Loading
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اقتصادی اثرات سے امریکا بھر کے گھریلو اخراجات میں بدترین اضافہ ہوگیا ہے اور اس جنگ نے صارفین پر تقریباً 60 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
موڈی اینالٹکس کے ڈیٹا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز (28 فروری) سے امریکی صارفین کے ایندھن کے اضافی اخراجات اوسطاً 447.19 ڈالر ہوئے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت اور فضائی کرایوں میں اضافے کے باعث یہ اضافہ گزشتہ تین ماہ کے دوران امریکی صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 60 ارب ڈالر کا بوجھ ڈال چکا ہے۔
ماہر اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو امریکی صارفین پر مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
موڈی کے چیف اکنامسٹ مارک زینڈی نے کہا کہ جب تک جنگ ختم نہیں ہوتی، مالی دباؤ کا شکار صارفین کے پاس اپنے اخراجات میں محتاط رویہ اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، جو پہلے سے کمزور معیشت کے لیے مزید خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو جنگ کا ایک سال مکمل ہونے تک اوسط امریکی گھرانہ تقریباً دو ہزار ڈالر اضافی اخراجات کا سامنا کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ اعداد و شمار اس تنازع کے وسیع اقتصادی نتائج کو نمایاں کررہے ہیں، جس کی وجہ سے توانائی کی مارکیٹ میں خلل پڑا اور صارفین کے لیے لاگت میں مشرق وسطیٰ کی جنگ سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل