Monday, May 18, 2026
 

یوٹیوب کا ڈیپ فیک ویڈیوز کی نشاندہی کیلئے بڑا اقدام!

 



جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، آن لائن پلیٹ فارمز پر اصلی اور نقلی شخصیت کی شناخت میں مشکل بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے اپنے اے آئی ڈیٹیکشن لائکنیس سسٹم کو مزید بڑے پیمانے پر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اہل کریئیٹرز کو ایسے نئے ٹولز دیے جائیں گے جن کی مدد سے وہ اے آئی سے تیار کی گئی ان ویڈیوز کو مانیٹر اور رپورٹ کر سکیں گے جو ان کی شکل یا شناخت کی نقل کرتی ہوں۔ یہ سسٹم پہلے محدود پیمانے پر یوٹیوب پارٹنر پروگرام کے چند صارفین کے ساتھ آزمایا گیا تھا لیکن اب جلد ہی اسے تمام اہل 18 سال سے زائد عمر کے کریئیٹرز کے لیے دستیاب کیا جا رہا ہے۔ یوٹیوب اسٹوڈیو میں موجود یہ فیچر کریئیٹرز کو اس بات کا پتہ لگانے میں مدد دیتا ہے کہ کہیں ان کی لائکنیس یعنی چہرہ یا شناخت سنتھیٹک یا اے آئی ایڈیٹڈ ویڈیوز میں تو استعمال نہیں ہو رہی۔ یہ سسٹم AI سے بنائی گئی مشتبہ ویڈیوز کو اسکین کرتا ہے اور اگر کسی ویڈیو میں کسی کریئیٹر کی شکل سے مشابہت پائی جائے تو وہ اسے ریویو کر کے پرائیویسی پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں ہٹانے کی درخواست دے سکتا ہے۔ یہ اقدام اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ اے آئی نقالی اور ڈیپ فیک ویڈیوز اب اتنی حقیقت کے قریب پہنچ چکی ہیں کہ وہ کسی شخص کے تاثرات، آواز اور بولنے کے انداز تک کی خطرناک حد تک نقل کر سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف کریئیٹرز کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ غلط معلومات پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا مقصد کریئیٹرز کو اپنی تصاویر اور شناخت کے استعمال پر بہتر کنٹرول دینا اور ناظرین کو دھوکے یا کنفیوژن سے بچانا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل