Saturday, May 30, 2026
 

ابراہیمی معاہدہ قبول کرناچاہیے؟

 



صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ امریکا ایران معاہدے کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے لیے یہ بھی لازمی قرار دے دیا ہے کہ انھیں ابراہیمی معاہدے پر بھی دستخط کر دینے چاہیے، بلکہ انھوں تو یہ بھی کہا ہے کہ سعودی عرب اور قطر کو اس میں پہل کرنی چاہیے اور پاکستان، ترکیہ، مصر اور اردن کو اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ ایک یا دو ممالک کے پاس معاہدے میں شامل نہ ہونے کی کوئی وجہ ہوں جسے قبول کیا جائے گا۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس پر اپنا ردعمل بھی دے دیا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ مجوزہ امریکا ایران معاہدہ اور ابراہیمی معاہدے کا آپس میں کوئی تعلق نہیں بنتا۔ ہم سب سے پہلے تو اپنے قارئین کی ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے یادداشت تازہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ابراہیمی معاہدہ کیا ہے؟ آپ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ کوئی ایک معاہدہ نہیں ہے بلکہ معاہدوں کے مجموعے کو ابراہیمی معاہدہ یا ابراہیمی معاہدے کہتے ہیں۔ صدر بل کلنٹن کا دور صدارت 1993 سے 2001 تک تھا۔ ایک دفعہ انھوں نے اپنے دور صدارت کے دوران کہا تھا کہ’’ مجھے نہیں پتہ کہ مسلمان اور یہودی آپس میں کیوں لڑتے ہیں؟ یہ تو آپس میں کزن ہے۔‘‘ ان کا اشارہ یہ تھا کہ یہ دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولادیں ہیں اور یوں یہ آپس میں کزن ہوئے، ہرچند کہ اب ان کا یہ بیان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ ایک اور بات کا تذکرہ یہاں دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ہمارے عقائد کے تحت حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دینے گئے تھے اور آخر وقت میں اللہ کے حکم سے مینڈھا آگیا تھا۔ بائبل میں یہی واقعہ حضرت اسحاق علیہ السلام سے منسوب ہے۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ابراہیمی معاہدے کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں ہوا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس کی بنیاد تو 1979 میں مصر اسرائیل معاہدے کے ساتھ رکھ دی گئی تھی جس کو دنیا کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے نام سے جانتی ہے اور ویسے بھی اس وقت تک ابراہیمی معاہدے کی اصطلاح کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس معاہدے کے ذریعے مصر نے اسرائیل کے ساتھ اپنی جنگ کا خاتمہ کیا، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں یہ معاہدہ انور سادات کی جان لے گیا۔ اسی معاہدے کی دوسری قسط 25 جولائی 1994 میں چلی جب اردن کے شاہ حسین نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن سے ملاقات کی، جہاں انھوں نے واشنگٹن ڈیکلریشن پر دستخط کیے۔ جس سے اردن اور اسرائیل کے درمیان 46 سال سے جاری جنگ کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہوا۔ آخرکار، 26 اکتوبر 1994 کو اردن نے اردن،اسرائیل امن معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر آئے اور ان کے درمیان علاقائی تنازعات کا خاتمہ ہوا۔ آج اردن اسرائیل کا بلاواسطہ اور بالواسطہ نگہبان ہے اور اسرائیل کی جانب آنے والے میزائل کو تباہ کرنے میں اسرائیل کا ساتھ دیتا ہے۔ 2000 سے پہلے ہی اسرائیل نے دو مسلمان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کر لیے تھے۔ اس دوران بہت سارے مسلمان ممالک کے حکمران اپنی بادشاہت بچانے کے لیے اسرائیل سے پس پردہ گفت و شنید اور مفاہمت کا آغاز کر چکے تھے۔ انھیں خطرہ ایران سے تھا۔ ان تعلقات کا آغاز 2010 کی دہائی میں ہوا اور 2018 تک یہ روابط زیادہ نمایاں ہوگئے تھے، جن میں اسرائیلی حکام کے خلیجی دورے اور محدود فوجی و انٹیلیجنس تعاون کا آغاز شامل تھا۔ اب تو یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے اچھے تعلقات ہیں۔ امریکا نے عرب ممالک کو ایران سے ڈرانے اور اسرائیل کی قانونی حیثیت کو قبول کروانے کا ایک منصوبہ بنایا اور اس منصوبے کا نام ابراہیمی معاہدہ رکھا گیا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسلام، یہودیت اور عیسائیت یعنی تینوں بڑے مذاہب ایک معزز پیغمبر سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کو آخری نبی کے آنے کا پورا یقین تھا لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ نبی حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے ہوگا، اسی لیے انھوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکار کیا اور قرآن میں بہت سی جگہوں پر اس کا ذکر ہے۔ ہم واپس ابراہیمی معاہدے پر آتے ہیں۔ اسرائیل اور امارات کے درمیان 13 اگست 2020 کو معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی بحرین کے حکام نے جیرڈ کشنر اور ایوارہم ارکووز کو پیغام دیا کہ ہم اگلا ملک بننا چاہتے ہیں۔ بالآخر 15 ستمبر 2020 کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان اور بحرینی وزیر خارجہ عبد اللطیف بن راشد الزیانی نے وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں واقع ٹرومین بالکونی پر معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ شاندار تقریب ماضی کے اہم معاہدوں کی طرز پر منعقد کی گئی تھی۔ اسرائیل سوڈان میں تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ 23 اکتوبر 2020 میں ہوا اور یوں مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سوڈان پانچواں عرب ملک ہوا کہ جس نے اسرائیل سے معاہدہ کیا، ہرچند کہ یہ معاہدہ 2024 تک غیر تصدیق شدہ رہا۔ 10 دسمبر 2020 کو صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور مراکش نے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ صدر جو بائیڈن کے عہد صدارت میں ابراہیمی معاہدے کا زیادہ ذکر نہیں سنا گیا، شاید اس کی ایک وجہ یہ ہوں کہ جو بائیڈن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق رپبلکن پارٹی سے ہے۔ اب صدر ٹرمپ اپنے دوسرے دور صدارت میں چاہتے ہیں کہ شام، لبنان اور تمام مشرق وسطی کے ممالک ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں۔ انھیں اچھی طرح سے پتہ ہے کہ مشرق وسطی کا سب سے اہم ملک سعودی عرب ہے، اسی لیے اس پر سب سے زیادہ دباؤ اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے ہیں۔ صدر ٹرمپ تو دیگر مسلمان مگر غیر عرب ممالک کو بھی اس کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ۔ آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے کی آٹھ مسلم ممالک نے تائید کی ہے ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ مسلمان ممالک کے لیے مسئلہ فلسطین تو اب پس منظر سے بھی غائب ہوچکا ہے اور ہر ملک اپنی قیمت کا تعین کرکے ابراہیمی معاہدہ کررہا ہے مگر آخر میں ساری قیمتیں دھری کی دھری رہ جائے گی اور ہوگا وہی جو اسرائیل چاہے گا۔ اس کالم میں ہم نے اختصار کے ساتھ ابراہیمی معاہدے کی تاریخ اور ایک عمومی جائزہ پیش کیا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ آنے والے دن بہت ہیجان انگیز اور ہنگامہ خیز ہوں گے اور دنیا وہ نہیں رہے گی جو وہ آج ہے چاہے ابراہیمی معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ مشرق وسطی میں اسرائیل ہی امریکا ہے۔ جب کبھی یہ خبر آتی ہے کہ اسرائیل اور امریکا میں کسی معاملے پر اختلاف ہے تو سمجھ لیجیے کہ امریکا اسرائیل کے حق میں کوئی بڑا قدم اٹھانے والا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ دور صدارت دنیا پر دورس نتائج کا حامل ہوگا۔ امریکی صدر ایک دکاندار کی طرح سودا بیچتا ہے۔ ایک سودے میں گھاٹا تو دوسرے سودے سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے ساتھ معاہدے میں سبکی کے بعد ابراہیمی معاہدے کے ذریعے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی کوشش ہے تاکہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات جیتے جاسکیں۔ اب یہ امریکی عوام بتائیںگے کہ وہ سمجھدار ہے یا ہمارے ہی جیسے ہیں۔ ہم اپنے قارئین کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست اسرائیل اور جمہوریہ ترکیہ کے مابین دو طرفہ تعلقات ہیں۔ اسرائیل اور ترکیہ کے تعلقات باضابطہ طور پر مارچ 1949 میں طے پائے تھے اور ترکیہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے والا پہلا مسلمان اکثریتی ملک بنا تھا۔ اس وقت ترکیہ عربوں سے پہلی جنگ عظیم میں غداری کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ ابراہیمی معاہدہ اسرائیل کو مسلمان ریاستوں سے ایک قانونی ریاست کے طور پر قبول کروانے کی ایک کوشش کا نام ہے اور اگر آپ اس سے زیادہ سچ پڑھنے کے لیے تیار ہیں تو یوں سمجھ لیجیے کہ ابراہیمی معاہدہ وسیع تر اسرائیل یا گریٹر اسرائیل کی جانب دوسرا قدم ہے کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرکے چند مسلمان ریاستیں پہلے ہی پہلا قدم اٹھا چکی ہے اور اب تو اسرائیل کے دوڑنے کی باری ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ریاست کو عقائد نہیں بلکہ مفادات کے تحت چلانا چاہیے اور تمام عرب اور غیر عرب ممالک کو پتہ ہے کہ اب ان کا مفاد کہاں ہے اور کس میں ہے۔ موجودہ حالات نے ایک اور بات واضح کردی کہ دنیا کا ہر ملک اس کی اشرافیہ ہی چلاتی ہے اور سیاسی قیادت اس کا صرف ’’بھونپو‘‘ ہوتی ہے۔ میرے خیال سے تو دنیا کی اشرافیہ نے دنیا کے متعلق کچھ بڑے بڑے فیصلے کیے ہیں کہ جس میں دنیا کی آبادی اور ممالک کو کم کرنا شامل ہے، کثیر القومی اداروں کا مزید عروج دینا اور دیگر چیزیں شامل ہے۔ ابراہیمی معاہدے پر دستخط ہوں یا نہ ہوں دونوں صورتوں میں یہ ہدف حاصل کیا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل