Loading
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اس کا اطلاق لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہوتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ فوری توجہ کے لیے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی بلا شبہ تمام محاذوں پر جنگ بندی ہے جس میں لبنان بھی شامل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ایک محاذ پر خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہوں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا ہے۔
For immediate attention:
The ceasefire between Iran and the US is unequivocally a ceasefire on all fronts, including in Lebanon.
Its violation on one front is a violation of the ceasefire on all fronts.
The US and Israel are responsible for the consequences of any violation.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 1, 2026
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں جبکہ ایران اور لبنان اسرائیلی کارروائیوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دے رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں حزب اللہ کی حمایت سے گریز نہیں کرے گا اور لبنان میں جنگ بندی کسی بھی ممکنہ ایران۔امریکا معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
دوسری جانب بعض امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی جنگ بندی لازمی طور پر لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوتی جس کے باعث معاہدے کی تشریح پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل