Monday, June 01, 2026
 

امریکا ایران مذاکرات اور لبنان بحران کا امتحان

 



مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سفارت کاری اور تصادم، دونوں امکانات بیک وقت موجود ہیں۔ ایک جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں اور دونوں ممالک مجوزہ معاہدے کے مسودوں، ترامیم اور تجاویز کا تبادلہ کررہے ہیں، جب کہ دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور نئی پیش قدمی نے خطے کے سیاسی افق پر تشویش کی نئی لہریں پیدا کردی ہیں۔ بظاہر یہ دو الگ الگ معاملات دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں دونوں ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ خطے کی موجودہ جغرافیائی سیاست اس قدر باہم مربوط ہوچکی ہے کہ ایک محاذ پر پیدا ہونے والی کشیدگی دوسرے محاذ پر جاری سفارتی عمل کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو صرف جوہری پروگرام یا پابندیوں کے تناظر میں نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دیکھا جارہا ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ زیر غور معاہدے کے ابتدائی مسودے میں متعدد ترامیم شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان ترامیم کا تعلق ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، ان کے مستقبل، ممکنہ منتقلی کے طریقہ کار اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق نکات سے ہے۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی شقوں کو اس انداز میں مرتب کیا جانا چاہیے کہ مستقبل میں کسی قسم کی قانونی یا سیاسی ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو اس پر عمل درآمد کی نگرانی مؤثر انداز میں ہوسکے اور بعد میں فریقین کے درمیان اختلاف تعبیر کی بنیاد پر نئے تنازعات جنم نہ لیں۔ یہ مؤقف اپنی جگہ وزن رکھتا ہے، کیونکہ بین الاقوامی معاہدوں کی کامیابی کا انحصار اکثر ان کی تفصیلات پر ہوتا ہے، تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حد سے زیادہ احتیاط اور مسلسل نئی شرائط کا اضافہ بعض اوقات مذاکراتی عمل کو سست اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سفارت کاری میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جب فریقین کو مکمل اطمینان کے انتظار کے بجائے قابلِ قبول اتفاقِ رائے پر توجہ مرکوز کرنا پڑتی ہے، اگر ہر نکتے پر سو فیصد ضمانت کی شرط عائد کردی جائے تو معاہدے تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب ایران کی قیادت بھی اپنے مؤقف میں کسی خاص نرمی کا اظہار نہیں کررہی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ صرف بیانات اور وعدوں کی بنیاد پر امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق ایران کو عملی اقدامات درکار ہیں، کیونکہ ماضی کے تجربات نے تہران کو محتاط بنا دیا ہے۔ ایرانی قیادت یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ گزشتہ برسوں میں کیے گئے متعدد وعدے عملی صورت اختیار نہ کرسکے، اس لیے اب کسی نئے معاہدے کے لیے ٹھوس اور قابلِ پیمائش اقدامات ناگزیر ہیں۔درحقیقت دونوں فریقوں کے تحفظات کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں۔ امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل عدم اعتماد کا شکار رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، علاقائی تنازعات، پراکسی جنگیں اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات نے اس خلیج کو مزید گہرا کیا ہے۔ اگرچہ مختلف ادوار میں مذاکرات اور مفاہمت کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، لیکن باہمی بداعتمادی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہر پیش رفت کے ساتھ شکوک و شبہات کے سائے موجود ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ سفارت کاری میں یہ بات معمولی نہیں ہوتی کہ دو مخالف فریق مسلسل رابطے میں رہیں، مسودوں کا تبادلہ کریں اور ایک دوسرے کی تجاویز پر غور کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں جانب مسئلے کے سیاسی حل کی خواہش موجود ہے، اگر کسی فریق کا مقصد صرف وقت حاصل کرنا یا مذاکرات کو ناکام بنانا ہوتا تو وہ اس حد تک عملی تبادلہ خیال میں شامل نہ ہوتا، یہی پہلو امید کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔  تاہم امید کے ساتھ ایک بڑا خطرہ بھی موجود ہے، اور وہ خطرہ وقت کا ضیاع ہے۔ تاریخ بارہا ثابت کرچکی ہے کہ طویل مذاکرات اکثر ان قوتوں کے لیے مواقع پیدا کرتے ہیں جو تصادم کو ترجیح دیتی ہیں۔ جب سفارتی عمل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوجاتا ہے تو شدت پسند، جنگ پسند اور مفاداتی حلقے زیادہ سرگرم ہوجاتے ہیں، وہ ایسے واقعات اور اقدامات کو ہوا دیتے ہیں جو فریقین کے درمیان اعتماد سازی کو نقصان پہنچائیں۔ اس لیے مذاکراتی عمل میں غیر ضروری تاخیر بذات خود ایک خطرہ بن جاتی ہے۔ اسی پس منظر میں لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو دیکھا جانا چاہیے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی بیوفورٹ قلعے اور اس کے اطراف کے علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ اسرائیلی حکام اس کارروائی کو اپنی شمالی سرحد کے دفاع اور حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کے شہریوں کے تحفظ اور سرحدی سلامتی کے لیے ناگزیر تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی خودمختار ملک کی سرزمین میں اس نوعیت کی پیش قدمی کو صرف دفاعی اقدام قرار دے کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہر ریاست کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام لازم ہے۔ لبنان پہلے ہی شدید اقتصادی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے حالات میں اس کی سرزمین پر فوجی دباؤ نہ صرف داخلی استحکام کو متاثر کرسکتا ہے بلکہ پورے خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔خطے کے حالات کا مطالعہ کرنے والے مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان میں کشیدگی بڑھنے کا براہِ راست اثر ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر پڑ سکتا ہے۔ حزب اللہ کو ایران کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے، جب کہ اسرائیل طویل عرصے سے اس تنظیم کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا آرہا ہے۔ چنانچہ لبنان میں کسی بھی فوجی تصادم کا اثر خود بخود تہران، واشنگٹن اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں تک پہنچتا ہے۔یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ بعض حلقے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہوں۔ تاریخ میں ایسے متعدد مواقع موجود ہیں جب مذاکرات کسی مثبت مرحلے میں داخل ہوئے اور عین اسی وقت خطے میں ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کئی طاقتیں اپنے اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم رہتی ہیں اور بعض اوقات ان کے مفادات امن عمل سے متصادم بھی ہوسکتے ہیں۔ اس تناظر میں امریکا پر ایک بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے، اگر واشنگٹن واقعی ایران کے ساتھ کسی قابل عمل معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے صرف معاہدے کے متن پر توجہ دینے کے بجائے پورے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ سفارت کاری صرف مذاکراتی میز تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے سازگار ماحول بھی درکار ہوتا ہے، اگر میدانِ جنگ گرم رہے اور سفارتی میز پر امن کی بات کی جائے تو کامیابی کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔ ایران کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرے، اگرچہ اس کے تحفظات جائز ہوسکتے ہیں، لیکن سفارت کاری مکمل اعتماد کی نہیں بلکہ قابلِ قبول اعتماد کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا بین الاقوامی معاہدہ ہو جس میں تمام فریق مکمل طور پر مطمئن ہوں۔ کامیاب معاہدے وہی ہوتے ہیں جن میں فریقین اپنے زیادہ سے زیادہ مفادات کے حصول کے ساتھ ساتھ کچھ سمجھوتے بھی قبول کرتے ہیں۔  اقوام متحدہ کی ذمے داری بھی غیر معمولی ہے۔ لبنان کی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے عالمی ادارے کو زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ محض تشویش کے اظہار یا رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر ایسے سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے جو فریقین کو تحمل اور مکالمے کی طرف راغب کریں۔ بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ تمام ریاستیں دوسروں کی علاقائی سالمیت کا احترام کریں اور تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں فریق ابتدائی متفقہ مسودہ سامنے لائیں، اختلافی نکات کے حل کے لیے واضح ٹائم فریم طے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہوں۔ ساتھ ہی عالمی برادری کو لبنان میں اسرائیلی پیش قدمی اور خودمختاری سے متعلق خدشات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جاسکے۔ امن کا راستہ اگرچہ مشکل ضرور ہے، لیکن یہی واحد راستہ ہے جو خطے کو استحکام، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کی طرف لے جاسکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل