Monday, June 01, 2026
 

گندم پیداوار کا گورکھ دھندہ اور وفاق کی پریشانی

 



اسکول کالج کے ایام میں ایک کہانی پڑھی تھی جو سڑک پر پڑے ایک خالی بیرل کو ہٹانے کے لیے سرکاری محکموں کی سست روی اور ایک عام آدمی کی دلچسپ جدوجہد پر مبنی تھی جوآج تقریبا35/36 برس گذر جانے کے بعد بھی سرکاری محکموں اور افسروں کے طریقہ کار کی مکمل عکاسی کرتی ہے ۔ کہانی میں بتایا گیا تھا کہ بیرل کے سڑک پر گرنے کی اطلاع ملتے ہی سرکاری مشینری حرکت میں آئی لیکن ٹریفک پولیس، میونسپل کارپوریشن، محکمہ ماحولیات سمیت کئی محکموں نے اس معمولی بیرل کو ہٹانے کی بجائے کئی ہفتوں تک ایک دوسرے کو خط لکھ کر فائلوں کا پیٹ بھرا،اس دوران بیرل سے ٹکرا کر کئی گاڑیوں کا نقصان ہوا ،کئی لوگ زخمی ہوئے اور پھر جب ایک عام آدمی نے لوگوں کی بھلائی کے لیے اس بیرل کو خود ہٹا دیا تو افسروں نے اس کیخلاف ’’کار سرکار‘‘ میں مداخلت کا مقدمہ درج کروا دیا اور پولیس نے ’’ملزم‘‘ سے مال مقدمہ(بیرل)برآمد کر کے واپس سڑک پر رکھ دیا۔گندم کی ملکی اور صوبائی پیداوار کے اعدادوشمار کا معاملہ بھی ’’بیرل‘‘ کی مانند ہی ہے جہاں ہر محکمہ اور ہر حکومت مراسلہ بازی کر رہی ہے، خود کو درست اور دوسرے کو غلط قرار دیا جارہا ہے اور اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے کہ انا اورہٹ دھرمی کی اس جنگ میں نقصان صرف اور صرف پاکستان اور عوام کا ہو سکتا ہے۔ وفاقی حکومت بھی سر پکڑے بیٹھی ہے کہ گندم پیداوار کے معاملے پر کس کی مانیں اور کس کی نہ مانیں ۔پاکستان کی فوڈ باسکٹ مانے جانے والے صوبہ پنجاب میں محکمہ زراعت نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا ہے کہ پنجاب میں رواں برس2 کروڑ19 لاکھ40 ہزار ٹن گندم پیدا ہوئی ہے ، دوسری جانب وفاقی ادارہ اسپارکو کہتا ہے کہ20 ملین ٹن سے زیادہ پیداوار ہوئی مگر اسپارکو پنجاب کے محکمہ زراعت کے اعدادوشمار سے 10 لاکھ ٹن کم پیداوار قرار دے رہا ہے ، وفاقی ادارہ لمز محکمہ زراعت پنجاب کے اعدادوشمار سے 15 لاکھ ٹن زیادہ پیداوارکا دعوی کر رہا ہے دوسری جانب پنجاب کے کسانوں کی اکثریت کہہ رہی ہے کہ موسمی تبدیلیوں اور متوازن کھاد کے کم استعمال کی وجہ سے اس برس فی ایکڑ3 تا5 من کم پیداوار ہوئی ہے ،سیڈ کمپنیاں، فلورملز مالکان،پیسٹی سائیڈ کمپنیاں بھی کم پیداوار کی بات کر رہی ہیں۔پنجاب کے سیکریٹری زراعت افتخار سہو بہت منجھے ہوئے محنتی بیوروکریٹ ہیں ان کا سروس کیریئر بہت شاندار ہے وہ اس دعوے پر قائم ہیں کہ پنجاب میں گندم کی پیداوار کا ہدف مکمل حاصل ہو چکا ہے۔گندم کاشت اور پیداوار کے اعدادوشمار کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی ہر محکمہ خود کو ’’جدید ترین‘‘ قرار دیتا ہے۔ وفاقی حکومت کی ایک اہم ترین شخصیت نے اس بات کی ’’آف دی رکارڈ‘‘ تصدیق کی ہے کہ وفاقی ادارہ لمز یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ زرعی جانچ کے لیے امریکی اسٹیلائٹ سسٹم استعمال کرتا ہے جب کہ انھوں نے آسٹریلیا سے منسلک ایک کنسلٹنٹ بھی رکھا ہوا ہے جو اسٹیلائٹ ڈیٹا اور صوبائی کراپ رپورٹنگ سروسز کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے اپنا ڈیٹا تیار کرتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’اسپارکو‘‘ کے سیٹلائٹ سسٹم پر یہ کہہ کر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ چین کا پرانا نظام ہے ۔یہ تنقید کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اسی چینی اسٹیلائٹ نظام کے ’’کرشمے‘‘ پاک بھارت جنگ اور ایران امریکا اسرائیل جنگ میں سب نے دیکھے ہیں،ایک امر بہت حیرت انگیز ہے کہ بہت سے وفاقی ادارے سیٹلائٹ زرعی ڈیٹا کے نیچے ’’DISCLAIMER ‘‘لکھ دیتے ہیں کہ پہاڑی علاقہ جات کی وجہ سے ڈیٹا میں فرق آ سکتا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے مگر پنجاب میں تو85 فیصد زرعی رقبہ ہموار ہے وہاں تو پہاڑ موجود نہیں ہیں اور وفاقی وصوبائی ادارے سب سے زیادہ پیداواری اور کاشت کا فرق ہی پنجاب بارے بتاتے ہیں، چلو ایک دو لاکھ کا فرق تو سمجھ میں آتا ہے مگر 10 سے20 لاکھ ٹن پیداوار کا فرق وفاقی حکومت کو چکرا دیتا ہے کہ وہ کیا کرے کیونکہ وفاقی حکومت نے فیصلہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پر کرنا ہوتا ہے۔یہ صورتحال اب بہت پیچیدہ اور کشیدہ ہوتی جا رہی ہے اور اس کی ’’تپش‘‘ سول اور عسکری قیادت کو بھی محسوس ہونے لگی ہے کیونکہ ملکی قیادت کے لیے فوڈ سیکیورٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ محکموں کی باہمی کشیدگی کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعلیٰـ مریم نواز کی زیر صدارت گندم آٹا بارے ایک اجلاس میں دو محکموں کے وزراء اور افسروں کے مابین تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا جس دوران وزیر اعلیٰ نے بہت مضبوط اور پر اعتماد لہجے میں یہ کہہ کر شرکاء کو خاموش کروا دیا کہ انھیں اپنے منتخب کردہ سینئر فوڈ افسر پر مکمل اعتماد ہے اور وہ کہیں نہیں جا رہا یعنی اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ سال بھی جب گندم آٹا چیلنج تھا تو اسی فوڈ افسر نے اسے کامیابی سے حل کیا تھا، اسی اجلاس میں جب وزیر اعلیٰ نے سوال کیا کہ گندم معاملات میں جو رکاوٹ یا مسائل آرہے ہیں آپ میں سے کون اس کی ذمے داری لیتا ہے تو سب خاموش رہے اور آخر کار سینئر فوڈ افسر نے کہا کہ وہ اس کی مکمل ذمے داری لیتے ہیں۔ آئی ایم ایف پابندیوں کے سبب وفاقی محکمہ پاسکو اور صوبائی محکمہ خوراک پنجاب براہ راست گندم خریداری نہیں کر رہے مگر ایگریگیٹرز کے ذریعے 15 لاکھ ٹن گندم خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یہ طے ہے کہ تمام تر پکڑ دھکڑ اور ممکنہ طور پر فلورملز سے چند لاکھ ٹن گندم لینے کے باوجود خریداری ہدف سو فیصد حاصل نہیں ہو پائے گا۔25 سے30 لاکھ ٹن ذخیرہ شدہ گندم کو مارکیٹ میں لانے اور کسی بھی ممکنہ بحران سے بچنے کا فوری حل یہی ہے کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کی مشاورت سے محدود مقدار میں گندم امپورٹ کا فیصلہ کرے۔ وزیر اعظم کے زرعی کو آرڈینیٹر احمد عمیر بھی گندم، کھاد، بیج معاملات پر صوبوں کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں لیکن وفاقی حکومت کو اس وقت موجود الجھاؤ کو فوری ختم کرنا ہوگا کیونکہ اوپن مارکیٹ میں قیمت4 ہزار روپے فی من ہو چکی اور اگر یہ مزید چند سو روپے بڑھ گئی تو ’’طبل جنگ‘‘ بج جائے گا ۔حکومت اگر یہ کریڈٹ لے رہی ہے کہ کسانوں کو اس بار 3200/3300روپے اوسط قیمت ملی ہے تو یہ بات درست ہے بے شک وجہ کوئی بھی ہولیکن اب حکومت کو شہری صارفین کو آٹا قلت اور مہنگائی سے بچانے کے لیے فیصلے کرنا ہیں اس وقت پورے لاہور میں سادہ روٹی20 روپے میں فروخت ہو رہی ہے اس لیے مناسب ہوگا کہ حکومت آٹا روٹی کی قیمتوں کا جب بھی نوٹیفیکیشن کرے تو زمینی حقائق کو مد نظر رکھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل