Loading
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خلیجی پانیوں میں ایک کارگو جہاز نامعلوم پروجیکٹائل کے حملے کا نشانہ بن گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں شدید دھماکا ہوا۔
بحری امور پر نظر رکھنے والے برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشن نے تصدیق کی ہے کہ جہاز پر حملہ عراق کی بندرگاہ اُم قصر سے تقریباً 40 ناٹیکل میل (65 کلومیٹر) جنوب مشرق میں ہوا۔
برطانوی ادارے (UKMTO) کے مطابق نامعلوم شے جہاز کے دائیں حصے (اسٹار بورڈ سائیڈ) سے ٹکرائی جس کے بعد بڑا دھماکا ہوا۔ فوری طور پر کسی ماحولیاتی آلودگی یا تیل کے اخراج کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اس حملے میں جہاز کے عملے سے متعلق اور نقصان کی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں۔ تاحال کسی گروہ یا ملک نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی یہ پتا لگایا جا سکا ہے کہ پروجیکٹائل کس نوعیت کا تھا۔
برطانوی ادارے یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو احتیاط برتنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
UKMTO WARNING 063-26
Click here to view the full warning⤵️https://t.co/RyUM9BRf69#MaritimeSecurity #MarSec pic.twitter.com/tZtykTLbyN
— UKMTO Operations Centre (@UK_MTO) June 1, 2026
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاجاً امریکا کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ رواں برس خلیج، آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں تجارتی جہازوں کو متعدد بار نامعلوم پروجیکٹائلز، دھماکوں اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مئی میں قطر کے قریب ایک بلک کیریئر کو نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا تھا جبکہ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں کئی کارگو اور آئل ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
بعض واقعات میں آگ لگنے، جہازوں کو نقصان پہنچنے اور عملے کے انخلا تک کی نوبت آئی تھی۔ خلیج میں جہاز رانی کے خلاف ایسے واقعات عالمی توانائی منڈیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں کیونکہ دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار انہی بحری راستوں سے گزرتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل