Monday, June 01, 2026
 

’’فارم 45 کا بندوبست آپ کریں، فارم 47 کا میں کرلوں گا‘‘بلاول کا شگر میں عوامی خطاب

 



بلاول بھٹو زرداری نے شگر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فارم 45 کا بندوبست آپ کرلیں، فارم 47 کا میں کرلوں گا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شگر کے عوام کے پاس واپس آئے ہیں ، کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتے آئے ہیں۔ یہاں کے لوگوں نے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دیا اور قائد عوام نے یہاں کے غریب، کمزور اور پسماندہ طبقے کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو گلگت بلتستان آئے تو انہوں نے یہاں غربت، پسماندگی اور مہنگائی کو دیکھا اور کہا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی قسمت میں ہمیشہ غریب رہنا نہیں لکھا۔ بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ صرف بلند نہیں کیا بلکہ اس پر عملدرآمد بھی کیا اور گلگت بلتستان کے لیے سبسڈی کا تحفہ دیا جو آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم اور پیٹرول پر سبسڈی بھی جئے بھٹو کے نعرے کا نتیجہ ہے اور آج بھی غریب عوام کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اگر پاکستان کے پاس جوہری قوت ہے تو وہ بھی جئے بھٹو کے نعرے کی وجہ سے ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کرنے والوں نے سمجھا تھا کہ غریبوں، مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور جمہوریت کی آواز کو خاموش کیا جا سکے گا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کا پرچم سنبھالا اور تین دہائیوں تک عوام، خواتین، نوجوانوں، مزدوروں اور کسانوں کی آواز بنی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی محبت اور حمایت کی وجہ سے بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں اور 2 مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ دنیا میں آج بھی پاکستان کی شناخت بے نظیر بھٹو کے ذریعے کی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے دورِ وزارت خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنما انہیں صرف کم عمر وزیر خارجہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے کے طور پر بھی عزت دیتے تھے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ ایک بار پھر عوام کے پاس حمایت حاصل کرنے آئے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے عوام نے کبھی پیپلز پارٹی کو مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں پارٹی سے نشستیں چھین لی گئی تھیں، اس بار عوام کو یقینی بنانا ہوگا کہ پیپلز پارٹی کا امیدوار اسمبلی میں پہنچے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اگر ان کا نمائندہ منتخب ہوگا تو وہ وسائل اور ترقیاتی امور کے لیے مؤثر رابطہ کر سکے گا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ فارم 45 کا بندوبست عوام نے کرنا ہے، فارم 47 کا بندوبست وہ خود کر لیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں یقین ہے کہ اس بار پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی نشست چرائی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ انتخابی دن گھروں سے نکلیں، ووٹ ڈالیں اور فارم 45 حاصل کرکے گھر جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان میں صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں ۔ عوام پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیں تاکہ وہ اسی طرح خدمت کر سکیں جس طرح ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے کی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا بنیادی فلسفہ روٹی، کپڑا اور مکان ہے اور پارٹی اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کو بھی اٹھارہویں آئینی ترمیم کی طرز پر اختیارات اور حقوق دلائے گی۔ اگر آئینی ترمیم کی جاتی ہے تو اس میں گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ کرائے جائیں تاکہ حق حاکمیت کی جدوجہد کو تقویت ملے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں ہر معاملہ اسلام آباد سے چلانا چاہتی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ گلگت بلتستان کے فیصلے یہاں کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو کرنے چاہییں۔ مقامی لوگوں کو وسائل اور اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ اپنی ترقی اور مستقبل کے فیصلے خود کر سکیں۔ بلاول بھٹو نے حق ملکیت کے حوالے سے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں مقامی وسائل کو اپنے وسائل سمجھتی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پہاڑ، زمین اور قدرتی وسائل مقامی عوام کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تھر کول منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی کو اختیار دینے سے ترقی اور معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی تھا کہ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ شگر، گلگت بلتستان اور پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب عوامی نمائندے منتخب ہوں گے اور مقامی لوگوں کو حق ملکیت حاصل ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل