Loading
بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی پارٹی کی سوشل میڈیا پر داغ بیل ڈالی گئی ہے، یہ نام اگرچہ بہت عجیب سا ہے مگر اسے اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت نے چند دن قبل بھارت کے نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ جیسا قرار دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی نوجوان کاکروچ کی مانند ہیں جو ہر دم موبائل فون سے چمٹے رہتے ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت فالتو کاموں میں صرف کرتے ہیں۔ بھارتی نوجوانوں کو چیف جسٹس کی جانب سے انھیں کاکروچ کہنے نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ کاکروچ ہیں، اس لیے کہ وہ بے روزگار ہیں مگر حکومت ان کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ وہ اپنا وقت موبائل دیکھنے میں گزار دیتے ہیں مگر اس لیے کہ وہ بے روزگار ہیں۔ یہ مہم سوشل میڈیا پر ایک تحریک کی طرح شروع ہوئی ہے۔
ابتدا میں اسے مذاق سمجھا گیا مگر ایسا ہرگز نہیں ہے، یہ بھارتی نوجوانوں کے غصے اور مایوسی کا برملا اظہار ہے۔ یہ مہم جنگل کی آگ کی طرح پورے بھارت میں پھیل گئی ہے اور نوجوانوں نے اس کا والہانہ استقبال کیا ہے۔ اس کے منظرعام پر آتے ہی نوجوان اس کے فالورز بننے لگے تھے، اس وقت تک دو کروڑ سے زیادہ اس کے فالورز ہیں جب کہ دو لاکھ نوجوانوں نے خود کو اس کے ممبر کے طور پر جوائن کر لیا ہے۔
اس تحریک کو ایکس پر شروع کرنے کا سہرا بھارتی صوبہ گجرات کے ایک طالب علم کے سر ہے۔ اس کا نام ابھیجیت دیپکے ہے۔ وہ اس وقت امریکا کے شہر بوسٹن میں ہے، وہ وہاں ماسٹر کرنے کے لیے گیا تھا، اب اس نے اپنا ماسٹر مکمل کر لیا ہے اور جلد ہی وطن واپس لوٹنے والا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے ایکس پر چیف جسٹس آف انڈیا کا بیان دیکھا جس میں وہ ملکی نظام پر تنقید کرنے اور اپنی رائے دینے والے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ سے کر رہے تھے یعنی کہ بھارتی نوجوان ان کی نظر میں کیڑے مکوڑے ہیں۔
ابھی جیت کا کہنا ہے کہ اسے چیف جسٹس کے ریمارکس انتہائی توہین آمیز لگے۔ اس توہین پر اس نے بھارتی نوجوانوں کو آواز دی کہ جب ہمارے چیف جسٹس صاحب ہمیں کاکروچ کہہ رہے ہیں تو پھر ہم کیوں نہ کاکروچ بن جائیں۔ اس کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کا کام ملک میں انصاف کے عمل کی دیکھ بھال کرنا ہے، وہ نوجوانوں کے خلاف بیان دے کر دراصل حکومت کو خوش کر رہے تھے۔
عدلیہ کو حکومت سے دور اور غیرجانبدار رکھنا ان کی ذمے داری ہے مگر وہ تو خود حکومت کا حصہ بن چکے ہیں اور حکومت کی اپنے فیصلوں کے ذریعے مدد کر رہے ہیں۔ اسی لیے تو عدلیہ بدنام ہے اور بھارتی عوام کا عدلیہ پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔
دراصل اس وقت مودی حکومت نے عدلیہ کو بھی الیکشن کمیشن اور میڈیا کی طرح گود لے لیا ہے۔ یہ تمام ہی ادارے حکومت کی سہولت کاری کر رہے ہیں جس سے عوام میں اور خاص طور پر نوجوانوں میں غصہ اور مایوسی پائی جاتی ہے۔
افسوس کہ چیف جسٹس حکومت کو اپنی سمت درست رکھنے کا حکم دینے کے بجائے حکومت کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت انتہاپسند ہے اور مسلمانوں سے نفرت کی بنیاد پر حکومت چلا رہی ہے۔
دن رات وزیر اعظم سے لے کر اس کے وزیر اور مشیر کوئی تعمیری کام کرنے کے بجائے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر گھول رہے ہیں یعنی کہ ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر کٹر ہندوؤں کو خوش کر رہے ہیں اور ان کے ووٹوں سے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے چمتکار سے ہر الیکشن جیت رہے ہیں۔
اس طرح مودی حکومت ایک فرقہ پرست، فراڈی، انتہاپسند اور آمرانہ حکومت بن چکی ہے مگر نفرت اور دھاندلی کی سیاست زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ ابھی جیت نے کہا کہ میں نے ایکس پر جو میسج لکھا تھا۔ اس کا بھارتی نوجوانوں کی جانب سے حیرت انگیز رد عمل آیا اور ہر کوئی خود اس پارٹی کا ممبر بننے کے لیے بے چین نظر آنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں نوجوانوں نے خود کو اس پارٹی میں رجسٹر کر لیا۔
اس رجحان سے پتا چلا کہ معاملہ یہاں رکنے والا نہیں ہے اور یہ بات مذاق سے بہت آگے جا چکی ہے چنانچہ نوجوانوں کا جوش وخروش دیکھ کر اس کا منشور تیار کیا اور اس کی ممبرشپ کے لیے قواعد وضوابط بنائے۔ اس کا ہر بے روزگار نوجوان ممبر بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی کابینہ میں زیادہ تر کم لکھے پڑھے لوگوں کی اکثریت ہے، مودی کی توجہ کبھی بھی ملک سے غربت کم کرنے یا انتہاپسندی کو ختم کرنے پر نہیں رہی، وہ صرف الیکشن ہر قیمت پر جیتنے پر یقین رکھتے ہیں اور بدقسمتی سے ان کی مسلمانوں کے خلاف نفرتی پالیسی ان کی کامیابی کی کنجی بن گئی ہے مگر یہ صورت حال اور حکومتی رویہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور ملکی سلامتی اور امن کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے مودی سرکار کی نیندیں حرام کر دی ہیں، حالانکہ یہ ابھی تک باقاعدہ سیاسی پارٹی نہیں بنی ہے اور ابھی صرف ویب سائٹ تک ہی محدود ہے مگر مودی کا خوف دیکھیے کہ اس نے اس کے اکاؤنٹ کو ہی بند کرا دیا ہے۔
حکومت کی یہ بوکھلاہٹ اس پارٹی کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔ اس کے ممبران کی بڑھتی ہوئی تعداد سے لگتا ہے کہ یہ صرف نوجوانوں میں ہی نہیں بلکہ عام بھارتیوں میں بھی بہت مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ کئی اپوزیشن پارٹیاں بھی اس کی مقبولیت سے بوکھلا گئی ہیں۔
دیگر پارٹیوں کو تو چھوڑیے، خود کانگریس پارٹی شش وپنج میں پڑ گئی ہے۔ کئی مشہور کرکٹ کھلاڑی اور سابق لوک سبھا کے ممبران اس کی ممبرشپ لے چکے ہیں۔ ادھر ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کی ایک بڑی لیڈر مہوا موئترا بھی اس کی حمایتی بن گئی ہیں۔
اس پارٹی کی مقبولیت سے چیف جسٹس سوریا کانت نے بھی اپنے بیان کو بدل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو میڈیا میں غلط رنگ دیا گیا ہے۔ انھوں نے بھارتی نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ نہیں کہا تھا، مگر اب حالات بہت آگے نکل گئے ہیں اور چیف جسٹس یا کسی اور شخصیت کے بند باندھنے سے یہ تحریک رکنے والی نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی نے پورے بھارتی معاشرے کو تباہ کر دیا ہے جہاں پہلے کبھی مذہب کو اولیت نہیں دی جاتی تھی کیونکہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے، وہاں اب ہندوتوا کا بول بالا ہے۔ بھارت کے بانی گاندھی اور نہرو کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور نتھورام گوڈسے جیسے انتہا پسند قاتلوں کو اہمیت دی جاتی ہے اور بھارتی جنتا پارٹی کی ماں شدت پسند تنظیم آر ایس ایس کو بھارت کو آزادی دلانے والا مانا جاتا ہے۔
سچ یہ ہے کہ آر ایس ایس انگریزوں کی بنائی گئی پارٹی ہے جس کا مقصد ہندو مسلمانوں میں نفرت پیدا کرکے گوروں کی حکومت کو مضبوط کرنا تھا۔ مسلمانوں سے بھارتی جنتا پارٹی کی نفرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے مگر اب اگر بھارتی نوجوانوں کی ہردلعزیز کاکروچ جنتا پارٹی آگے چل کر برسر اقتدار آتی ہے تو وہ اپنے منشور کے مطابق بھارتی مسلمانوں کے ساتھ موجودہ نفرت اور تعصب کا قلع قمع کرکے بھارت کو ایک غیرجانبدار اور بے خوف ملک بنا سکتی ہے مگر اس سلسلے میں انھیں ہندو انتہاپسندوں سے کھل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل