Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے تو ایران کے مذاکرات معطل کرنے کے عندیہ پر ایسا ظاہر کیا تھا کہ انھیں اس کی پروا نہیں ہے تاہم اب وہ اپنے سابقہ بیان سے یوٹرن لینے پرمجبور ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کی تازہ سوشل میڈیا پوسٹ نے گھمسان جنگ کے بیچ جنگ بندی کی نوید بن کر سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مختصر بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیز رفتاری سے جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس مختصر لیکن نہایت بروقت بیان نے دنیا کو ایک نئے ہیجان اور اضطراب سے بچالیا ہے جو کہ خود امریکی صدر نے کچھ دیر قبل پیدا کیا تھا۔
جب امریکی صدر نے ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے پر کہا تھا کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ویسے بھی اب مذاکراتی عمل بہت بورنگ ہوگیا ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116676087445077253
تاہم اس سخت بیان کے بعد ہی صدر ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر بتایا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کرکے انھیں حزب اللہ پر حملے کرنے سے روک دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ حزب اللہ سے بات اعلیٰ سطح کے ذرائع سے بات ہوئی اور انھوں نے بھی اسرائیل پر حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم اور حزب اللہ سے رابطوں کی پوسٹ کے بعد انھوں نے یہ پوسٹ بھی کی جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے تیزی سے جاری رہنے کا اعلان کیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی دھمکی پر صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کرکے حزب اللہ پر حملے رکوائے جس پر ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہوگئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل