Sunday, May 10, 2026
 

ایران کی آبنائے ہرمز میں کسی یورپی جنگی بحری جہاز کی تعیناتی پر فیصلہ کن کارروائی کی دھمکی

 



ایران نے آبنائے ہرمز میں یورپی ممالک کی جانب سے ملیٹری بحری جہاز تعینات کیے جانے پر فیصلہ کن اور فوری ردعمل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں سیکیورٹی برقرار رکھنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے یہ بیان فرانس اور برطانیہ کی جانب سے خطے میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کے اعلان کے بعد جاری کیا ہے۔ کاظم غریب آبادی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ ہو یا امن اس آبنائے میں صرف ایران سیکیورٹی برقرار رکھ سکتا ہے اور اس طرح کے معاملات میں کسی بھی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس نے اپنا فلیگ شپ طیارہ بردار بحری جہاز شارل ڈی گال بحیرہ احمر اور خلیج عدن بھیجنے کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانیہ نے مبینہ طور پر جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت برقرار رکھنے کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی نائب وزیرخارجہ نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف خطے سے باہر کے جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی اور موجودگی، چاہے اسے جہازوں کے تحفظ کا نام دیا جائے، دراصل بحران کو مزید بڑھانے، ایک اہم آبی گزرگاہ کو عسکری شکل دینے اور خطے میں عدم استحکام کی اصل وجوہات پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بحری سیکیورٹی محض فوجی طاقت کے مظاہرے سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی، خصوصاً ان ممالک کی جانب سے جو حمایت، شرکت یا جارحیت اور ناکہ بندی پر خاموشی اختیار کر کے خود بھی مسئلے کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ طاقت کا غیر قانونی استعمال، ساحلی ریاستوں کو مسلسل دھمکیاں دینا اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرنا ہے۔ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز خطے سے باہر کی طاقتوں کی مشترکہ ملکیت نہیں بلکہ یہ ساحلی ریاستوں کے قریب واقع ایک حساس آبی گزرگاہ ہے، اس آبنائے پر ایران کی خودمختاری کا استعمال اور اس کے قانونی فریم ورک کا قیام ایک ساحلی ریاست کے طور پر ایران کا حق ہے۔ خیال رہے کہ فرانس اور برطانیہ آبنائے ہرمز پر ایران کی جانب سے بندشیں لگانے کے بعد بین الاقوامی گزرگاہ کے طور پر سیکیورٹی اور جہازوں کی آزادانہ آمد رفت کے حوالے سے مختلف ممالک کے مشترکہ اجلاس منعقد کیے تھے اور ان ممالک کے فوجی عہدیداروں کا بھی اجلاس ہوا تھا۔ ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو اچانک مسلط کی گئی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے اور خاص طور پر ان مملک کو جو مبینہ طور پر حملہ آور ممالک اور ان کے اتحادیوں سے منسلک ہیں جبکہ اس تنازع کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا۔ دوسری جانب امریکا نے ایران کی بندشوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا اعلان کردیا ہے اور ایرانی جہازوں کو روکنے اور چند ایک جہازوں کو قبضے میں لینے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل