Friday, May 29, 2026
 

سی آئی اے کے سینیئر افسر پر کروڑوں ڈالر مالیت کی سونے کی اینٹیں چوری کرنے کا الزام

 



امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سینئر افسر کی سنگین کرپشن کا معاملہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے لیے ایک بڑے اسکینڈل کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سی آئی اے افسر ڈیوڈ رش پر کروڑوں ڈالر مالیت کی سونے کی اینٹیں چوری کرنے، جعلی دستاویزات جمع کرانے اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے سنگین الزامات عائد کر دیے گئے۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ادارے سے 303 سونے کی اینٹیں غائب کرکے اپنے گھر میں چھپا کر رکھی تھیں۔ ایف بی آئی نے 18 مئی کو ریاست ورجینیا میں ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا تھا جہاں سے 303 سونے کی اینٹوں کے علاوہ درجنوں قیمتی لگژری گھڑیاں بھی برآمد ہوئیں۔ ان گھڑیوں میں مہنگی Rolex گھڑیاں بھی شامل تھیں۔ ایف بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ سی آئی اے افسر کے گھر سے برآمد شدہ اشیا کی مجموعی مالیت کروڑوں ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی اخباروں کے مطابق ڈیوڈ رش پر جعلی ٹائم شیٹس جمع کرا کے اضافی سرکاری رقم حاصل کرنے کے الزامات بھی ہیں۔ مزید تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ ملزم نے اپنی تعلیمی اسناد اور امریکی نیوی ریزرو سے متعلق معلومات بھی غلط فراہم کی تھیں۔ ان کے گھر سے برآمد ہونے والی ہر سونے کی اینٹ تقریباً ایک کلوگرام وزنی تھی جن کی مجموعی مالیت 4 کروڑ ڈالرز سے زیادہ بنتی ہے۔ تحقیقات کے دوران ڈیوڈ رش نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سونا اور غیر ملکی کرنسی سرکاری اور نجی کاروبار کے ذریعے حاصل کی گئی تھی تاہم بعد میں سی آئی اے متعلقہ ریکارڈ یا قانونی دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ عدالتی کاغذات میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران ملزم نے بڑی مقدار میں سونا اور غیر ملکی کرنسی کو چرا کر اپنے گھر میں چھپایا تھا۔ سی آئی اے اور ایف بی آئی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ادارے کی داخلی تحقیقات کے دوران ممکنہ مالی بے ضابطگیوں اور قانون کی خلاف ورزیوں کے شواہد سامنے آئے جس کے بعد معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے سپرد کیا گیا۔ حکام کے مطابق ملزم کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا اور وہ اس وقت بھی حراست میں ہے جبکہ جلد اس کی حراستی سماعت متوقع ہے۔ عدالتی دستاویزات میں ڈیوڈ رش کو امریکی حکومتی ادارے کا سابق سینئر ایگزیکٹیو سطح کا افسر” قرار دیا گیا ہے تاہم قومی سلامتی کے پیشِ نظر ان کی بعض حساس ذمہ داریوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل