Loading
ہم ماضی کی طرف ایک سنجیدہ اور غیر جذباتی نظر ڈالیں تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان نے ترقی کا ایک طویل اور تیز رفتار سفر طے کیا ہے۔ یہ سفر صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔
گھریلو زندگی کی معمولی سہولیات سے لے کر جدید آسائشوں تک، ہر مرحلہ ہمیں آگے بڑھنے، آسانی حاصل کرنے اور بہتر زندگی گزارنے کا یقین دلاتا رہا ہے، مگر جب ہم اس ترقی کو گہرائی سے پرکھتے ہیں تو کئی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ کیا یہ ترقی واقعی مکمل ہے؟ کیا یہ دیرپا ہے؟ اور سب سے اہم، کیا ہم نے اس ترقی کی بنیادیں مضبوط بنائی ہیں یا صرف سہولتوں کی عمارت کھڑی کی ہے؟
مثال کے طور پر، اگر ہم کھانا پکانے کے طریقوں کا جائزہ لیں تو ایک واضح ارتقائی سفر نظر آتا ہے۔ ایک وقت تھا جب گھروں میں مٹی کے چولہوں پر لکڑی اور اوپلے جلا کر کھانا پکایا جاتا تھا۔ اس عمل میں محنت زیادہ تھی، وقت بھی زیادہ لگتا تھا اور دھواں بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا تھا۔ پھر وقت نے کروٹ لی اور برادہ جلانے والے چولہے متعارف ہوئے، جنہوں نے کسی حد تک سہولت پیدا کی۔ مٹی کے تیل کے اسٹوو اور ’’بارہ بتیوں والے چولہے‘‘ نسبتاً آسان اور قابل استعمال تھے۔ پھر گیس کے چولہے آئے، جنہوں نے کھانا پکانے کے عمل کو نہایت سہل، تیز اور آرام دہ بنا دیا۔ آج ہم ایک بٹن دبانے سے کھانا پکانے کے قابل ہیں اور یہی ہمیں ترقی کا احساس دلاتا ہے۔
اسی طرح روشنی کے ذرائع کو دیکھیں تو ترقی کا ایک اور دلچسپ سفر سامنے آتا ہے۔ مٹی کے دیے کی مدھم روشنی سے لے کر لالٹین، پھر بلب، ٹیوب لائٹ اور اب جدید ایل ای ڈی لائٹس تک، روشنی کے ذرائع نہ صرف زیادہ موثر ہوئے بلکہ کم توانائی خرچ کرنے والے بھی بن گئے۔ راتوں کو دن میں بدل دینے والی یہ روشنی ہمیں یقین دلاتی ہے کہ ہم واقعی ترقی یافتہ دور میں جی رہے ہیں۔
گھروں کی ساخت اور طرز تعمیر میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ماضی میں گھروں میں کشادہ صحن ہوتے تھے، ہوا کی آمد و رفت کے لیے کھلی جگہیں ہوتی تھیں اور زندگی کسی حد تک فطرت کے قریب تھی۔ آج کے جدید گھروں میں صحن تقریباً ختم ہو چکے ہیں، کمرے محدود ہو گئے ہیں، اور’’ اٹیچ باتھ‘‘جدید طرز زندگی کی علامت بن گیا ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، اپارٹمنٹس اور محدود جگہ میں زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کا رجحان ہماری شہری زندگی کی پہچان بن چکا ہے۔ بظاہر یہ سب سہولت اور ترقی کی ایک دلکش کہانی معلوم ہوتی ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ترقی پائیدار بھی ہے؟یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب ہم حالیہ عالمی حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ چند روز قبل میڈیا پر بھارت کے بعض بڑے شہروں کی خبریں سامنے آئیں، جہاں توانائی کے شدید بحران نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔
بجلی کی طویل بندش، گیس کی عدم دستیابی اور ایندھن کی قلت نے لوگوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا۔ ایسے حالات میں کئی شہروں میں کمانے کی غرض سے آئے لوگ دیہات کی طرف واپس جانے پر مجبور ہو گئے۔ ان کے بیانات میں ایک مشترکہ دکھ اور بے بسی نمایاں تھی۔ نہ کھانا پکانے کا ذریعہ، نہ روشنی کا انتظام اور نہ ہی روزمرہ زندگی کی بنیادی سہولتیں۔ بھارت میں بڑے شہروں سے واپس جاتے ہوئے لوگ ٹی وی کیمرہ کے سامنے کہہ رہے تھے کہ ہم اپنے آبائی علاقے واپس جارہے ہیں جہاں گیس نہیں ہے لیکن ان کے گھروں میں آج بھی روایتی چولہے کھانا پکانے کے لیے موجود ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انھی حالات میں وہی پرانا طرزِ زندگی، جسے ہم نے ترقی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا تھا، ایک بار پھر کارآمد ثابت ہوا۔ دیہات میں رہنے والے لوگ، جو اب بھی لکڑی یا دیگر روایتی ذرائع استعمال کرتے ہیں، نسبتاً بہتر حالات میں نظر آئے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید سہولتوں پر مکمل انحصار بعض اوقات ہمیں کمزور بھی بنا سکتا ہے۔
یہ صورتحال ہمیں ایک نہایت اہم نکتے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ترقی اگر یک رخی ہو، یعنی صرف جدید سہولتوں پر مبنی ہو اور اس میں ہنگامی حالات کے لیے کوئی متبادل نہ رکھا جائے، تو وہ کسی بھی وقت’’سانپ سیڑھی‘‘کے کھیل کی مانند ہمیں نیچے لا سکتی ہے۔ اس کھیل میں ہم سیڑھیوں کے ذریعے تیزی سے اوپر تو چڑھ جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی سانپ سامنے آتا ہے، ساری محنت ایک لمحے میں ضایع ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح، اگر ہماری ترقی صرف سہولتوں پر مبنی ہو اور اس میں لچک اور متبادل کا عنصر نہ ہو، تو ایک معمولی بحران بھی ہمیں پیچھے دھکیل سکتا ہے۔
ہمارے اپنے ملک، خصوصاً کراچی جیسے بڑے اور گنجان آباد شہروں میں بھی توانائی کے بحران کے آثار واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ، گیس کی قلت اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں شہری زندگی کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔ گھروں کا موجودہ ڈھانچہ اس انداز میں بنایا جا رہا ہے کہ وہاں روایتی طریقے سے کھانا پکانے یا کسی متبادل انتظام کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اپارٹمنٹس میں رہنے والے افراد کے لیے لکڑی یا کوئلے کا استعمال تقریباً ناممکن ہے۔ ایسے میں اگر خدانخواستہ توانائی کا بحران شدت اختیار کرتا ہے، تو شہری زندگی شدید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، جدید طرز زندگی نے ہمیں فطرت سے بھی کافی حد تک دور کر دیا ہے۔ ہم نے سہولت کی خاطر ایسے نظام اپنا لیے ہیں جو بظاہر آسان تو ہیں، مگر طویل مدت میں غیر مستحکم ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم نے قدرتی ہوا اور روشنی کے بجائے مصنوعی ذرائع پر انحصار بڑھا دیا ہے۔ ہم نے مقامی وسائل کے بجائے درآمدی توانائی پر بھروسہ کرنا شروع کر دیا ہے، یہ تمام عوامل ہماری ترقی کو کمزور بنیادوں پر کھڑا کر رہے ہیں۔
اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ترقی کے مفہوم پر ازسر ِ نو غور کریں۔ ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ کیا ترقی صرف جدید سہولیات کا نام ہے یا اس میں پائیداری، خود انحصاری، اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی شامل ہونی چاہیے؟ اگر ہماری ترقی ہمیں صرف آرام فراہم کرتی ہے مگر مشکل وقت میں بے بس چھوڑ دیتی ہے، تو شاید ہمیں اپنے راستے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی تعمیرات اور طرز زندگی کو اس انداز میں ڈھالیں کہ جدید سہولتوں کے ساتھ ساتھ روایتی متبادل بھی باقی رہیں۔ ہمیں ایسے گھروں کی تعمیر پر غور کرنا چاہیے جہاں قدرتی روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام ہو، جہاں کسی ہنگامی صورتحال میں متبادل ذرائع استعمال کیے جا سکیں۔ اسی طرح ہمیں اپنی سماجی اور انفرادی سطح پر بھی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف رفتار کا نام نہیں بلکہ سمت کا بھی تقاضا کرتی ہے، اگر ہماری سمت درست نہ ہو تو تیز رفتار بھی ہمیں غلط مقام تک لے جا سکتی ہے۔
یوں دیکھا جائے تو اصل دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم سیڑھیاں چڑھتے وقت سانپوں کے امکان کو بھی نظر میں رکھیں۔ ہمیں اپنی ترقی کو اس انداز میں ترتیب دینا ہوگا کہ اگر کوئی سانپ سامنے آ بھی جائے تو ہم مکمل طور پر نیچے نہ گریں بلکہ سنبھل سکیں، خود کو دوبارہ کھڑا کر سکیں، اور آگے بڑھنے کا حوصلہ برقرار رکھ سکیں۔مختصراً یہ کہ حقیقی ترقی وہی ہے جو ہمیں نہ صرف آسانی فراہم کرے بلکہ ہمیں مضبوط، خود کفیل اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی بنائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل