Loading
ہم نے درپیش چیلنجز کا صحیح طور ادراک نہیں کیا۔ ہمیں انتہائی سنجیدگی سے ان حقیقی مشکلات کا حل نکالنا ہوگا۔ ہم نے اپنی تاریخ کی جس طرح سے تشریح کی یا پھر اس کو سمجھا وہ اصل حقائق سے بہت دور ہے۔ آج پوری دنیا تبدیلی کی اس دہلیز پر کھڑی ہے جس کی مثال ماضی میں کہیں موجود نہیں۔
اس دنیا میں انسان کی ہزارہا سالہ اجارہ داری پر آج ایک سوالیہ نشان ہے کہ ایک ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت نے اس دنیا کی کایا پلٹ دی ہے اور آج آپ اس کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اب جنگیں کس طرح سے ہوں گی، اس کا تعین مصنوعی ذہانت کرے گی۔
فوری طور پر آپ کو اب کسی ڈاکٹر، وکیل یا پھر کسی ماہر کی ضرورت نہیں، اب یہ تمام کام مصنوعی ذہانت کرے گی۔ ٹیکنالوجی میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، اس قدر تیزی سے کہ خود کئی ایپس بھی اس رفتار سے پیچھے رہ گئی ہیں۔
اس منظرنامے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ سرحدوں پر پہرے لگائے جائیں، ان پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ریاستوں کے نظریات ہیں مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ لوگ ان کو مانیں۔ دنیا کا پرنٹ میڈیا اس حوالے بھرا پڑا ہے کہ کس طرح سے مصنوعی ذہانت نے ہنرمند لوگوں کو فارغ کردیا ہے۔
امریکا کے اسٹاک ایکسچینج میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں سرمایہ کاری اور حصص کے حوالے سے دوسری کمپنیوں سے بہت آگے نکل چکی ہیں اور اپنے جوہر میں وہ دنیا کے ہر شعبے کو ترتیب دے رہی ہیں۔ اس وقت ایک اور صورتحال دکھائی دے رہی ہے، لیبر مارکیٹ میں انقلابی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ہنر مند لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں اور یہ پھر کیسے ممکن ہے کہ اس کے اثرات پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں نہ ہوں۔
ہمیں ماضی میں زیادہ جھانکتے رہنے کی ضرورت نہیں۔ آج سے دو ہزار سال قبل وادی سندھ کی تاریخ کو سکندراعظم یا پھر یونانیوں نے رقم کیا۔ ہندوستان کی تاریخ کا اصل وارث بھی بھارت نہیں بلکہ پاکستان ہے بلکہ انڈس سولائزیشن ہے۔
رگ وید آج سے تین ہزار سال قبل لکھی گئی، یہ کتاب ہندوستان کی تاریخ و تشریح کا مرکزی باب ہے۔ یہ کتاب مشرقی دریاؤں پر لکھی گئی تھی یعنی وادی سندھ پر لکھی گئی۔ بات یہ ہے کہ ہم اپنے جغرافیائی خطے کا نام تبدیل کرنے سے اپنی تاریخ سے جدا نہیں ہوسکتے۔
ماضی میں دو جرمنی تھے، آج دو کوریا ہیں۔ دو سوڈان ہیں،کل تک مغربی اور مشرقی پاکستان کا وجود بھی تھا۔ برصغیر وپاک وہند کی قدیم و جدید تاریخ و تمدن کے وارث ہم بھی اتنے ہی ہیں جتنے وہ خود ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے بڑے حصے پر لگ بھگ آٹھ سو سال تک مسلمان حکمرانوں اور ان کی تیار کردہ درباریوں پر مشتمل اشرافیہ نے حکومت کی۔ فن موسیقی کی ایجاد اور فروغ، ستار، شہنائی، طبلہ کے بجانے والے، پانچ ہزار سالوں کی تاریخ سے ہم کیسے دستبردار ہو سکتے ہیں اور کیا ہمیں ہونا چاہیے؟
ہمیں تاریخ کی غلط تشریح کے باعث بہت سے نقصانات ہوئے۔ ہم نے اپنی تاریخ کے نقوش مٹائے اور سلطنت فارس بکھری تو اس کی کوکھ سے غزنی و غور اور ہرات و خراسان میں جو رجواڑے خود مختار بن کر حاکم بنے، وہ انڈس ویلی اور کوہ ہندو کش میں قائم رجواڑوں سے لڑے اور انھیں ہرانے میں کامیاب رہے لیکن پاکستان میں انھیں ہیرو بنایا گیا حالانکہ وہ تاریخ فارس و سط ایشا اور تاریخ ہند کے معمولی رجواڑے تھے نہ کہ عظیم سلطنتوں و تہذیبوں کے بادشاہ ۔
بہرحال آج پاکستان کا جو نظام ہے، یہ وہ ہے جس نے غلام محمد کو گورنر جنرل تسلیم کرلیا حالانکہ جناح نے پاکستان کے بارے میں کچھ اور فرمایا تھا جس کا ذکر انھوں نے اپنی گیارہ اگست کی تقریر میں کیا تھا۔ پاکستان آزادی کے بعد جن لوگوں کی گرفت میں آیا، وہ اس ملک کو عوام کے سپردکرنے کے حق میں نہ تھے۔ انتہائی ادب کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ لیاقت علی خان وہ پہلے وزیر اعظم تھے جہاں سے پاکستان کے اس عہدے کی رسوائی کا آغاز ہوا، وہ خود آئین سے دستبردار ہو گئے۔
جناح کی گیارہ اگست کی تقریر جو ایک آئین ساز اسمبلی میں ہوئی کیا عمل ہوا؟ نہ ملا آئین اور نہ ہی جمہوریت۔اس ملک میں جو بھی محب وطن بنا ،وہ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح تختہ دار پر لٹکایا گیا۔جنھوں نے پاکستان بنایا وہ جی ایم سید کی طرح مایوس ہوئے۔
بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو تک جو بھی عوامی لیڈر تھے وہ ’’تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘یہاں غیر ملکی سفارش پر وزرائے اعظم کا انتخاب کیا گیا، شوکت عزیز سے لے کر معین قریشی تک۔ ایٹم بم تو ہمارے پاس تھا لیکن شرفاء تو انگریزوں کی سوغات تھی۔ ہمارے پاس مضبوط جمہوری نظام نہیں۔بے نظیر، ایک دن میں بے نظیر نہیں بنی تھیں۔
انھوں نے جنم لیا تھا تحریکوں سے،جیل کی مشقت سے، جلاوطنی کی سزائیں کاٹ کر وہ بے نظیر بنیں اور جنرل مشرف کے دور میں ماری گئیں۔سوچیں ،اگر آج وہ زندہ ہوتیں تو ان بحرانوں کے دور میں وہ کتنا بڑا اثاثہ ہوتیں، اس ملک کے لیے۔ تیسری دنیا کے ممالک کو بڑے جمہوری لیڈران کی ضرورت ہوتی ہے،ورنہ بڑی طاقتیں ہم جیسی چھوٹی ریاستوں کو نگل لیتی ہیں۔
آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد،اس بدلتی دنیا اور اس خطے میں اور خصوصاً امریکی صدر جس نے اپنے اتحادی عمان کو ہی دھمکی دے دی۔کیا پتا کل وہ کیا کہہ دے۔مئی سن دوہزار پچیس سے اب تک پاکستان نے جو معرکے فتح کیے ہیں وہ قابل تعریف ہیں؟دفاعی اعتبار سے سے ہم مضبوط ہوئے ہیں، قطر اور سعودی عرب ہم پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن کیا ایران سے ہماری تجارت ہو سکے گی۔آبنائے ہرمز اگر کھل بھی جاتی ہے لیکن وہاں کی صورتحال پہلے جیسی نہیں ہوگی۔
ایران کے ساتھ جنگ ، دراصل ایک حربہ تھا چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کا،لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اقوامِ متحدہ کی ساخت کو امریکا نے کمزور بنایا ،اسی طرح امریکا تمام عرب ممالک کو بھی کمزور بنا دیتا ،اگر پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت نہ ہوتی۔آج اگر چین دنیا کی طاقت نہ ہوتا، تو آج اس دنیا کا نظام کچھ اور ہوتا۔ہندوستان کی ایک ہی خواہش ہے کہ وہ کسی طرح پاکستان کے وجود کو مٹادے اور اس مقصد کے لیے اس نے اپنے اتحادی ڈھونڈ لیے ہیں۔
ہماری حفاظت افراد سے نہیں بلکہ اداروں سے ہے۔آزاد پارلیمان، آزاد عدلیہ، شفاف انتخابات، مضبوط فیڈریشن مختصر یہ کہ ہمیں آئین کے تحت چلنا پڑے گا۔اس وقت ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی معیشت کو اس جگہ لانا پڑے گا جہاں قرضوں کا بوجھ کم ہو جائے۔لوگوں میں انویسٹمنٹ ہو اور شرح نمو سات فیصد تک بحال ہو۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل