پیش کر سکی۔
دوسری طرف بی جے پی نے عوام کی سیاسی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے فلاحی اسکیموں، مضبوط تنظیم، مذہبی بیانیے اور میڈیا طاقت کو یکجا کر کے ایک مضبوط نیا سیاسی ماڈل قائم کیا۔اس پورے عمل میں بھارتی میڈیا کا کردار شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔
بھارتی میڈیا کے بڑے حصے پر بی جے پی کا اثر و رسوخ واضح ہے جس کے لیے طنزاً گودی میڈیا کی ترکیب بھی استعمال کی جاتی ہے۔ آزاد صحافی رویش کمار سمیت کئی دیگر صحافی بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ بھارتی ٹی وی چینلز کا بڑا حصہ اب حکومت سے سوال پوچھنے کے بجائے قوم پرستانہ بیانیے کو آگے بڑھانے پر مامور ہے۔
پرائم ٹائم مباحثوں میں بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں یا ادارہ جاتی بحران سے زیادہ مسلمان، پاکستان، مندر، قوم پرستی اور ’’اینٹی نیشنل‘‘ جیسے موضوعات حاوی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت جیسے وسیع اور متنوع ملک میں اختلافی آوازوں کے لیے جگہ مسلسل سکڑ رہی ہے۔
حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں، طلبہ، سماجی کارکنوں اور اپوزیشن رہنماؤں کو قانونی، مالی یا انتظامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ناقدین اب بھارت کو ’’الیکٹورل آٹو کریسی‘‘ یا ’’کمپیٹیٹو اتھارٹیرینزم‘‘ جیسے الفاظ سے بیان کرنے لگے ہیں۔ یعنی ایسا نظام جہاں انتخابات تو ہوں مگر سیاسی میدان سب کے لیے یکساں نہ ہو یعنی level playing field نہ ہو۔
شاید سب سے اہم اور تشویشناک پہلو اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا ہے۔ بھارت کے تقریباً25 کروڑ مسلمان آج خود کو سیاسی طور پر پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ محسوس کرتے ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی، ووٹر لسٹ تنازعات اور مسلسل مذہبی پولرائزیشن نے اس احساس کو گہرا کیا ہے کہ بھارتی سیاست میں نفرت اور دشمنی کے لیے مسلمان مستقل نشانہ ہیں لیکن عملی سیاست میں سرگرم اور جائز کردار سے محروم کیے جا رہے ہیں۔
آج بھارت ایک نئے سیاسی موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف بی جے پی کی غیرمعمولی انتخابی طاقت، کمزور اپوزیشن، سکڑتی بائیں بازو کی سیاست اور میڈیا پر غلبہ ہے۔ دوسری طرف انتخابی اداروں پر بڑھتے سوالات، مذہبی تقسیم اور اقلیتوں کے اندر بڑھتا عدم تحفظ ہے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جمہوریتیں اکثر ایک ہی جھٹکے سے نہیں ٹوٹتیں۔
وہ آہستہ آہستہ اپنا اندرونی توازن کھو دیتی ہیں۔ جب انتخابی میدان ایک فریق کے لیے زیادہ مضبوط ہو جائے، اپوزیشن مسلسل کمزور پڑتی جائے، ادارے مستقل طاقت کے مرکز کے تسمہ پا بن جائیں، میڈیا میں یک رخی بیانیہ غالب ہو جائے اور معاشرے کے کچھ طبقات خود کو بتدریج غیرمتعلق محسوس کرنے لگیں تو جمہوریت اپنی شکل برقرار رکھتے ہوئے بھی اپنی روح کھونے لگتی ہے۔ یہی وہ خاموش تبدیلی ہے جو آج بھارت کے حالیہ انتخابات کے تناظر میں ایک بار پھر سامنے ہے۔
پاکستان کے لیے بی جے پی کی انتخابی سیاست پر مزید گرفت پاکستان دشمنی اور نفرت کے تسلسل کا پیش خیمہ ہے۔ گزشتہ سال پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی حیرت انگیز مہارت اور جوابی کارروائیوں نے بھارت کے عالمی امیج کو شدید نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب پاکستان نے دنیا میں اپنی سفارتی اور ڈیفنس پوزیشن مستحکم کی ہے۔
بھارت کو یہ کامیابی بھی ہضم نہیں ہو رہی۔ امریکا ایران میں کامیاب ثالثی پر بھارتی میڈیا اور حکومت کی دیوانگی اور نفرت دیدنی تھی۔ ایک پاکستان ہی کیا، بھارت کے بنگلہ دیش ، نیپال اور سری لنکا کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہیں۔ حالیہ انتخابی معرکے بالخصوص مغربی بنگال میں انتخابی کامیابی نے بی جے پی اور نریندر مودی کو نفرت اور تقسیم کی سیاست کا مزید ایمونیشن فراہم کیا ہے جو پورے خطے کے لیے اچھا شگون نہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل