Sunday, May 10, 2026
 

پاکستان کی عالمی شہرت کا ایک سال

 



معرکہ حق کا ایک سال بہ فضل خدا مکمل ہوا مگر اس ایک سال کی سب سے اہم بات اس ایک سال میں ملنے والی پاکستان کی عالمی شہرت ہے جب دنیا کے ایسے چھوٹے ممالک میں بھی جہاں کے رہنے والوں نے پاکستان کا نام بھی نہیں سنا تھا، وہاں کے رہنے والوں کو بھی پتا چلا کہ ایشیا میں کوئی ملک پاکستان بھی ہے کہ جس نے گزشتہ سال اپنے سے 6 گنا بڑے اور کہیں زیادہ آبادی والے ہندوستان کو شکست دی جہاں چار پانچ سو سال قبل مسلمانوں کی حکومت تھی جن کی جگہ انگریزوں نے بھی تقریباً ڈیڑھ سو سال حکومت کی اور انھوں نے اگست 1947 میں ہندوستان چھوڑا تھا تو وہ ہندوستان بھارت اور پاکستان بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرے تھے۔ برطانیہ نے آزادی کے وقت ہندوؤں سے محبت میں تقسیم کے وقت بھی نئے مسلم ملک پاکستان سے زیادتی اور ناانصافی کی بدترین مثال قائم کی تھی اور سارے وسائل بھارت کو دے کر نئے ملک پاکستان کو خالی و تنہا چھوڑ دیا تھا اور سب کچھ ہی بھارت کے حصے میں آیا تھا۔ برطانیہ نے اپنی جانبدارانہ تقسیم میں پاکستان کو دو حصوں میں بانٹ کر پاکستان بنایا تھا جس کا ایک حصہ مشرقی پاکستان ایک ہزار میل دور تھا اور ہندوستان کی مسلم اکثریت والی ریاستیں حیدرآباد دکن، کشمیر اور جوناگڑھ بھارت کا حصہ بنا دی تھیں۔ یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت بھارت کی خوشنودی کے لیے کیا گیا تھا اور انگریزوں کو پاکستان کا یہ فیصلہ برا لگا تھا کہ پاکستان نے انگریز گورنر جنرل کی ماتحتی میں آزادی لینے سے انکار کر دیا تھا جب کہ بھارت نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھارت کا گورنر جنرل بننا قبول کر لیا تھا جس کی سزا پاکستان کو وہ قانونی حصہ نہیں ملا جو ملنا چاہیے تھا اور اللہ پاک کے آسرے اور اسلام کے نام پر بننے والے ملک کو سازش کے تحت وسائل نہیں ملے اور بھارت نے 1971 میں پاکستان کو دولخت کرکے کمزور اور محکوم بنانا چاہا تھا۔ پاکستان نے ستمبر 1965 میں بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تھا مگر دنیا بھارت کو طاقت مانتی تھی جس نے 6 سال بعد پاکستان کو دو حصوں میں سازش کے ذریعے تقسیم کرکے اپنی شکست کا بدلہ تو لے لیا تھا اور بھارت کو توقع نہ تھی کہ آدھا رہ جانے والا پاکستان صرف 27 سال بعد بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دے گا اور مسلم دنیا میں ایٹمی قوت بن کر ابھرے گا اور بھارت کی بالاتری کبھی قبول نہیں کرے گا۔ بھارت اپنی وسعت، مالی و دفاعی طاقت میں پاکستان سے کہیں زیادہ نہ صرف بڑا اور مضبوط معیشت کا حامل ملک تھا جس کی دنیا بھر میں پہچان تھی جو بڑے ملکوں کے لیے بہت بڑی مارکیٹ کا حامل ملک بن چکا تھا اور دنیا کا ہر ملک بھارت کی خوشنودی کے لیے بھارت کی ہر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگاتا ہے اسے دنیا سچ مان لیتی اور پاکستان کے احسان نہ ماننے والا افغانستان اور دیگر مسلم ممالک بھی پاکستان کو بھارت جیسی اہمیت نہیں دیتے تھے اور بھارت کے ساتھ دوستی کرنا اپنا فخر سمجھتے اور معاشی طور پر کمزور اور مقروض ملک کو کم اہمیت دیتے تھے۔ بھارت میں اس کے اپنے اندرونی انتشار کے باعث جو بھی دہشت گردی ہوتی بھارت فوراً اس کا جھوٹا الزام پاکستان پر لگا دیتا اور بھارتی کوشش رہی کہ دنیا پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک قرار دے دے۔ بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے پہلگام ڈرامہ خود کرایا اور حسب عادت  جھوٹا الزام پاکستان پر لگا دیا جس کی تردید پاکستان نے کی اور ثبوت مانگنے پر بھارت دنیا کے سامنے پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا اور اس نے گزشتہ سال سات مئی کو پاکستان پر دوبارہ حملہ کیا مگر معرکہ حق میں بھارت نے منہ کی کھائی اور بھارتی وزیر اعظم مودی کو امریکی صدر ٹرمپ کی جنگ بندی کے لیے خوشامد کرکے جنگ بند کرانے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ پاکستان کے لیے دکھ کا مقام تھا کہ ہمارے بعض برادر مسلم ملک بھی پاکستان کو بھارتی جارحیت کا جواب نہ دینے کے مشورے دیتے اور بھارت کی حمایت میں پیش پیش رہے۔ ماضی میں بھی ہمیشہ بھارت نے پاکستان پر جارحیت، بلوچستان میں مداخلت اور پاکستان میں اپنے حامیوں کو ہر ممکن مدد دے کر دہشت گردی اور پاکستان کا بہت زیادہ جانی نقصان بھی ہوا جس کے خلاف پاکستان نے ہر عالمی فورم پر آواز بھی اٹھائی مگر پاکستان کو عالمی تو کیا مسلم ممالک سے بھی مدد نہ ملی کیونکہ دنیا بھارت ہی کو اہمیت دیتی تھی۔ بھارت نے حسب عادت گزشتہ سال 7 مئی کو پھر پاکستان پر فضائی حملہ کیا جب کہ وہ 2019 میں بھی ایسا کر چکا تھا مگر اس دفعہ پاک فضائیہ نے بھارت کے 6 مضبوط جہاز تباہ کر دیے جن میں فرانس کے چار عالمی شہرت کے حامل جنگی جہاز بھی شامل تھے۔ بھارت کو پاکستان کے معرکہ حق میں ایسے بھرپور جواب کی توقع نہ تھی کہ وہ پاکستانی جواب میں مفلوج ہو گیا اور شکست سے بچنے کے لیے امریکا کو مداخلت کرنا پڑی۔پاک فوج کے معرکہ حق نے دنیا کو حیران کر دیا اور پاکستان کی بھرپور دفاعی طاقت کا مظاہرہ دیکھ کر اسے ماننا پڑا کہ اب بھی پاکستان بھارت کو شکست دینے کی صلاحیت کا حامل ملک جو اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔ پاکستان کو قدرت کی یہ مدد بھی ملی کہ اسے ایک سال میں ہی سپر پاور امریکا اور برادر مسلم ملک ایران کے درمیان ثالثی کا موقعہ مل گیا جس سے دنیا کے ہر ملک کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہو گئیں اور ایک سال میں پاکستان کو وہ عالمی شہرت ملی کہ جس کا کسی کو تصور بھی نہ تھا۔ ایک سال میں پاکستان کی عالمی شہرت نے بھارت اور پاکستان کے مخالفین پر سکتہ طاری کر دیا ہے اور اگر اس ماہ پاکستان ایران امریکا معاہدہ اسلام آباد میں کرانے میں کامیاب ہو گیا تو دنیا میں پاکستان کو وہ مقام حاصل ہو جائے گا جس کی دنیا تو کیا ہمارے اپنوں کو بھی توقع نہ تھی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل