Saturday, May 09, 2026
 

میدان صحافت کے نئے شہ سواروں کے نام

 



ہمارے یہاں وہ صحافی جو عوام الناس سے برائے راست رابطہ رکھے اور سیاسی یا صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے جیل چلا جائے اسے عمومی طور پر بڑا صحافی تصور کیا جاتا ہے ایک بڑے اور باصلاحیت صحافی کو جانچنے کا یہ پیمانہ درست نہیں۔ میری ذاتی رائے میں ایک باصلاحیت اور بڑا صحافی وہ ہے جس کو صحافتی امور میں مہارت حاصل ہو اور وہ اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرتا ہو۔ ایک اچھے صحافی میں کن خوبیوں کا ہونا ضروری ہے، آئیے!اس بات کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلے ایک صحافی کا مطالعہ وسیع ہونا چاہیے وہ گرد و پیش کے حالات سے مکمل طور پر باخبر ہو، ابلاغ کی صلاحیت رکھتا ہو، صحافی جس زبان میں لکھتا ہو اسے اس زبان پر عبور حاصل ہو، وہ جو کچھ لکھے وہ معیاری تحریر کی صورت میں پیش کرنے پر قدرت رکھتا ہو۔ جو کچھ لکھے دیانت داری کے ساتھ لکھے، کسی خوف، دباؤ اور دھمکی کی وجہ سے اپنی رائے تبدیل نہ کرے یعنی دلیر اور نڈر ہو۔ پسند اور ناپسند یا ذاتی تعصب سے ہرگز متاثر نہ ہو، تحریر میں منطق اور استدلال ہونا چاہیے، اختلاف کرے تو اس میں تنگ نظری کا تاثر نہ ہو، اتفاق کرے تو خوشامد پر نہ اتر آئے یعنی خوشامد، چاپلوسی اور قصیدہ گوئی سے گریز کرے جو بات مثبت یا منفی ہو اس کا برملا اظہار کرے۔ ایک صحافی کسی بھی نظریے یا فکر سے تعلق رکھتا ہو اسے بہ طور صحافی وسیع نظر ہونا چاہیے۔ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے ہر نقطہ نظر کو نمائندگی دے، اس سے اس کی تحریر نہ صرف دلکش بلکہ پراثر ہو جائے گی۔ ایک صحافی کو باکردار ہونا چاہیے، اسے کبھی مصالحت کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور نہ کبھی اصولوں پر سمجھوتہ کرنا چاہیے۔ یہ ساری خوبیاں ایک صحافی میں جمع نہیں ہو سکتیں، اس میں کچھ تو لازمی ہونی چاہئیں۔ سوچیے جب چراغ میں تیل ہی نہ ہو تو چراغ جلے گا کیسے؟ اس لیے ایک صحافی میں ان صفات کا ہونا ضروری ہے۔ ماضی میں ہم دیکھتے ہیں کہ صحافت ایک مشن اور اعلیٰ انسانی اقدار کی امین تھی۔ مولانا آزاد، حسرت موہانی، محمد علی جوہر، مولانا مودودی، فیض احمد فیض اور دیگر مفکر اور دانشور اس شعبے سے وابستہ رہے ہیں، ان کے اپنے اپنے اخبارات تھے، یہ لوگ صحافی ہی نہیں بلکہ سیاسی رہنما بھی تھے، اب ایسا نہیں ہے۔ اب صحافت مشن کے بجائے تجارت اور صنعت کا روپ دھار چکی ہے۔ اب نہ صرف بیشتر اخباری مالکان بلکہ صحافی بھی اپنا معیار زندگی بہتر بنانے کی فکر میں مبتلا اور اس کی دوڑ میں شامل نظر آتے ہیں، نتیجہ صحافت کا معیار گر گیا ہے، اب اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ مالی مفادات کا حصول ہے۔ اس عنصر کو ختم کیے بغیر صحافت کے معیار کو بلند نہیں کیا جاسکتا۔ اب آئیے ان مشکلات کی طرف جن کا صحافی عمومی طور پر سامنا کرتے ہیں۔ صحافیوں کو ہمہ وقت دو طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف پرکشش ترغیبات تو دوسری طرف دھونس، دھمکیاں اور دباؤ۔ یہ وہ عوامل ہیں جن میں صحافی خود کو ان شکنجوں میں جکڑا ہوا محسوس کرتا ہے جن سے اس کی پیشہ وارانہ صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اخبارات کی اقتصادی مشکلات اور حکومتی قوانین بالخصوص اشتہارات پر حکومتی کنٹرول ایسے عوامل ہیں جو صحافیوں کو سچ کے اظہار سے روکتے ہیں، جس کی وجہ سے صحافی اپنی آزادی برقرار نہیں رکھ پاتے جس کے نتیجے میں صحافی کو اخبارات کے مالک کے استوار کیے خطوط اور پالیسی پر چلنا ہوتا ہے جس سے ان کی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے۔ لکھنا ایک محنت طلب کام ہے اس میں جگر کو خون اور پتے کو پانی کرنا ہوتا ہے، آج کل صحافیوں میں محنت کا فقدان نظر آتا ہے جس کی وجہ سے صحافت کا معیار گر گیا ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں صحافت مثالی نہیں رہی ہے ہر ملک کے لوگ صحافت کے کردار سے کافی حد تک غیر مطمئن نظر آتے ہیں، یہی حال پاکستان کی صحافت کا بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کے معیار کو بہتر کیسے بنایا جائے؟  میری ذاتی رائے میں اچھی صحافت نفع و نقصان سے بے نیاز ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود صحافت کے کاروباری پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اخبارات ہوں یا نیوز چینلز ان کے بڑے اخراجات ہوتے ہیں جن کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے اسے ایک حد تک تجارتی ہونا چاہیے لیکن اولین حیثیت مشن اور اعلیٰ انسانی اقدار کو ہی حاصل ہونی چاہیے۔ تحریر میں دعویٰ، دلیل اور نتائج لکھتے وقت دوسروں کے نقطہ نظر کو بھی سامنے لائیں، کون درست ہے اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑ دیں۔ حالات مشکل اور نامناسب ہوں تو اپنے موقف سے دست بردار نہ ہوں بلکہ اپنے موقف کو نرم الفاظ میں پہنچانے کی کوشش کریں، اپنی ذاتی رائے ٹھونسنے کی کوشش سے گریز کریں، اگر ذاتی رائے کا اظہار ضروری ہو تو اس کا اظہار ادارے میں کیا جائے۔ کسی گروہ، طبقے کو ہدف نہ بنایا جائے، جس سے اس طبقے کے جذبات مجروح ہوں، ان کے مذہبی اور ثقافتی احساسات کا خیال رکھیں، جب تک کسی کا جرم عدالت میں ثابت نہ ہو جائے اسے بہ طور مجرم بنا کر پیش نہ کیا جائے، اس کا اس کی ذاتی زندگی پر منفی اثر ہوتا ہے۔ اس لیے اس سے گریز ضروری ہے۔  صحافی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے، تحریر میں مزاح ہو تو جزوی ہونا چاہیے، کلی طور پر طنز و مزاح لکھنے سے گریز ضروری ہے۔ سوالات گفتگو کا ایندھن ہیں، ہم اس کے ذریعے علمی حوالے سے وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں اس لیے سوالات کی عادت اپنائیے۔ کسی موضوع کو تحریر کے لیے انسانی مشاہدے کے ساتھ ساتھ مطالعہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے مطالعہ کی عادت کبھی ترک نہ کریں۔ اخبارات میں لکھے جانے والے اداریے، تبصرے اور تجزیے پڑھتے رہیے۔ یہ آپ کو حالات سے باخبر رہنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور آپ کی سوچ کا دائرہ بھی وسیع کرتے ہیں۔ جو لوگ اپنی عام زندگی میں بھی اپنی اصل شخصیت کے ساتھ بات کرتے ہیں، وہ اپنی غلطی مان لیتے ہیں، وہ اپنے آپ کو درست ہونے پر زور نہیں دیتے۔ دنیا ان پر زیادہ بھروسہ کرتی ہے، جہاں بات درست ثابت نہ ہو اس کا اعتراف کر لینا چاہیے۔ آخر میں ایک مفکر کا قول درج کروں گا، اے بی وائٹ کا قول ہے ’’جو شخص لکھنے کے لیے مناسب وقت کے انتظار میں ہوتا ہے وہ کچھ لکھے بغیر اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔‘‘ اس لیے لکھیے اور ضرور لکھیے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل