Friday, May 15, 2026
 

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پرچم لہرانے پر سعودی عرب نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا

 



سعودی عرب نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزی اور مقدس مقام کی بے حرمتی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیلی فوج کے حالیہ دھاوے اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یروشلم اور اس کے مقدسات کی تاریخی اور قانونی حیثیت مسلمہ ہے جسے تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔ #بيان | تعرب وزارة الخارجية عن إدانة المملكة العربية السعودية للممارسات الاستفزازية المتكررة من مسؤولي سلطات الاحتلال الإسرائيلي بحق المسجد الأقصى المبارك، وآخرها اقتحام مسؤول في سلطات الاحتلال الاسرائيلي للمسجد الأقصى تحت حماية شرطة الاحتلال، ورفع مسؤول آخر لعلم سلطات الاحتلال… pic.twitter.com/WxFYvJBibt — وزارة الخارجية ???????? (@KSAMOFA) May 14, 2026 بیان میں واضح کیا گیا کہ مملکت ایسی کسی بھی کارروائی کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں یا القدس کی حیثیت پر آنچ آئے۔ سعودی عرب نے عالمی برادری اور بااثر عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اسرائیل کو ان پرتشدد اور غیر قانونی اقدامات سے روکیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے جاری یہ اشتعال انگیزیاں خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہیں لہٰذا عالمی سطح پر اسرائیل کے ان من مانے اقدامات کا راستہ روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل