Loading
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ دشمن جان لے پاکستان کے خلاف آیندہ کسی بھی مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے، دراصل ایک ایسی قومی سوچ کی عکاسی ہے جس میں دفاع صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ریاستی خودمختاری، قومی وقار اور علاقائی توازن کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
ان کا یہ خطاب محض ایک فوجی بیان نہیں بلکہ ایک مکمل اسٹرٹیجک پیغام ہے، جس میں بھارت، عالمی طاقتوں اور خود پاکستانی قوم تینوں کے لیے واضح اشارے موجود ہیں۔ یہ پیغام اس حقیقت کا اظہار تھا کہ پاکستان اب صرف ردعمل دینے والی ریاست نہیں بلکہ ایک ایسی قوت بن چکا ہے جو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر فیصلہ کن اقدامات کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بھارت گزشتہ کئی برسوں سے ایک منظم بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کرتا رہا کہ پاکستان اندرونی انتشار، معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور دہشت گردی کے باعث ایک غیر مستحکم ریاست بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر بھارتی سفارت کاری کی کوشش رہی کہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کیا جائے، اسے ایک غیر ذمے دار ایٹمی ریاست کے طور پر پیش کیا جائے اور دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں اصل رکاوٹ پاکستان ہے، لیکن معرکہ حق نے اس پورے بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا۔ دنیا نے پہلی مرتبہ یہ دیکھا کہ جس پاکستان کو کمزور اور تقسیم شدہ ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، وہ قومی سلامتی کے معاملے پر غیر معمولی اتحاد اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کررہا ہے۔
یہ حقیقت بھی کم اہم نہیں کہ بھارت نے پاکستان کے داخلی اختلافات کو اپنی اسٹرٹیجک برتری سمجھ رکھا تھا۔ اسے یقین تھا کہ سیاسی تقسیم اور معاشی دباؤ پاکستان کو مؤثر ردعمل دینے سے روک دے گا، مگر جب دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں پوری قوم یکجا ہوگئی تو یہ منظر خود بھارت کے لیے حیران کن تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید کم ہی ایسے مواقع آئے ہوں جب سیاسی تقسیم اس قدر پس منظر میں چلی گئی ہو۔ بلوچستان، سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورے ملک میں یہ احساس نمایاں تھا کہ قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے معرکہ حق کو محض ایک عسکری کامیابی سے بڑھا کر قومی بیداری کی علامت بنا دیا۔
آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی نے دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ جدید جنگیں صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے انبار سے نہیں جیتی جاتیں۔ بھارت کے پاس پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی فوج، وسیع معیشت اور جدید دفاعی سازوسامان موجود ہے، مگر اس کے باوجود پاکستان نے محدود وسائل کے ساتھ جو حکمت عملی اختیار کی، اس نے عسکری ماہرین کو حیران کردیا۔ یہ کامیابی تربیت، نظم، بروقت فیصلہ سازی، انٹیلی جنس ہم آہنگی اور جدید جنگی حکمت عملی کا نتیجہ تھی۔
خاص طور پر فضائی اور سائبر محاذ پر پاکستان کی برتری نے ثابت کیا کہ مستقبل کی جنگوں میں ٹیکنالوجی، معلومات اور رفتار فیصلہ کن عوامل بن چکے ہیں۔ اس دوران پاکستان کی سائبر صلاحیتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جدید دور میں سائبر جنگ روایتی جنگ جتنی ہی اہم ہوچکی ہے، کیونکہ اب صرف سرحدیں ہی نہیں بلکہ معلومات، مواصلات اور ڈیجیٹل نظام بھی حملوں کا ہدف بنتے ہیں۔ پاکستان نے اس میدان میں اپنی تیاری کا جو مظاہرہ کیا، اس نے عالمی مبصرین کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کردیا کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔
بھارت کے لیے سب سے بڑا دھچکا یہ تھا کہ پاکستان نہ صرف عسکری میدان میں ثابت قدم رہا بلکہ سفارتی سطح پر بھی تنہا نہیں ہوا۔ ماضی میں بھارت کو یہ اعتماد حاصل تھا کہ اس کی معاشی قوت اور عالمی منڈی میں اہمیت کے باعث دنیا اس کے موقف کو زیادہ وزن دیتی تھی، لیکن حالیہ صورتحال میں عالمی طاقتوں نے زیادہ محتاط رویہ اختیار کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دنیا اب جنوبی ایشیا میں کسی بڑی جنگ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے پاکستان کے دفاعی موقف کو سنجیدگی سے لیا۔
معرکہ حق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے پاکستانی قوم کو اپنی اجتماعی طاقت کا احساس دلایا۔ ایک طویل عرصے سے ملک سیاسی کشیدگی، معاشی بحران اور سماجی بے چینی کا شکار تھا۔ نوجوان نسل میں مایوسی بڑھ رہی تھی، اداروں پر سوالات اٹھ رہے تھے اور قومی بیانیہ کمزور دکھائی دیتا تھا۔ مگر اس معرکے نے قوم کو یہ یاد دلایا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ اور اجتماعی شناخت کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کی جارحیت نے قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے مزید متحد کردیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے نئے سوشل کانٹریکٹ کی ضرورت پر زور دینا اسی قومی حقیقت کا تسلسل ہے۔ عسکری کامیابی اگر داخلی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور معاشی اصلاحات میں تبدیل نہ ہو تو اس کے اثرات عارضی ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قومیں صرف جنگی فتوحات سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ انصاف، شفافیت، تعلیم، معیشت اور سماجی استحکام سے مضبوط ہوتی ہیں۔ پاکستان کے لیے آج سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ قومی اتحاد کو مستقل قومی پالیسی میں کیسے تبدیل کیا جائے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بیرونی قرضے، توانائی بحران اور صنعتی سست روی نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں اگر ریاست عوام کو بہتر طرز حکمرانی، معاشی مواقع اور سماجی تحفظ فراہم نہیں کرتی تو قومی یکجہتی دیرپا ثابت نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے سوشل کانٹریکٹ کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اس کا مطلب صرف سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے نئے رشتے کی تشکیل ہے، جس میں شہریوں کو انصاف، شفافیت اور ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔
یہ صورتحال عالمی طاقتوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ امریکا، چین، روس اور یورپی ممالک سب جانتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں کسی بڑے تصادم کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا خطے میں طاقت کے توازن کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، چین کے ساتھ اس کے تعلقات، سی پیک کی اسٹرٹیجک حیثیت اور مسلم دنیا میں اس کے کردار نے اسے عالمی سیاست میں مزید اہم بنادیا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر اس کامیابی کو صرف جذباتی نعروں تک محدود رکھا گیا تو اس کے اثرات وقتی ثابت ہوں گے، لیکن اگر اسے داخلی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام اور معاشی بحالی کے ساتھ جوڑ دیا گیا تو یہ قومی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ بن سکتا ہے۔ پاکستان کو تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا جس جذبے کا مظاہرہ دفاعی میدان میں کیا گیا۔
معرکہ حق نے ایک اور حقیقت بھی واضح کردی کہ قومی بیانیہ کسی بھی جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بھارت نے عالمی میڈیا اور لابنگ کے ذریعے پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن پاکستان نے نسبتاً بہتر سفارتی اور ابلاغی حکمت عملی اختیار کی۔ مستقبل میں اس شعبے پر مزید توجہ دینا ہوگی، کیونکہ جدید دنیا میں اطلاعات کی جنگ اکثر میدان جنگ سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا بہتر دفاع کرسکتا ہے بلکہ عالمی رائے عامہ کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
معرکہ حق کی پہلی سالگرہ صرف ایک عسکری کامیابی کی یاد نہیں بلکہ ایک قومی عہد کی تجدید بھی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، نظریاتی شناخت اور علاقائی وقار کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ اس معرکے نے قوم کو اعتماد دیا، دشمن کے غرور کو توڑا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔
اب اصل ضرورت یہ ہے کہ اس قومی جذبے کو تعمیر و ترقی کی قوت بنایا جائے۔ پاکستان داخلی استحکام، سیاسی مفاہمت، معاشی اصلاحات اور ادارہ جاتی توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو آنے والے برسوں میں وہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالم اسلام میں بھی ایک مؤثر اور باوقار قیادت کا کردار ادا کرسکتا ہے۔پاکستان کے شہداء کی قربانیاں صرف سرحدوں کے دفاع کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کے لیے ہیں جہاں یہ ملک مضبوط، مستحکم، خوشحال اور خودمختار ہو۔ یہی وہ پیغام ہے جو معرکہ حق نے پوری قوم کو دیا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان اپنے دشمنوں کے تمام عزائم ناکام بنا سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل