Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں سے روک دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور حزب اللہ کے نمائندوں سے رابطوں کے بعد لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت حاصل کرلی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نیتن یاہو کے ساتھ بہت نتیجہ خیز گفتگو ہوئی جس کے بعد یہ طے پایا کہ اسرائیلی فوج بیروت میں داخل نہیں ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے بیروت جانے والے اپنے تمام فوجیوں کو واپس آنے کا حکم دیدیا ہے اور مزید کوئی فوجی وہاں نہیں جائے گا۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بات چیت کی جس میں حزب اللہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ بھی حملے روک دیں گے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116676034049614301
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود اسرائیلی حکومت یا حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ چند گھنٹے قبل نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو بیروت کے جنوبی علاقے داحیہ میں حملوں کا حکم دیا تھا جو حزب اللہ کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور شمالی اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جس کے جواب میں ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی مذاکرات معطل کرنے کا اشارہ دیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل